معمار ِحرم باز بہ تعمیر ِ جہاں خیز

ڈاکٹرسیداسلام الدین مجاہد
       رمضان کا مبارک اور مقدس مہینہ کچھ ہی دن بعدہم سے رخصت ہونے والا ہے۔ خوش نصیب ہیں خدا کے وہ بندے جنہوں نے ماہ صیام کے تقاضو ںکی تکمیل کرتے ہوئے اپنے رب کی خوشنودی حا صل کرلی اور اس کے بے پناہ انعام و اکرام کے مستحق ہو گئے۔ برکتوں اور رحمتوں سے معمور رمضا ن کے یہ قیمتی لمحات وہ عطیہِ خداوندی ہے کہ اس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے۔ تصور کیجئے کہ گزشتہ دو سال  سے رمضان کس اضطراب کے عالم میں گزرا گیا۔ کورونا کی عالمی وباء نے رمضا ن کی ساری رونقیں چھین لی تھیں ۔ مسجدیں نمازیوں سے خالی ہو گئی تھیں، بازاروں میں سناٹا چھا گیا تھا، کسی دینی جلسہ کو منعقد کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ گھروں میں بھی رشتہ داروں کو افطار پر مدعو کرنا ایک خواب بن گیا تھا۔ ایسے میں انسانی لاشوں کے انبار لگ رہے تھے۔ کتنے ہی ہمارے اپنے پیارے اس وباء کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن گئے۔ ہر طرف خوف و دہشت کاجو ماحول دیکھا گیا شاید تاریخ انسانی میں بہت کم ایسے دلخراش مناظر دیکھنے کو ملے ہیں۔ اس خطرناک وائرس نے جہاں لاکھو ں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ،وہیں کروڑ وں انسا ن فقر و فاقہ کا شکار ہوکر دم توڑ دئے۔ ہندوستان کی سپریم کورٹ نے کوویڈ۔ ۱۹ کے دوران یہ ریمارک کیا تھا کہ ” ملک میں لوگ کورونا سے نہیں بلکہ بھوک سے مر رہے ہیں ”  خدا کا شکر ہے کہ دو سال کے بعد پھر زندگی کی ڈگر میں سدھار آیا ہے اور بے یقینی اور بے چینی کا دور ختم ہوا، لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک اور ہمارے ملک میں بھی کوویڈکے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ آسمانی بلاؤں کا آنا یا زمینی مصیبتو ں میں انسانوں کا مبتلا ہونا ،یہ دراصل ان کی اپنی بداعمالیوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو بیان کر تے ہوئے فرمایا کہ ” خشکی اور تَری میں جوفساد برپا ہو گیا ،وہ دراصل انسانوں کی اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے۔’’ انسان اپنے برُے کرتوتوں کی وجہ سے ہی اپنی تباہی و بربادی کا سامان کرلیتا ہے۔ خالق کائنات کی مرضی و منشاء کے خلاف جب انسان اپنے آپ کو مختار کُل سمجھ کر من مانی فیصلے کرنے لگتا ہے تو انسانیت خطرے میں پڑ جا تی ہے اور پھر کورونا جیسی جان لیوا بیماریاں انسانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ چند دن کے عرصے میں اس خطرناک وباء نے پوری دنیا میں ایک کہرام مچا دیا تھا۔ ہر شخص موت سے گھبرائے ہوئے زندگی گزار رہا تھا۔ ناامیدی اور مایوسی کے سائے ہر طرف گہرے  ہوتے جا رہے تھے۔ اس سال رمضان کی آمد سے پہلے ہی دنیا کورونا کے فوبیا سے باہر نکل آئی۔ اس لئے اس سال اُمتِ مسلمہ کورمضان سے بھر پور استفادے کا موقع ملا۔ مسجدیں نمازیوں سے بھر گئیں۔ نماز تراویح میں بھی مصلیوں کی تعداد گزشتہ بر سوں سے زیادہ رہی۔ گرما کی شدت کے باوجود دینی محافل کا انعقاد عمل میں آیا۔ روزوں کی فرضیت، قرآن کی عظمت اور لیلتہ القدر کے عناوین پر تقاریر اور مواعظ کا سلسلہ بھی چلا۔ اس سے اہل ایمان کا ایمان بھی تاز ہ ہوا۔ طاق راتوں میں بھی اجتماعی عبادت کرنے کا موقع ملا۔ یہ سارے کام گزشتہ دو سالوں میںکورونا کی عالمی وباء کی  وجہ سے نہیں کئے جا سکے تھے۔ اس پر ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لانا چاہئے کہ اس نے ہماری زندگی کی مہلت کو دراز کر دیا تا کہ ہم رمضان کا پورا اہتمام کر سکیں۔ سوچئے !اگر اللہ تعالیٰ ہماری زندگی کے دن پورے کردیتا اور ہم بھی کوویڈ۔۱۹ کی وباء کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوجا تے تو کیا رمضان کی یہ رونقیں ہمارے حصہ میں آ تیں ؟ اور کیا ہم اس سال عید الفطر کی خوشیاں منا سکتے ؟    

