منی لانڈرنگ معاملہ | سابق وزیر لال سنگھ کی 1.21 کروڑ کی جائیداد قرق

عظمیٰ ویب ڈیسک

نئی دہلی// انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بدھ کو کہا کہ اس نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر چودھری لال سنگھ، ان کی اہلیہ اور ان کے زیر انتظام ایک تعلیمی ٹرسٹ کے خلاف منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر 1.21 کروڑ روپے کی زمین ضبط کر لی ہے۔ تحقیقاتی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ زمین آر بی ایجوکیشنل ٹرسٹ (آر بی ای ٹی) کی ہے اور اسے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون (پی ایم ایل اے) کے دفعات کے تحت قرق کرنے کا ایک عارضی حکم جاری کیا گیا ہے۔ ای ڈی نے کہا کہ یہ زمین “پی ایم ایل اے کے طے شدہ جرم سے متعلق مجرمانہ سرگرمیوں سے پیدا ہونے والے جرم کی آمدنی سے حاصل کی گئی تھی”۔ سابق رکن پارلیمنٹ کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 7 نومبر کو جموں میں گرفتار کیا تھا۔ وہ ڈوگرہ سوابھیمان سنگٹھن پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ منی لانڈرنگ کا معاملہ سی بی آئی کی ایف آئی آر سے نکلا ہے اور لال سنگھ کی اہلیہ کانتا اندوترا (آر بی ای ٹی کی چیئرپرسن) اور جے کے حکومت کے سابق پٹواری رویندر سنگھ کے خلاف چارج شیٹ دائر کی گئی ہے۔ ای ڈی نے دعویٰ کیا، “چودھری لال سنگھ نے اپنی اہلیہ کانتا اندوترہ کے ساتھ، ریونیو افسروں/ اہلکاروں ، اس وقت کے پٹواری، اس وقت کے گرداور، اس وقت کے نائب تحصیلدار اور اس وقت کے تحصیلدار کے ساتھ مل کر اپنے قد اور سرکاری عہدے کا استعمال کرتے ہوئے 1.21 کروڑ روپے (2011 میں سرکل ریٹ کے مطابق) کی 167 کنال اور 15 مرلے زمین زبردستی آر بی ای ٹی کے نام منتقل کی گئی تھی”۔