میاں بشیر احمد صاحب لاروی ؒ

کرونا وایرس کی وجہ سے گزشتہ ڈیڑھ سال سے سوشل میڈیا پر مسلسل کسی نہ کسی نیک شخصیت کی موت کی اطلاع طبیعت مضمحل کر جاتی ہے مگر سنیچر کا روز ہم سب پر پہاڑ بن کر گرا۔ یومیہ سیر پر روانگی کے دوران نماز عشاء ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد معمول کے مطابق جب موبائل ڈاٹا آن کیا تو ایک عظیم الشان شخصیت کے انتقال پر ملال کی خبر پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو گئے اور پسینے میں شرابور ہونے کے باوجود دسمبر کی سردی کی طرح جسم پر کپکپی طاری ہو گئی، کیوں کہ ریاست کی عظیم  روحانی شخصیت حضرت میاں بشیر احمد صاحب لاروی رحمۃ اللہ علیہ چھیانوے برس کی عمر میں ہم سب کو یتیم بچوں کی طرح بکتا چھوڑ کر چلے گئے ۔
یہ جانکاہ خبر چند منٹوں میں ریاست جموں وکشمیر ولداخ کے طول وعرض میں پھیل گئی اور تمام دینی طبقوں کو سوگوار کرگئی۔ سب لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کرنے لگے، اُن کے حلقۂ ارادت کے ساتھ ساتھ منسلک لوگوں کو یتیمی کااحساس ستانے لگا، بڑے بڑے حضرات خراج عقیدت پیش کرنے لگے، سوشل میڈیا پر تعزیتی سلسلہ آپ کی مقبولیت کا خوب پتہ دے رہا تھا، تمام اہلِ نظر ایک عجیب خلا محسوس کرکے فکرمند نظر آنے لگے اور سبھی کی زبان یوں گویا تھی۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تری جدائی پہ مرنے والے! وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے؟
حضرت میاں بشیر احمد صاحب لاروی رحمۃ اللہ علیہ ریاست جموں وکشمیر زیر انتظام ہندوستان وجموں وکشمیر زیر انتظام پاکستان ہر دو جانب معروف ومقبول شخصیت کے مالک تھے ۔روحانی اعتبار سے آپ سلسلۂ نقشبندیہ  سے منسلک تھے، یہ عاجز جب بھی مجلس میں اپنے شیخ حضرت پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی دامت برکاتہم کا ذکر خیر کرتا تو قریب بلا کر حضرت دامت برکاتہم کی کتابوں کا ذکر فرماتے اور بھری مجلس میں حضرت کی کتابوں سے حاصل کردہ تاثیر، چاشنی اور روحانی اوصاف کا ذکر فرما کر آپ کی کتابوں کے مطالعے کی ترغیب دلاتے ۔
آپ ریاست کی نامور ، ممتاز اور باوزن روحانی شخصیات میں شمار کیے جاتے تھے جنہوں نے اسلاف کی یادوں اور روایات کو زندہ و تابندہ رکھا۔ اپنی متانت ، سنجیدگی ، اعتدال ، میانہ روی اور حسن انتظام سے ریاست کے ہر طبقے کو متاثر کیا۔روحانی شان و وقار ، تواضع اور کسر نفسی ، ضیافت و مہمان نوازی ، حسن اخلاق اور زبان وبیان کی شگفتگی اور شیرینی حضرت لاروی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کا نمایاں پہلو تھا ، آپ سے ملاقات کا شرف حاصل کرنے والاہر شخص آپ کی ان خصوصیات کا معترف ہوتا تھا۔
 حضرت لاروی رحمۃ اللہ علیہ جدید ترین دنیا میں رہنے کے باوجود موٴمنانہ اور صابرانہ زندگی گذاری، مادیت کی موجوں سے اپنے دامن کو بچایا، حرص وہویٰ کے صحرا میں قناعت و دیانت پر استقامت رکھی اور نئی تہذیب کے بیابان میں پرانے چراغ جلائے اور پھر اس چراغ سے کتنے چراغ روشن ہوئے، دلوں اور دماغوں کی بھٹیاں گرم ہوئیں، کتنوں کو علم وہنر کی گہرائی ملی، روحانی راہیں ملیں، ایک سچے موٴمن کو اس سے بڑھ کر اور کس چیز کی ضرورت ہے؟ اوراس سے مشکل تقویٰ اور کیا ہوسکتا ہے؟
یہ حقیقت ہے کہ صحبت صالح ترا صالح کند کی عملی تفسیر میں اصلا آپ کا مزاج روحانی تھا-اپنے والد مرحوم اور محسنِ پیر پنچال حضرت میاں نظام الدین کیانوی علیہ الرحمہ کے فرزند ارجمند ہونے کی وجہ سے آپ علیہ الرحمہ جانشینی کی عملی تصویر تھے ۔من تواضع لله رفعه الله پر آپ کاربند تھے، آپ کی روحانیت سے بھرپور مجلس میں میں آپ کے مختصر جملے کانوں میں رس گھولتے، انداز تفہیم ، اور اسلوب بیان مقبولیت کی بلندیاں چھوتا اور سننے والے کو گرویدہ بنائے بغیر نہیں رہتا تھا۔وعظ و نصیحت اور اصلاحی مجالس و پروگراموں میں بھی آپ کی گفتگو بڑی جامع ، پر مغز اور متاثر کن ھوا کرتی تھی ، آواز میں رعب ، چہرہ پر وقار و نورانیت اور انداز ایسا صاف ستھرا اور شگفتہ کہ جو سنے سنتا ہی چلا جائے ، سرمائی راجدھانی جموں میں  عبقری شخصیت حضرت مفتی فیض الوحيد صاحب رحمہ اللہ کی تحریر کردہ قرآنی تفسیر کی رسم اجراء کے موقع پر منعقدہ جلسے میں آپ کی شرکت بلامبالغہ کامیابی کی ضمانت تھی اور جب بھی آپ گفتگو فرماتے تو قرب وجوار سے لوگ بڑی تعداد میں آپ کو سننے کے لئے آجایا کرتے تھے ۔