      رمضان کے فیوض و برکات سے فیض یاب ہونے کے بعد ملت اسلامیہ کو اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ آیا رمضان کے دوران ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کوئی تبدیلی آئی ہے یا نہیں؟ رمضان کا مبارک مہینہ تو ہر سال آتا ہے۔ اس کی ضوفشانیوں سے دنیا ہر سال منوّر ہوتی ہے۔ لیکن کیا ہمارے نہاں خانہ دل کی تاریکیاں اس رمضان کے ذریعہ دور ہوئیں ہیں؟ کیا ہمارے فکر ونظر میں مثبت سوچ کے دھارے چلنے شروع ہو ئے ہیں؟ یا پھر ہم نے رسمی رمضان مناکر اپنے آپ کو مطمئن کرلیا ہے؟ عام طور پریہ کہا جا رہا ہے کہ رمضان کو مسلمان ایک ایونٹ کے طور پر منانے کے عادی ہوتے جا رہے ہیں۔ بلکہ رمضان بعض لوگوں کے پاس ایک Food Festivalکی حیثیت اختیار کرلیا ہے۔ انواع و اقسام کے کھانوں کے دسترخوان آراستہ کئے جا رہے ہیں اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ رمضان کے تقاضوں کی تکمیل ہورہی ہے۔ رمضان کے موقع پر جو روحانی منظر گزشتہ چند برسوں پہلے دیکھا جا تاتھا، اب وہ عنقا ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری رسمی عبادتیں قرب الہٰی کا ذریعہ نہیں بن پارہی ہیں۔ ایک ضابطہ کی پابندی کے طور پر رمضان کا اہتمام کرلینا الگ بات ہے اور رمضان کے تقاضوں کی تکمیل کر تے ہوئے اس مہینہ کو گزارنا بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان پر جو روزے فرض کئے ہیں اس کا مقصد بھی واضح کر دیا گیا۔ روزے کا مقصد انسان کو محض بھوک اور پیاس کی شدت میں مبتلا کرنا نہیں ہے۔ روزے کا اصل مقصد اللہ تعالیٰ نے جو بیان فرمایا ہے وہ یہ کہ اس کے ذریعہ انسان میں اللہ کا تقویٰ پیدا ہو۔ روزے کی اصل روح دراصل یہی ہے کہ انسان میں اللہ کا ڈر اور خوف پیدا ہو۔ انسان دنیا میں ہر کام کرتے ہوئے یہ دیکھے کہ اس سے احکام خداوندی کی خلاف ورزی تو نہیں ہو رہی ہے۔ روزے کے ذریعہ یہ صفت پیدا ہو تی ہے تو واقعی قابل مبارکباد ہے۔ لیکن اگر 30یا 29دن کے روزے رکھنے کے بعد بھی نفس کی سرکشی دور نہیں ہو تی ہے اور نفسانی خواہشات میں کمی نہیں آ تی ہے تو پھر ایک مہینے کے روزے انسانی شخصیت کو مثالی شخصیت نہیں بناسکے۔ اسلام میں ہر عبادت کا ایک مقصد ہے۔ بے مقصد عبادت سے نہ اللہ خوش ہوتا ہے اور نہ بند ہ کا میاب ہوتاہے۔ اسی لئے ہر عبادت کو خشوع و خضوع سے کرنے کا حکم دیا گیا۔ روزہ انسان میں صبر، صلہ رحمی، تحمل پسندی، دلیری، خود اعتمادی، نفس پر قابوپانے، اور مضبوط قوت ارادی جیسے اوصاف عالیہ کو پروان چڑھاتا ہے۔ رمضان کے بعد یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا ہمارے اندر یہ خصو صیات پیداہوئیں ہیں؟ رمضان کی فضیلت جہاں روزوں کے ذریعہ بیان کی گئی وہیں نزول قرآن کے واقعہ نے اس پورے مہینہ کو عظمت اور بزرگی عطا کر دی۔ رمضان ہی و ہ مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید کو نازل کیا۔ سورہ بقرہ میں رمضان کے روزوںکے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا،رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے لئے ہدایت کا سر چشمہ قرار دیا اور کہا کہ یہ و ہ کتاب ہے جو حق و باطل کے درمیان حد فاصل کھینچ دیتی ہے۔ قرآن مجید وہ نسخہ کیمیا ہے جس کے ذریعہ پوری انسانیت کو اپنے درد کا درمان ملا۔ اس حیات بخش پیغام کو لے کر جب عرب کے صحرا نشین اٹھے تو قیصر و کسریٰ ان کے زیرنگیں آ گئے۔ قرآن نے ایک نئے پیغام، نئی تہذیب اور نئے نظام سے انسانیت کو واقف کرایا۔ اس ہمہ گیر پیغام سے جب دنیا آشنا ہوئی تو دنیا میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوا۔ قرآن کے پیغام نے دلوں کی دنیا بدل کر رکھدی۔ کیسے کیسے نامور لوگ اس کی آیات کو سن کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ 23سال کے مختصر عر صہ میں قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں ایک صالح معاشر ہ اور ایک فلاحی مملکت کو قائم ہوتے ہوئے گروہ انسانی نے اپنی سَر کی آنکھوں سے دیکھ لیا۔                    

      یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب جب حاملین قرآن اس کے پیغام کو لے کر اُٹھے ،دنیا کی امامت اور قیادت ان کے ہاتھوں میں آئی۔ اسلام کی چودہ سو سالہ تاریخ شاہد ہے کہ جب کبھی مسلمانوں نے قرآن مجید سے اپنے رشتہ کو مضبوط کیا ،وہ کسی اور دنیاوی سہارے کے محتاج نہیں رہے۔ اور جب انہوں نے اس کی تعلیمات اور احکامات کو نظر انداز کر دیا ،وہ قعر مذلت میں ڈال دئے گئے۔ آج امت مسلمہ جن سنگین حالا ت سے گز ررہی ہے، اسے اپنا محاسبہ کر تے ہوئے اس با ت کا جائز ہ لینا ضروری ہے کہ آخر قرون اولی کے مسلمانوں نے کن چیزوں کو اپناکر دنیا پر اپنا دبدبہ قائم کیا تھا اور آج مسلمان کن امور سے لا پروائی برت کر اپنے آپ کو ذلیل و خوار ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ اس حقیقت کو حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ ’’اس کتاب ( قرآن کریم ) کے ذریعہ قومیں عروج کی طرف بڑھیں گی اور اسی کی وجہ سے وہ زوال پذیر ہوں گی ‘‘۔یعنی جن لوگوں نے اس کتاب کو پڑھا، اس کو سمجھا، اس پر عمل کیا اور ا س کے پیغام کو دنیا میں عام کیا، انہیں اللہ تعالیٰ نے سربلندی اور سرفرازی عطا کی اور جو لوگ قرآن کو اپنے پاس رکھتے ہوئے بھی نہ اس کو پڑھے، نہ سمجھنے کی کوشش کئے اور نہ اس پر عمل کئے، و ہ دنیا میں کا میاب ہوئے نہ آ خرت میں خدا کے انعام و اکرام کے مستحق ہوئے۔ موجودہ حالات میں امت کو سنجیدگی سے غور کرنا لازمی ہے کہ وہ کیا قوت محرکہ تھی جس نے عرب کے غیر مہذب معاشرہ کو ایک مثالی معاشرہ میںتبدیل کردیا۔تہذیب و تمدن اور علوم و فنون سے نا آشنا ایک گرو ہ کس طرح قرآن کے پیغام سے آشنا ہو کر دنیا کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ قرآنی تعلیمات پر غور وخوص کر کے جس نے علوم و فنون کے دریا بہادئے۔ ایک ایسے وقت جب کہ یوروپ Dark Age میں تھا،حاملین قرآن اپنے علم و حکمت کے خزانے دنیا میں بکھیر رہے تھے۔ مسلمانوں کے علمی و تحقیقی کارناموں سے دنیا میں ترقی اور عروج کی ایک نئی لہر پیدا ہو گئی تھی۔ قرآن و حدیث، فقہ و منطق کے ساتھ مسلمان طب، فلکیات، سیاسیات ، فلسفہ اور دیگر عصری علوم میں اپنا لوہا منوا رہے تھے۔ تاریخ میں ایک طویل عرصہ تک ایک جہاںتازہ کی آبیاری کرنے والے آج کیوں اتنے تہی دست اور مجبورو بے بس ہو گئے ہیں ؟ آج بھی وہی قرآن ہے، جس نے چود ہ صدیاں پہلے اپنے انقلاب انگیز پیغام کے ذریعہ ایک نیا جہاں تعمیر کیا تھا۔ یہ درخشان دورپھر ایک بار آ سکتا ہے۔ اس کے لئے حاملین قرآن کو اسلامی تاریخ کا مطالعہ کر تے ہوئے اپنے کھوئے مقام کو حاصل کرنے کی راہیں تلاش کرنی ہوگی۔ کاتب تقدیر کا یہ اٹل قانون ہے کہ جو گروہ جدوجہد کرتا ہے ،کا میابی اسی کامقدر ہو تی ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے رکھنے سے سوائے کف افسوس ملنے کے کوئی چیز ہاتھ نہیں آ تی۔ ہمارے ملکِ عزیز میں جو حالات مسلمانوں کے خلاف بنتے جا رہے ہیں ،اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ ہر د ن مسلمانوں کے خلاف ایک نئی سازش تیار کی جاتی ہے۔ اب اسے شمار کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ کبھی مسلم لڑکیوں کا حجاب انہیں کھٹکتا ہے اور کبھی مسجدوں میں دی جانے والی اذانیں ان کے لئے سوہان روح بن جاتی ہیں۔ ملک میں یکساں سول کوڈ نافذ کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں اور کبھی قرآن پر پابندی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے یہ مطالبے کوئی نئے نہیں ہیں۔ حق و باطل کے درمیان محاذآرائی ہوتی رہے گی۔ عنوان الگ ہوں گے لیکن مقصد ایک ہوگا۔ ان نامساعد حالات میں امت کو مایوس اور پست ہمت ہوئے بغیر اپنے مشن پر گامزن رہنا ہے۔ اسلام اور قرآن کی تعلیمات پر خود عمل کرتے ہوئے انسانیت کواس کی طرف بلانا ہے۔ یہ ملت دنیاکی تعمیر کے لئے بھیجی گئی ہے، اسے یہ فرض ہرحال میں انجام دینا ہے۔ 

 

 

معمار حرم باز بہ تعمیر جہاں خیز

 از خواب گراں ، خواب گراں ، خواب گراں خیز      ( علامہ اقبالؒ  )

 

(رابطہ۔9885210770)