مواسات وغم خواری کا مہینہ!

آصف جلیل احمد
 ہمارے سروں پرنہایت عظیم الشان مہینہ سایہ فگن ہواہے ، جس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں،جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں،سرکش شیاطین جکڑدئیے جاتے ہیں، نیکیوں کا اجروثواب بڑھادیاجاتاہے، جس کی ہررات اعلان ہوتا ہے’’اے خیر کے متلاشی !آگے بڑھ اور اے شرکے طلبگار ! پیچھے ہٹ‘‘۔ جس کی ایک رات ہزار مہینوں سے افضل ہے ، جواس کے خیرسے محروم رہا وہ واقعی محروم ہے۔ یہ مبارک مہینہ روزہ ، تلاوت ِقرآن، صدقات وخیرات ، قیام اوردعا واستغفارکا موسم بہار ہے۔اللہ والے رمضان المبارک کاچھ مہینہ پہلے سے انتظار کرتے تھے ، مشہور تابعی معلی بن فضل رمضان المبارک کے بارے میں صحابہ کرام ؓکے اشتیاق کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ وہ چھ ماہ پہلے سے یہ دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ ! ہمیں ماہِ رمضان کی سعادت نصیب فرما‘‘۔ پھر جب رمضان کا مہینہ گذرجاتا تو بقیہ چھ ماہ دعا کرتے ’’اے اللہ!جن اعمال کی تونے توفیق دی وہ قبول بھی فرمالے ‘‘۔

کتنے لوگ جو گذشتہ سال ہمارے ساتھ روزے میں شریک تھے، آج قبرمیں مدفون ہیں۔کتنے چہرے جنہیں ہم نے گذشتہ سال رمضان میں صحیح سلامت دیکھاتھا‘آج بسترِ مرگ پر پڑے موت وحیات کے بیچ ہچکولے کھارہے ہیں۔ کیاخبرکہ آنے والا رمضان ہماری زندگی کا آخری رمضان ہو ، اس لیےا خیروخوبی سے اس کے مقام ،اس کی عظمت، اس کی فضیلت،اس کے مقصد اوراس کے پیغام کو اپنے ذہن میں رکھیں تاکہ اس کی برکات سے بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اوراس بات کا پختہ ارادہ کریں کہ ہم اس ماہ مبارک میں اپنے اندر تقوی کی صفت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے جو روزہ کا ماحصل ہے،ان معمولات کی تحدید کرلیںجو حقوق اللہ سے متعلق ہیں ،ان معمولات کی بھی تحدید کرلیں جو حقوق العباد سے متعلق ہیں۔ اگرآپ کے ساتھ کاروبار،تجارت کام کے تقاضے ہیںاورعبادت کے لیے خودکوبالکلیہ فارغ نہیں کرسکتے تو پھر یہ دیکھیں کہ کن کن کاموں کورمضان کی خاطر چھوڑ سکتے ہیں اور کن کن مصروفیات کو مو خرکر سکتے ہیں۔اس ماہ مبارک میں ہم اپنی زندگی ،صحت اورجوانی میں فرصت کو غنیمت جانیں،اپنے سارے گناہوں سے سچی توبہ کریں،واجبات ومستحبات کی ادائیگی اورمنہیات ومکروہات سے اجتناب کرنے کا خود کو عادی بنائیں، پنج وقتہ نمازوںبالخصوص نمازِفجر کی باجماعت ادائیگی کو اپنے اوپر لازم کرلیں۔جولوگ محرمات کا ارتکاب کرکے اللہ کی غیرت کو چیلنج کررہے ہیں،بدکاری،شراب نوشی،ناجائزکاروبار،سودی لین دین جیسے جرائم میں ملوث ہیں ،وہ توبہ کرکے عزم کریں کہ وہ ان جرائم سے بالکل دورہوجائیں گے اورپھر عمربھر ان کے قریب نہ ہوں گے۔قرآن کریم کی تلاوت کا ایک مستقل وقت  بنائیں،ہرفرض نماز کے بعد چند آیات کی تلاوت مع ترجمہ کا معمول بنالیں کیونکہ یہ مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔علما ء کرام اور معتبرکتابوں کی مدد سے روزہ کے احکام ومسائل کی پوری جانکاری حاصل کرکےمعاشرتی روابط اورحقوق پر خاص طورسے دھیان دیں۔کسی کا کوئی قرض یا دعوی ہے تو اسے فوراً چکادیں اور معاملے کا تصفیہ کرلیں،بروزقیامت وہ شخص بڑا بدنصیب اور مفلس ہوگا جو نماز روزے اور زکوٰۃ کے ساتھ آئے گا لیکن اس کے اوپر لوگوں کی طرف سے دعوو ں کا ایک انبار ہوگا ،کسی کو مارا ہوگا، کسی کو گالی دی ہوگی،کسی کی بے عزتی کی ہوگی،لہٰذا اس کی ایک ایک نیکیاں لے لے کر دعویداروں کو دے دی جائیں گی ،جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی اوردعویدار باقی رہ جائیں گے تو دعویداروں کے گناہ ان کے سروں پر تھوپ دئیے جائیں گے پھر انہیں جہنم رسید کردیاجائے گا۔اس لیے رمضان میںیہ عزم مصمم کرلیں کہ آپ اپنی زبان کی حفاظت کریں گے ،گالی گلوچ ،لڑائی جھگڑا ،بدکلامی اورچغل خوری،بہتان تراشی، سے دور رہیں گے ،نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیش پیش رہیں گے اورکسی انسان کو ایذا نہ پہنچائیں گے۔رات کے سہ پہر میں قیام اللیل کی عادت ڈالیں، کیونکہ یہ رات کا وہ حصہ ہے جس میں اللہ تعالی سمائے دنیا پر (اپنے شایانِ شان) نزول فرماکر اعلان کرتے ہیں: ’’ہے کوئی دعا کرنے والا کہ ہم اس کی دعا قبول کریں ،ہے کوئی سوال کرنے والا کہ ہم اس کے سوال کو پورا کریں، ہے کوئی اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے والا کہ ہم اس کے گناہوں کو معاف کردیں۔ ‘‘ (بخاری ومسلم)

