سرینگر//حکومت نے سرکاری محکموں کے سربراہان کو اُن ملازمین کے کوائف و تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے،جو 48 سال کی عمر کو پہنچ چکے ہوں یا جنہوں نے22برس کی ملازمت کی حد مکمل کی ہو۔معلوم ہوا ہے کہ ایسے 7ہزار ملازمین ہیں جنہیں جبری طور پرسبکدوش کیا جائیگا۔محکمہ جل شکتی (پی ایچ ای) کے انڈر سیکریٹری بنسی لعل شرما نے محکمہ کے چیف انجینئر کے نام ایک مکتوب روانہ کیا ہے،جس میں محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری ایس او324کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان ملازمین کی تفصیلات مرتب کی جائیں، جو48برس کی عمر تک پہنچ چکے ہیں،یا22برس کی ملازمت پوری کی ہے۔ مکتوب میں چیف انجینئر پی ایچ ای کو7فروری تک یہ تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا کہ یہ معاملہ محکمہ جل شکتی تک ہی محدود نہیں ہے،بلکہ دیگر محکموں کے سربراہان کو بھی اس حوالے سے ہدایات دی گئیں ہیں کہ وہ ان ملازمین کے کوائف مرتب کریں جن کی عمر 48برس سے ز یادہ ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قریب7ہزار ملازمین سرکار کی راڈار پر ہیں،اور محکمہ جات کی جانب سے ان ملازمین و افسران کے کوائف جمع کرنے کے بعد انہیں مرحلہ وار بنیادوں پر انتظامیہ سے چلتا کیا جائے گا۔ اس ضمن میںلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی سربراہی والی حکومت نے گزشتہ برس22اکتوبر کو ایک حکم نامہ زیر نمبر ایس او324جاری کیا تھا۔
مذکورہ ایس آر اومیں واضح کیا گیا تھا کہ عوامی مفادات میں ان ملازمین کو سبکدوش کیا جائے گا،جن کی عمر یا تو48برس کی ہو یا22برس کی ملازمت کو پورا کیا ہو۔فائنانشل کمشنر فائنانس ڈاکٹر ارون کمار مہتہ کی جانب سے اس حوالے سے جو حکم نامہ جاری کیا گیا تھا اس میں کہا گیا’’ان قواعد میں شامل کسی بھی چیز کے باوجود ، حکومت یہ اختیار رکھتی ہے کہ اگر ایسا کرنا عوام کے مفاد میں ہو تو اس شیڈولII میں شامل کسی عہدے پر کام کرنے والے(ملازم) کے علاوہ کسی بھی سرکاری ملازم جس نے22سال کی سرکاری ملازمت مکمل کی ہو یا48برس کی عمر تک پہنچا ہو ،کو کسی بھی سبکدوش کیا جاسکتا ہے‘‘۔ملازمین ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں انتظامیہ کی جانب سے سرکاری محکمہ جات میں موجودہ ملازمین انجمنوں کی تفصیلات اعلیٰ انتظامیہ کو فراہم کرنے کی ہدایت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انہوں نے بتایا ’’ اصل میں ملازمین لیڈروں کو پہلے ہی اس سلسلے میں یا تو اعتماد میں لیا جائے گایا انہیں ہدایت دی جائے گی کہ وہ اس معاملے میں کوئی بھی ردعمل ظاہر نہ کریں‘‘۔محکمہ عمومی انتظامی کے ڈپٹی سیکریٹری کی جانب سے25جنوری کو اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا گیا،جس میں انتظامی سیکریٹریوں سے کہا گیا کہ وہ وہ اپنے محکمہ جات میں تسلیم شدہ(رجسٹرڈ) انجمنوں(ایسوسی ایشنوں و یونینوں) کی تفصیلات جمع کریں۔ ان تفصیلات میں انجمنوں کے نام،مقاصد، عہدیداروں کے نام و فون نمبرات، آخری بار کب انتخابات ہوئے، آڈٹ شدہ بنک کھاتوں کی تفصیلات اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ ملازمین ذرائع کا کہنا ہے کہ انجمنوں کی جانب سے ممکنہ احتجاج یا اس کام میں رخنہ ڈالنے کے خدشات کے پیش نظر انتظامیہ غالباً ایسے اقدامات اٹھارہی ہے،اور ملازم لیڈرشپ کو قابو میں رکھنا چاہتی ہے۔