پہلگام //جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد پر امن او رشانتی قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر پاکستان کی جانب سے لگاتار بلااشتعال فائرنگ جاری ہے جس سے سرحدوں پر رہ رہے عام لوگوںکو جانی و مالی نقصان ہورہا ہے۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ اگر پاکستان امن کا خواہش مند ہے تو اسے سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سب سے پہلے اپنی سرزمین پر جنگجوئوں کے ٹریننگ کیمپوں کو بند کرنا ہوگا جس سے یہ پیغام عام ہوگا کہ پاکستان بھی امن کا متمنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ یہاں دراندازوں کو بھیجنا بند کردے تاکہ سرحدوں اور وادی میں امن و شانتی کا ماحول قائم ہوجائے۔ فوجی سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر اس وقت جنگجوئوں کے بیشتر ٹریننگ کیمپ موجود ہیں جہاں جنگجوئوں کو تربیت دے کر اس پار دھکیلا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ وادی کی نوجوان نسل اعلیٰ تعلیم حاصل کریں تاکہ وہ بھی ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ جنرل بپن راوت نے بتایا کہ ماہ صیام کے پیش نظر یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان عوامی سہولیات کے پیش نظر کیا گیا ہے تاکہ ہمارے مسلمان بھائی بہن بھی اس مقدس ماہ کے دوران ایک خوشگوار ماحول میں عبادت کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر امن و آشتی کا ماحول قائم رہا تو جنگ بندی معاہدے کو ماہ صیام کے بعد بھی وسعت دی جائے گی۔ فوجی سربراہ نے مزید کہا کہ اس دوران اگر جنگجوئوں کی طرف سے فوج اور عام شہریوں کو بلاجواز اور بلااشتعال طریقے پر نشانہ بنایا گیا تو ہم جنگ بندی معاملے پر از سرنوغور کریں گے۔بپن راوت نے پہلگام میں آرمی گڈول اسکول کے دورے پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا ’’ اگر میجر گگوئی حال ہی میں منظر عام آنے والے معاملے میں ملوث پائے گئے تو اُنہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی‘‘۔اُنہوں نے کہا کہ غلطی کسی سے بھی سرزد ہو وہ قابل معافی نہیں ہے ۔انکا کہنا تھا کہ اگر میجر نے کوئی جرم کیا ہوگا تو آپ یقین رکھیں ایسی سزا دی جائیگی جو دیگر لوگوں کیلئے عبرت بنے۔فوجی سربراہ کا کہنا تھاکہ وادی میں قیام امن کی شرط پر سیز فائر میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے ۔