مودی کا دعوی صحیح ہواتو بنے گی تاریخ

نئی دہلی //مرکز میں واضح اکثریت کے ساتھ بھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی )کی پھر سے حکومت بننے کی وزیراعظم نریندرمودی کی بات صحیح ثابت ہوتی ہے تو یہ لوک سبھا انتخاب تاریخ رقم کرے گا ۔ مسٹر مودی نے جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس میں کہاتھا کہ انکی حکوت واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آرہی ہے اور ایسا طویل عرصہ کے بعد ہونے جارہاہے ۔سترہویں لوک سبھا کی انتخابی مہم ختم ہونے سے عین قبل انکا یہ دعوی صحیح ثابت ہواتو 1971کے انتخابات کے بعد پہلی بار ایسا ہوگا جب کوئی پارٹی اور وزیراعظم مسلسل دوسری بار واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئیگا ۔اس کے علاوہ مسٹرمودی کے نام ایک اور ریکارڈ درج ہوگا ۔وہ پانچ سال کی میعاد پوری کرکے مسلسل دوسری بار وزیراعظم کے عہدے پر پہنچنے والے تیسرے لیڈر ہونگے ۔ ابھی تک ہوئے سترہ لوک سبھا انتخابات پر نظر ڈالی جائے تو پہلے تین انتخابات تک ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کی قیادت میں تین بار کانگریس کی اکثریت والی حکومت اقتدارمیں آئی ۔تیسری لوک سبھا کی میعادکے دورارن تین وزائے اعظم بنے ۔پنڈت نہرو کے 1964میں انتقال کے بعد لال بہاد رشاستری وزیراعظم بنے لیکن 1966میں انکا انتقال ہوگیا اور اسکے بعد پنڈت نہر کی بیٹی اندراگاندھی وزیراعظم بنیں ۔سال 1967کے انتخابات میں اندراگاندھی کے وزیراعظم کے عہدے پر رہتے ہوئے کانگریس نے لوک سبھا میں اکثریت حاصل کرکے حکومت بنائی ۔اندراگاندھی کے ہی وزیراعظم رہتے ہوئے 1971میں کانگریس کی پھر سے اکثریت والی حکومت بنی تھی ۔اس کے بعد سے ابھی تک ایسا نہیں ہوپایاہے اور اگر اس انتخاب میں بی جے پی کے واضح اکثریت کے ساتھ مسٹر مودی وزیراعظم بنتے ہیں تو تاریخ بنے گی ۔  کانگریس نے 1980 اور 1984میں بھی مسلسل لوک سبھا میں اکثریت حاصل کی تھی لیکن دونوں ہی بار الگ الگ وزیراعظم تھے ۔ایمرجنسی کے بعد ہوئے انتخابات میں اقتدارسے بے دخل ہوئیں اندراگاندھی نے 1980میں واپسی کی تھی لیکن 1984میں انکے عہدے پر رہتے ہوئے انھیں قتل کردیاگیاتھا اور انکے بیٹے راجیوگاندھی وزیراعظم بنے تھے ۔اندراگاندھی کے قتل کے بعد ہوئے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس نے چارسو سے زیادہ سیٹیں حاصل کی تھیں ۔اس انتخاب کے بعد تین دہائی تک لوک سبھا میں کسی بھی پارٹی کو واضح اکثریت نہیں ملی ۔پچھلے انتخابات میں بی جے پی نے لوک سبھا میں بی جے پی نے اکثریت حاصل کرکے تاریخ رقم کی تھی ۔مسٹر مودی دوبارہ وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ پنڈت نہرو اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے بعد تیسرے ایسے لیڈر ہونگے جوپانچ سال کی میعاد مکمل کرنے کے بعد پھر سے ملک کی باگ ڈور سنبھالیں گے ۔پنڈت نہرو واحد ایسے لیڈر ہیں جو دو بار پانچ سال کی میعاد کار پوری کرنے بعد پھر سے اس عہدے پر پہنچے تھے ۔مسٹر پھر سے وزیراعظم بنتے ہیں تو وہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی برابری کرلیں گے ۔۔ڈاکٹر سنگھ 2004میں پہلی بار وزیراعظم بنے تھے جب کانگریس کی قیادت میں ترقی پسند اتحاد کی حکومت بنی تھی ۔پانچ سال کی میعاد مکمل کرنے کے بعد انھوں نے 2009میں اس اتحاد کی حکومت کی پھر سے قیادت کی ۔  پنڈت نہرو کے بعد اندراگاندھی سب سے طویل عرصہ تک وزیراعظم کے عہدے پر رہیں لیکن انکا نام اس فہرست میں نہیں آتا۔وہ 1966میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد پہلی بار وزیراعظم بنیں ۔ایک سال بعد 1967کے انتخاب میں کانگریس کی جیت کے ساتھ انھوں نے پھر سے یہ عہدہ سنبھالا ۔کانگریس کی داخلی کشمکش کی وجہ سے انھوں نے پانچ سال کی میعاد پوری ہونے سے ایک سال قبل ہی لوک سبھا تحلیل کرکے 1971میں انتخابات کردیے ۔اس انتخاب میں انھیں زبردست کامیابی ملی اور وپ پھر سے وزیراعظم بنیں ۔محترمہ گاندھی کو 1977کے انتخاب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔وہ 1980میں چوتھی بار وزیراعظم بنیں ۔  مسٹر مودی کی پارٹی بی جے پی کے لیڈر اٹل بہاری واجپئی تین بار وزیراعظم بنے اور چھ سال سے زیادہ عرصہ تک اس عہدے پر رہے ۔وہ 1996میں پہلی بار وزیراعظم بنے لیکن انکی حکومت 13دن میں ہی گرگئی ۔وہ 1998می دوبارہ وزیراعظم بنے لیکن یہ حکومت 13ماہ ہی چل سکی ۔مسٹر واجپئی 1999میں تیسری بار وزیراعظم بنے لیکن 2004میں ہوئے انتخابات میں بی جے پی اقتدارسے باہر ہوگئی۔اس کے بعد ڈاکٹر منموہن سنگھ مسلسل دوبار وزیراعظم کے عہدے پر رہے ۔