آصف حسین الکشمیری
جموں و کشمیر کی علمی روایت ان علمائے حق کے تذکروں سے مزین ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں علمِ دین کی اشاعت، تدریس و تربیت اور خدمتِ اسلام کے لیے وقف کر دیں۔ ان بزرگوں نے خاموشی کے ساتھ ایسے علمی نقوش چھوڑے جو وقت گزرنے کے باوجود اہلِ علم کے دلوں میں محفوظ ہیں۔ حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری بھی اُنہی باوقار شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اپنی صلاحیتوں، علمی بصیرت اور تدریسی خدمات کے ذریعے ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ آپ ایک جید عالمِ دین، کامیاب مدرس، صاحبِ قلم محقق اور مؤثر خطیب تھے۔ دارالعلوم وقف دیوبند میں آپ کی طویل تدریسی خدمات، تصنیفی کاوشیں اور ہزاروں طلبہ کی علمی تربیت آپ کے علمی مقام کی روشن دلیل ہیں۔ علم و تحقیق سے گہری وابستگی، اخلاص و للّٰہیت اور سادگی و انکساری آپ کی شخصیت کے ایسے اوصاف تھے۔مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری کی ولادت 1956ء میں ضلع پونچھ کے معروف گاؤں شاپور میں ہوئی۔ آپ کی زندگی کا آغاز ہی آزمائشوں اور صبر آزما حالات کے درمیان ہوا۔ ابھی بچپن کی بہاریں پوری طرح نمودار بھی نہ ہوئی تھیں کہ والدین کا سایۂ شفقت سر سے اُٹھ گیا اور آپ یتیمی کے کٹھن مرحلے سے دوچار ہو گئے۔لیکن آپ اُن سعادت مند نفوس میں شامل ہوئے، جنہوں نے نامساعد حالات کو اپنی راہ کی رکاوٹ نہیں بلکہ کامیابی کا زینہ بنایا۔ قدرت نے آپ کے دل میں علم کی ایسی شمع روشن کر دی تھی جو حالات کے تند و تیز جھونکوں کے باوجود بجھنے کے بجائے مزید فروزاں ہوتی چلی گئی۔
ابتدائی دور میں آپ نے مروجہ تعلیم حاصل کی،پھر میٹرک کی تکمیل کے بعد آپ کی توجہ علومِ دینیہ کی طرف مبذول ہوئی اور آپ نے ضلع پونچھ کے معروف دینی ادارے ضیاء العلوم میں داخلہ لیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں آپ کی علمی زندگی نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ ضیاء العلوم پونچھ میں آپ نے دو سال تک ابتدائی دینی تعلیم حاصل کی ۔اس دوران آپ نے صرف نصابی کتابوں کے مطالعے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ علمی ذوق، فکری پختگی، نظم و ضبط اور مطالعے کی عادت کو بھی پروان چڑھایا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب آپ کی شخصیت میں ایک سنجیدہ طالبِ علم، محنتی محقق اور مستقبل کے عالمِ دین کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے۔ اساتذۂ کرام آپ کی ذہانت، شائستگی اور حصولِ علم کے غیر معمولی شوق کو دیکھ کر روشن مستقبل کی امیدیں وابستہ کرتے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ ضیاء العلوم پونچھ کے یہی دو سال آپ کی آئندہ علمی زندگی کی مضبوط بنیاد ثابت ہوئے۔ آپ نے اعلیٰ تعلیم کے لیے عالمِ اسلام کے ممتاز علمی مرکز دارالعلوم دیوبند کا رُخ کیا، جہاں آپ کی زندگی کا ایک نیا، فیصلہ کن اور تاریخ ساز باب شروع ہوا۔ آپ نے پوری محنت، انہماک اور علمی یکسوئی کے ساتھ درسِ نظامی کی مختلف منازل طے کیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عربی ادب اور دیگر علومِ اسلامیہ میں مہارت حاصل کرنے کے لیے آپ نے شب و روز ایک کر دیے۔ اس دوران آپ کو اپنے عہد کے نامور اور جلیل القدر اساتذۂ کرام سے استفادہ کا شرف حاصل ہوا۔ دارالعلوم کا علمی ماحول، اساتذہ کی شفقت اور مسلسل مطالعہ و مذاکرہ آپ کی علمی شخصیت کو نکھارتا چلا گیا۔ 1983ء میں آپ نے دارالعلوم دیوبند سے کامیابی کے ساتھ فراغت حاصل کی،تو آپ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب میں ایم اے کیا اور نمایاں کامیابی حاصل کی۔ عربی زبان پر آپ کی گہری گرفت اور ادبی ذوق نے اس مرحلے میں مزید پختگی حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے آگرہ یونیورسٹی سے اردو زبان و ادب میں ایم اے کی ڈگری بھی اعلیٰ نمبروں کے ساتھ حاصل کی۔ اس طرح آپ نے دینی اور عصری علوم کے حسین امتزاج کی ایک قابلِ قدر مثال قائم کی۔