حضرت میاں بشیر احمد صاحب لاروی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک خاص وصف انابت الی اللہ ، خشیت خداوندی اور رقت قلب تھا ، چب بھی آپ اپنی مجلس میں مسلمانانِ ہند کے شاندار ماضی اور حیات وخدمات، مغلوں کے زوال کے واقعات، فکر ولی اللہی اور علماء دیوبند کی ڈیڑھ سو سالہ اسلامی خدمات کا ذکر فرماتے تو آپ پر رقت طاری ہوجاتی۔ عشق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عالم تھا کہ عوامی مقامات پر خطاب کرتےہوئے بھی سیرت نبوی ﷺ کے کسی خاص پہلو کا ذکر کرتے وقت آنکھیں نم ہوجاتیں ، گریہ طاری ہوجاتا اور سامعین کے دلوں کی کیفیت بھی تبدیل ہوجاتی ۔
اسی خوف خدا ، اور بزرگوں اور وقت کے بڑے بڑے روحانی مشائخ کی صحبت و تربیت میں رہنے کا نتیجہ تھا کہ آپ نے ایسی یکسوئی اور پاکیزگی کی زندگی گزاری کہ کسی کو آپ کی ذات سے کوئی گزند اور تکلیف نہ پہنچی ۔
 آپ علیہ الرحمہ کا گھرانہ شروع سے ہی اہل نظر کی صحبت کا عنوان تھا مگر سن انیس سو چھیانوے کے بعد آپ نے سیاست کو خیر آباد کہہ کرکے روحانی دنیا میں اپنے آپ کو مزید مربوط کر لیا ۔ مسالک و مکاتب فکر کے اختلافات سے بالاتر ہو کر آپ ہمیشہ وعظ ونصیحت فرماتے اور ہر ایک کی فکر اور خیال کا احترام فرماتے ۔ سخت سے سخت اختلافی مواقع پر بھی آپ نے اپنی زبان و قلم پر ایسا قابو رکھا کہ کسی کو انگلی اٹھانے اور شکایت کا موقعہ ہی نہیں ملا ۔سیاست جیسے نازک ترین پلیٹ فارم پر رہ کر بھی آپ نے طویل عرصے تک عوامی خدمات انجام دیں ۔اپنے اسٹیج سے کبھی مسلکی اختلافات پیدا کرنے والی گفتگو نہیں کی بلکہ اختلافات پیدا کرنے والوں پر سخت غصہ اور ناراضگی کا اظہار فرماتے ۔ یہ وہ قابل تقلید وصف ھے جسے ھم سب کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔
آپ اپنے والد مرحوم کے قابل فخر جانشین تھے جو سیاست کے ساتھ ساتھ خانقاہی مسند پر بھی متمکن رہے اور برابر گرمیوں میں وسطی کشمیر کے خوب صورت ضلع گاندربل کی تحصیل کنگن میں واقع بابانگری وانگت اور سردیوں میں جموں بٹھنڈی اپنی رہائش گاہ پر تشریف فرما ہوتے تھے اور مسترشدین و سالکین کو احسان وسلوک کے مراحل طے کرانے کے ساتھ ساتھ نصائح فرماتے جو موبائل کے ذریعہ عام ہوتیں اور ریاست وملک بھر حلقہ ارادت سے منسلکین کو استفادے کا موقعہ ملتا ، افسوس اب گرمی وسردی کا مکان تو موجود رہے گا مگر روحانی مکین ہمیشہ کے لیے داغِ مفارقت دے گیا۔
اس عاجز کو متعدد مرتبہ حضرت کی خدمت میں حاضر ہوکر علمی استفادے کا موقع میسر ہوا ، ریاست و بیرون ریاست آپ کی دلنشیں گفتگو اور نصائح سے مستفید ہونے کا موقعہ بھی ملا – آپ بلا شبہ اپنی ذات میں ایک تاریخ، انجمن، سنجیدگی ومتانت اور روحانی کا عنوان تھے -علمی و روحانی حلقوں سے لے کر سیاسی حلقوں تک آپ کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔
 دہلی چانکیہ پوری میں واقع کشمیر ہاؤس  اور وانگت بابا نگری میں آپ سے کی گئی درجنوں ملاقاتوں کی یاد ہمیشہ ستاتی رہے گی، آپ کی مجلس میں جب بھی بیٹھنے کی سعادت میسر ہوئی تو عجیب روحانی سکون محسوس ہوا۔ہمیشہ جچی نپی تلی اور چھوٹے چھوٹے جملوں میں مختصر گفتگو فرماتے تھے اور شفقتوں اور عنایتوں سے نوازتے۔
الجمعية الإسلامية الخيرية کے زیر انتظام جامعہ امام محمد انورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ ،جامعہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا للبنات اور حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اسلامک انٹرنیشنل اکیڈمی شہر پونچھ کے تمام اساتذہ کرام، طلبہ وطالبات وملازمین دکھ کی اس گھڑی میں میاں خاندان وفیملی کے ساتھ ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں اور مرحوم کے لیے دعا گو ہیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو قرب کے اعلیٰ ترین درجات عطاء فرمائے، روحانی حلقوں میں آپ کی یادیں بہت عرصہ تک باقی رہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ پاک پس ماندگان کو صبرجمیل عطاء فرمائے اورجنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ۔ 
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے 
سبزۂ نو رستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
(جامعہ امام محمدانورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ )