!موسم سرمااورپہاڑی آبادی…پیشگی اقدامات ناگزیر

موسم کی پہلی برفباری ہونے کے ساتھ ہی خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیاہے اور لوگوں کیلئے پانی ، بجلی ، راشن کی سپلائی ، سڑک روابط اور رسوئی گیس و تیل خاکی کی دستیابی کے حوالے سے بھی مشکلات پیدا ہونے لگی ہیں ۔ چونکہ خطہ پیر پنچال اور خطہ چناب کاجغرافیائی محل وقوع پہاڑی ہے اور ان دونوںخطوںمیںزیادہ تر لوگ دور دراز پہاڑوں پر آباد ہیں، اس لئے ان کو برفباری کے موسم میں شدید مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے او ر جہاں ان کا رابطہ کئی کئی ہفتوںتک باقی دنیا سے منقطع ہوکر رہ جاتاہے وہیں حکومت کیلئے برفباری کے دوران سہولیات کی فراہمی بھی ایک مشکل امر رہتاہے اور یہ ایسی مشکلات ہیںجو ہر سال لوگوں کو دامن گیر ہوتی ہیں اور انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رہناپڑتاہے ۔سب سے زیادہ مشکلات واڑون و دچھن علاقوںکی آبادی کودرپیش ہوتی ہیں جن کا رابطہ تو کئی کئی ماہ بعدبھی بحال نہیںہوتا۔ اگرچہ حکومت نے کچھ علاقوںکیلئے ہوائی خدمات کا سلسلہ بھی شروع کیاہے اور پونچھ ، راجوری ، کشتواڑ ، ڈوڈہ اضلاع کیلئے ہیلی کاپٹر سروس چل رہی ہے لیکن برفباری کے دوران اس سے بھی کام نہیں بن پائے گا اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئے گا۔اس بات کا مشاہدہ کیاجاچکاہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اشیائے ضروریہ کی فراہمی کے دعوے تو بہت کئے جاتے ہیںلیکن موسم سرما سے قبل اس حوالے سے کوئی خاص تیاریاںنہیں کی جاتی جس کے نتیجہ میں مشکل وقت میں لوگوں کو کچھ کھانے کیلئے بھی نہیں ملتا۔ اگر ان دونوں خطوں کے بالائی و پہاڑی علاقوں میں برفباری سے قبل ہی اشیائے ضروریہ کا ذخیرہ کرلیاجائے تو سفید چادر بچھ جانے کے دوران لوگوں کو زیادہ مشکلات کاسامنا نہیں کرناپڑے گا لیکن ہر بار کی طرح اس بار بھی سرکار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے اور ایسے اقدامات نہیں کئے گئے جو آنے والے دنوں میں لوگوں کی راحت کا سبب بن سکتے ہیں ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ پیر پنچال اور چناب کے کئی علاقوںمیں کئی کئی فٹ برفباری پڑتی ہے اوران پہاڑی راستوں پر چلنا تو مشکل بات ، لوگوں کا گھروںسے باہر نکلنا بھی ناممکن بن جاتاہے اور انہیں برف کاٹ کاٹ کر راستہ بنانے یا برف پگلنے کیلئے کئی کئی دن تک انتظار کرناپڑتاہے ۔ان علاقوں میں برف کے تودے اور پسیاں گرآنے کی وجہ سے سڑکیں کئی کئی ماہ تک بند رہتی ہیں اور لوگوں کے پاس سامان کاندھے پر اٹھاکر لیجانے کے علاوہ او ر کوئی چارہ نہیںہوتا۔ایسے حالات میں اگر کوئی شخص بیمار ہوجائے تو اسے ہسپتال پہنچانا انتہائی مشکل ہوتاہے ۔حالیہ برسوں موسم سرما کے دوران درپیش آنے والے مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس بار پہلے سے ہی تمام تر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے نہیں تو لوگ پھر سے اسی حالت میں زندگی بسرکرنے پرمجبورہوںگے جس کا سامنا انہیںہر سال ہوتاہے ۔حکومت کو چاہئے کہ وہ راشن ، رسوئی گیس اورتیل خاکی وغیرہ کا ذخیرہ کرلے اور ان علاقوں میں جے سی بی مشینیں رکھی جائیںجو برف ہٹانے کے کام آسکیں ۔