یہی وہ زمانہ تھا جب حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری کی علمی شخصیت پوری آب و تاب کے ساتھ ابھرنے لگی۔ وسیع مطالعہ، تحقیقی مزاج، عربی و اردو ادب پر گہری نظر اور علومِ اسلامیہ میں مہارت نے آپ کو اپنے ہم عصروں میں ایک ممتاز مقام عطا کیا۔ چنانچہ فراغت اور اعلیٰ تعلیم کے بعد آپ کی صلاحیتوں کو ایک ایسا میدان میسر آیا ،جہاں آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت اور نسلِ نو کی تربیت کے لیے وقف کر دی۔ 1985ء میں آپ کا تقرر دارالعلوم وقف دیوبند میں بحیثیت ِ مدرس عمل میں آیا۔ مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری نے اس عظیم ادارے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے تک تدریسی خدمات انجام دیں اور ہزاروں طلبہ کو علومِ دینیہ سے آراستہ کیا۔ آپ کا درس محض کتاب کے الفاظ کی تشریح تک محدود نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں تحقیق، استدلال، فکری رہنمائی اور علمی بصیرت کی ایسی جھلک ہوتی تھی جو طلبہ کے ذہنوں پر دیرپا اثرات چھوڑتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ طلبہ آپ کے درس میں خصوصی دلچسپی لیتے اور شوق و انہماک کے ساتھ استفادہ کرتے تھے۔
حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری علومِ دینیہ اور عصری علوم دونوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔ آپ ایک وسیع المطالعہ عالم، صاحبِ فکر محقق اور نہایت سنجیدہ علمی شخصیت کے مالک تھے۔ علمِ حدیث سے آپ کو خصوصی مناسبت تھی اور اس فن میں آپ کی مہارت کا اعتراف علماء و فضلاء کرتے تھے۔ اسی طرح فنِ اسماء الرجال اور سیرت و تاریخ کے موضوعات پر بھی آپ کی نظر گہری تھی۔ علمی مسائل میں تحقیق و تدقیق آپ کا خاص مزاج تھا، جس کی وجہ سے آپ کی گفتگو اور تحریر دونوں میں علمی وقار اور استدلال کی قوت نمایاں نظر آتی تھی۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے علمی حلقوں میں آپ کو ایک ایسے اُستاد کی حیثیت حاصل تھی جو علم کو محض محفوظ کرنے کے بجائے اس کی روح اور مقصد کو سمجھانے کا سلیقہ جانتا تھا۔
تدریس کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری ایک بلند پایہ خطیب بھی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فصاحت و بلاغت، شستہ زبان اور مؤثر اندازِ بیان سے نوازا تھا۔ راقم الحروف کو بھی دو مرتبہ آپ کے علمی خطابات سننے کا موقع ملا۔ آپ کی تقریر میں علمی گہرائی، فکری وسعت اور ادبی چاشنی اس قدر نمایاں ہوتی تھی کہ سامعین پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ سنتے تھے۔ بعض اوقات آپ کے خطابات سن کر مولانا ابوالکلام آزادؒ کی یاد تازہ ہو جاتی تھی۔ آپ کا اندازِ بیان نہ جذباتی نعروں پر مشتمل ہوتا تھا اور نہ غیر ضروری خطیبانہ تکلفات پر، بلکہ قرآن و حدیث، تاریخ اور علمی استدلال کی روشنی میں سامعین کے دل و دماغ کو مخاطب کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کے خطابات علمی حلقوں اور عوامی اجتماعات دونوں میں یکساں مقبول تھے۔
حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری کو قلم و قرطاس سے بھی غیر معمولی مناسبت حاصل تھی۔ آپ نے ماہنامہ ’’ندائے دارالعلوم وقف‘‘ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی علمی، تحقیقی اور ادبی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔ آپ کی تحریروں میں علم کی گہرائی، اسلوب کی شائستگی اور فکر کی پختگی نمایاں ہوتی تھی۔ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی آپ نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی معروف تصانیف میں بارہ مہینوں کی بارہ تقریریں، گفتارِ خطابت، عظیم عورتیں، التعلیقات علی تنظیم الاشتات، لبرل ازم اور اسلام، مجموعۂ مقالات، اسلام کا اخلاقی نظام، شرح تفسیر جلالین، فضائلِ علم اور دعوت و تبلیغ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔ خصوصاً التعلیقات علی تنظیم الاشتات کو علمی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا، جو بنگلہ دیش کے معروف عالم مولانا محمد ابو الحسن چاٹگامیؒ کی تصنیف پر ایک مفید اور تحقیقی شرح ہے۔ ان کے علاوہ بھی آپ نے متعدد علمی، اصلاحی اور دعوتی موضوعات پر قلم اٹھایا اور ایک قابلِ قدر علمی سرمایہ یادگار چھوڑا، جو آج بھی اہلِ علم کے لیے باعثِ استفادہ ہے۔آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی خدمت، تدریس و تربیت، تصنیف و تحقیق اور دعوت و اصلاح کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ عمر کے آخری ایام میں آپ ایک موذی اور جان لیوا مرض میں مبتلا ہو گئے۔ بیماری نے جسمانی طور پر آپ کو کمزور ضرور کر دیا تھا، لیکن علم و مطالعہ، ذکر و فکر اور امت کی خیر خواہی کا جذبہ آخری سانسوں تک برقرار رہا۔ اہلِ خانہ، شاگردوں، متعلقین اور محبین کے لیے یہ دور انتہائی آزمائش کا تھا، کیونکہ وہ اپنی آنکھوں کے سامنے ایک ایسے عالمِ ربانی کو بیماری کی تکالیف برداشت کرتے دیکھ رہے تھے جس نے اپنی پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں صرف کر دی تھی۔
بالآخر 7نومبر 2019ء کو علم و فضل، زہد و تقویٰ، تحقیق و تدریس اور اخلاص و للّٰہیت کا یہ روشن چراغ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ آپ کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے علمی و دینی حلقوں میں پھیل گئی اور ہر طرف رنج و الم کی کیفیت طاری ہو گئی۔ آپ کی وفات صرف ایک فرد کی وفات نہیں تھی بلکہ علم و تحقیق کے ایک ایسے باب کا اختتام تھی جس سے بے شمار افراد مستفید ہو رہے تھے۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے علمی حلقوں سے لے کر جموں و کشمیر کے دینی مراکز تک ہر جگہ آپ کی خدمات کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔ بعد ازاں آپ کو دیوبند کے تاریخی قبرستان مزارِ قاسمی میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں آج بھی آپ کی خاموش قبر اہلِ علم کو اخلاص، محنت اور خدمتِ دین کا درس دیتی ہے۔ بلاشبہ آپ کی رحلت سے ایک ایسا خلا پیدا ہوا جسے پُر کرنا آسان نہیں۔حضرت مولانا غلام نبی القاسمی کشمیری کی زندگی اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا علمی اور دینی کام کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ آپ نے تدریس کے ذریعے ہزاروں شاگرد تیار کیے، خطابت کے ذریعے دلوں کو متاثر کیا، قلم کے ذریعے علمی دنیا کو قیمتی سرمایہ عطا کیا اور اپنے کردار کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن مثال قائم کی۔ آج آپ بظاہر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن آپ کے شاگرد، آپ کی تصنیفات، آپ کے افکار اور آپ کی علمی خدمات آپ کی حیاتِ جاوداں کی گواہی دے رہے ہیں۔ یہی کسی عالمِ ربانی کی حقیقی کامیابی اور سب سے بڑا سرمایہ ہوتا ہے۔
علامہ اقبالؒ نے شاید ایسے ہی اہلِ علم کے بارے میں کہا تھا:
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزۂ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
رابطہ ۔9797888975
[email protected]