منشیات کا بڑھتا رجحان اور نکاح میں تاخیر

 فرمان باری تعالیٰ ہے کہ ’’اور یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے ازواج پید ا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور مہربانی پیدا کر دی۔ غور و فکر کرنے والوں کے لیے یقیناً ان میں(خدا کی) نشانیاں ہیں‘‘(سورہ روم) 
ملت کشمیر گزشتہ کئی سالوں سے سنگین بُرائیوںمیں مبتلا ہو رہی ہے جن میں منشیات کا بڑھتا رجحان قابل ذکر ہے۔ نوجوان ملت اپنی صلاحیتوں کو اس فعل بد میں زائل کر رہے ہیں۔پس پردہ وجوہات کی ایک قطار کھڑی ہے جو اس ضلالت کو پروان چڑھانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، ان میں سے ایک وجہ نکاح میں تاخیر ہے۔ سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد انسان کی نفسانی خواہشات عروج اختیار کرنا شروع کردیتی ہیں جس کی تکمیل لازمی بن جاتی ہے۔ شریعت ِمطہرہ نے جنسی تسکین کی جائز راہ نکاح کی صورت میں پیش کی ہے۔ اگر نکاح میں تاخیر ہو جائے تو انسان مختلف ذہنی و جسمانی بیماریوں میں گرفتار ہوجاتا ہے بلکہ انسان کی روحانی زندگی پر بھی مضر اثرات پڑتے ہیں۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بندہ غلط اور غیر شائستہ راہوں پر چلنے لگتا ہے، جن میں منشیات کا استعمال بھی شامل ہے۔سماجی رسومات و بدعات نے نکاح جیسے پاکیزہ اور مقدس رشتے کو اب کاروباری شکل میں تبدیل کردیا ہے۔جہیز سے لے کر مہر کی ادائیگی تک سبھی معاملات سودی کاروبار کی شکل میں انجام دئیے جاتے ہیں اور دیگر رسوماتِ بد زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کرتے ہیں۔نتیجتاً نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کا کردار داؤ پر لگ چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سنتوں کو زندہ کرکے نکاح کو آسان بنایا جائے۔تحریری اور تقریری دنیا سے نکل کر عملی میدان میں کچھ کرکے دکھانا ہے۔خطبہ نکاح پڑھانے کے لئے بڑے بڑے خطباء کو مدعو کیا جاتا ہے لیکن نکاح کے بنیادی ارکان غیروں کے افکار پر منحصر اور مشتمل ہوتے ہیں۔ نکاح خواں حضرات بھی اس چیز کی طرف التفات نہیں کرتے۔ جیسے ان کا ضمیر بھی ایک ہزار، دوہزار میں بک چکا ہے۔ وہ بھی اب رسم جان کر ہی خطبہ نکاح کی محفل مزین کرتے ہیں۔ نکاح کی اہمیت مدنظر رکھ کر مالک حقیقی نے قرآن کے اندر 24 مرتبہ نکاح کا لفظ نازل کیا۔ 
رسومات کے ساتھ ساتھ اب کردار، شرافت کو ترجیح نہیں دی جاتی بلکہ یہاں بھی فریقین کو فقط پیسے کی ہی اہمیت نظر آتی ہے۔ لڑکے کا کردار کیسا بھی ہو، کمانے والا ہونا چاہیے، لڑکی کا کردار کیسا بھی ہو، باعث نفع ہونی چاہیے۔ دین کے نام لیوا بھی نکاح کے موقع پر دین اور دینی احکام کوبالائے طاق رکھ دیتے ہیں۔ پوری قوم ایک ہی کشتی میں سوار ہے۔حلال و حرام کی تمیز ہم میںنہیں رہی ہے۔فرمان ربانی ہے کہ، ’’تم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں چونکہ مومنہ کنیزاس مشرکہ عورت سے بہتر ہے ،اگرچہ وہ تمہیں زیادہ پسند ہو نیز (مومنہ عورتوں کو) مشرک مردوں کے عقد میں نہ دینا، خواہ وہ مشرک تمہیں پسند ہی ہو ،کیونکہ وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ اپنے حکم سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ،اور اللہ اپنی نشانیوں کو لوگوں کے سامنے کھول کر پیش کر تا ہے۔شائد کہ وہ نصیحت حاصل کریں‘‘(القرآن) 