اس ماہ مبارک میں اپنے سلوک او رکردار پر دھیان دیں،اپنے آپ کو حسن اخلاق کا پیکر بنائیں، رذائل اخلاق سے دوری اختیار کریں،اخلاق وآداب پر مشتمل کتابوں کا مطالعہ کریں اوراچھے اخلاق کے حامل لوگوں کے پاس بیٹھ کر ان کی خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اپنے آپ کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا عادی بنائیں کہ رمضان مواسات وغم خواری کا مہینہ ہے ،ہمارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم یوںبھی سخی تھے تاہم رمضان المبارک میں تیز ہوا سے بھی زیادہ سخی ا ورفیاض بن جاتے تھے۔ اس لیے اللہ پاک نے جس قدربھی دے رکھا ہے، اس میں سے غرباء ومساکین کے لیے ضرور نکالیں اورحسب استطاعت روزہ داروں کو افطار بھی کرائیں کہ اس کا اتنا ہی اجر ملتا ہے جتنا خود روزہ رکھنے کا (ترمذی )۔رمضان کے فیوض وبرکات سے خاطرخواہ مستفید ہونے کے لیے چوبیس گھنٹے کے اوقات کی منصوبہ بندی کر لیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کی عبادت میں صرف ہو اور اسے پورے نظم وضبط اور پابندی سے بجالانے کی کوشش کریں۔ اللہ عزوجل اس رمضان المبارک کو ہم سب کی بے حساب بخشش کا ذریعہ بنا دے۔( آمین)

(رابطہ۔  09225747141)