بقول شاعر  ؎ 
ہزاروں زہد کے پردے میں آج دین فروش
دکھا رہے ہیں زمانے کو اپنا جوش و خروش
نہ عاقبت کا خیال ان کو ہے نہ زیست کا ہوش
غرور و کبر کا پیکر شقی و شرک بدوش
بات یہی ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ اب جو رشتے پیسوں کی بنیاد پر قائم کئے جاتے ہیں انکی عمر زیادہ نہیں ہوتی۔ مقاصد نکاح میں تحفظ عفت و عصمت، تحفظ کردار، آنکھوں کا جھکاؤ، نفس کی پاکی، تسلسل نسل، تربیت و پرورش، تعمیر نسل بنیادی اہمیت کے حامل ہیں ، لیکن جب اصل مقاصد ہی مفقود ہوں، وہاں وصول بھی حاصل نہیں ہوسکتا۔ نکاح کے بعد بھی جہاں سکون حاصل نہ ہو وہاں زندگی جہنم بن کے رہ جاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ہم نے بنیادی ترجیحات کو نظر انداز کردیا ہے۔ 
والدین حصول دولت کے لئے اپنے بچوں کے کردار و پاکدامنی کا سودا کررہے ہیں۔ ملت اسلامیہ میں ایسی گندگی پھیل چکی ہے کہ اگر وقت رہتے سد باب تلاش نہ کیا گیا،تو آنے والی پیڑھی ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔موجودہ دور کی عکاسی کرتے ہوئے رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ،’’جب کوئی فرد تمہاری طرف پیغام نکاح بھیج دے جس کے دین اور اخلاق سے تم راضی ہو تو اپنی بیٹی، بہن کا نکاح اس سے کردو، اگر تم نے ایسا نہ کیا تو روئے ارض پر فتنہ نازل ہوگا اور ہر طرف سے فساد برپا ہوگا‘‘۔(ارواء الغلیل) 
 اسلام نے نکاح کے تعلق سے جو فکر ِ اعتدال اور نظریۂ توازن پیش کیا ہے، وہ نہایت جامع اور بے نظیر ہے۔ اسلام کی نظر میں نکاح محض انسانی خواہشات کی تکمیل اور فطری جذبات کی تسکین کا نام نہیں ہے۔ انسان کی جس طرح بہت ساری فطری ضروریات ہیں، بس اُسی طرح نکاح بھی انسان کی ایک اہم فطری ضرورت ہے۔ اس لیے اسلام میں انسان کو اپنی اس فطری ضرورت کو جائزاور مہذب طریقے کے ساتھ پوراکرنے کی اجازت ہے اوراسلام نے نکاح کوانسانی بقا وتحفظ کے لیے ضروری بتایا ہے۔ اسلام نے تو نکاح کو احساسِ بندگی اور شعورِ زندگی کے لیے عبادت سے تعبیر فرمایا ہے۔شبابِ امت جب ذہنی تناؤ کا شکار ہوتا ہے، یہی رشتہ اسے راحت بخشنے کا سامان مہیا کرتا ہے۔شریک حیات اسکی پریشانی کو سمجھ کر دوائے دل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔دن بھر کی تھکاوٹ شریک حیات کی ایک مسکراہٹ سے ختم ہوجاتی ہے۔ زندگی کے بعض نازک مسائل کا تبادلہ خیال شباب ملت صرف اپنے ہمسفر کے ساتھ ہی کرسکتا ہے۔ سرتاج رسل ؐجب غمزدہ ہوتے، خدیجہ الکبریٰ ؓمرہم پٹی کرتی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوتے، بے قرار ہوتے ،خدیجہ الکبریٰؓ کی شفقت اطمینان قلب کا کام کرتی۔جب دنیا آپکی مخالف تھی، خدیجہ الکبریٰ آپ ﷺ کے دفاع میں تنہا کھڑی تھی۔ یہی ہے اس مقدس رشتے کی اصل تصویر۔دینی تربیت کی عمدہ مثال دیکھنی ہو تو صدیقہ کائنات اور تاجدار حرم کی باہمی حیات مبارکہ پر نظر ڈالئے۔ایک دوسرے کے ساتھ سیر و تفریح، گھریلو کام کاج میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانا، دینی امور میں ایک دوسرے کی احسن طریقہ سے اصلاح کرنا، ناراضگی بھی ہو تو محبت بھری جیسے عظیم نقاط ہمیں اس مقدس رشتے سے اخذ ہوتے ہیں۔ غرض یہ کہ دینی، تربیتی، روحانی تعمیر کے لئے نکاح ایک کارآمد علاج ہے۔ 
نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے خالق حقیقی نے اسے سنت ِانبیاء قرار دیا۔ رب العالمین کا فرمان ہے ۔’’اور بے شک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور اُن کیلئے بیبیاں اور بچّے دئے‘‘۔(سورہ رعد) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوجوان ملت کو نکاح کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا کہ، ’’مَنْ تَزَوَّجَ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ نِصْفَ الْاِيمَانِ ،  فَلْيَتَّقِ اللَّهَ فِي النِّصْفِ الْبَاقِي ‘‘یعنی’’ جس نے نکاح کیا بے شک  اس نے اپنا آدھا دین بچا لیا، اب باقی آدھے میں اللہ عَزّ وَجَلَّ سے ڈرے‘‘۔(معجم اوسط ، ۵ / ۳۷۲ ، حدیث : ۷۶۴۷) فحاشی کے دلدل سے نکلنے کے لئے، خلوت کی تاریکیوں سے آزاد ہونے کے لئے، دین میں حصول پختگی کے لئے، علم و عقل کی تازگی کے لئے نکاح کے بندھن میں لازمی خود کو پیش کرنا ہے۔ والدین کی فکر غلامی کی زنجیروں میں قید ہوچکی ہے، رسومات کی غلامی، تعلیم اور ڈگریوں کی غلامی، ذات پات کی غلامی، مال و متاع کی غلامی، انا اور شہرت کی غلامی، نمود و نمائش کی غلامی،منصب و عہدے کی غلامی، ظاہری بناوٹ کی غلامی۔ الغرض ہم نے اپنے افکار و نظریات کو غیروں کی تقلیدِ جامد میں وقف کر دیا ہے۔ 
بعض سلف فرمایا کرتے تھے کہ اپنے شریک حیات سے ازدواجی تعلقات قائم کرنا بعض نفلی عبادات سے بھی افضل ہے کیونکہ اگر جائز طریقہ سے جنسی تسکین حاصل ہو، انسان کافی مفاسد سے بچ سکتا ہے۔ اسی لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت کی اس بیٹی کو افضل قرار دیا جو اپنے شوہر کو قلبی راحت بخشے جیسا کہ بیان ہوا،’’الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَر‘‘۔سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے موقوفاً ایک قول منقول ہے کہ :’’لو لم يبق من أجلي إلا عشرة أيام وأعلم أني أموت في آخرها يوما ولي طول النكاح فيهن لتزوجت مخافة الفتنة‘‘۔یعنی’’ اگر میری زندگی کے فقط دس ایام باقی رہ گئے ہوں اور  مجھے علم ہو کہ دسویں دن کے اختتام پر میری موت واقع ہوگی۔ میں فتنوں سے بچنے کے لئے ان دنوں میں بھی نکاح کے بغیر نہیں رہوں گا‘‘۔سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ایک قول منقول ہے کہ، ’’التمسوا الغنى بالنكاح‘‘۔یعنی’’ نکاح کے ذریعے غنی طلب کرو ‘‘۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح کے ارکان و افعال کو آسان بنا دیا جائے۔ غیر شرعی ترجیحات کو معاشرے سے مٹا کر عہد نبوی کی یادوں کو تازہ کیا جائے۔ منشیات کی بڑھتی شرح کو روکنے کے لئے والدین اپنی انا کو قربان کردیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں دینی غیرت و اخلاق جمیلہ سے مزین کردے۔ آمین یا رب العالمین
(مدرس سلفیہ مسلم ہائر سکینڈری سرینگر)
 رابطہ ۔   6005465614
������