شعبہ ایمرجنسی و حادثات میں تعینات ڈاکٹر خوف زدہ
پرویز احمد
سرینگر //ڈاکٹروں کا قومی دن ہندوستان میں ہر سال 1 جولائی کو طبی برادری کے اعزاز میں منایا جاتا ہے۔ یہ دن صحت عامہ کے تحفظ میں ڈاکٹروں کی انتھک کوششوں، ہمدردی اور قربانیوں کو تسلیم کرتا ہے۔جموں و کشمیرمیں صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کے خلاف تشدد کے حالیہ واقعات میں بنیادی طور پر مریضوں کے اٹینڈنٹ یا کنبہ کے افراد کے ذریعہ جسمانی حملے شامل ہیں۔ ان حملوں نے بڑے پیمانے پر غم و غصے، اور طبی عملے کی ہڑتالوں، او پی ڈی بندش، اور طبی پیشہ وروں کے لیے سیکورٹی بڑھانے اور مرکزی تحفظ کے ایکٹ کے مطالبات کو جنم دیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہسپتال پلوامہ میںمئی 2026 میںایک میڈیکل آفیسر کے سر پر شدید چوٹیں آئیں،جسے آٹھ ٹانکے درکار تھے۔اس واقعے کی وجہ سے ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کشمیر کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ جی ایم سی جموں میںفروری 2026 اور جولائی 2025 میں متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے ۔ جولائی 2025 میں، جونیئر ڈاکٹر دو روزہ ہڑتال پر چلے گئے جب دو ساتھیوں کی جانب سے ایک متوفی مریض کے اٹینڈنٹ کی پٹائی کی گئی۔ اسی طرح کا ایک اور حملہ فروری 2026 میں رپورٹ کیا گیا ۔ جی ایم سی سری نگر / ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میںجولائی 2025 میںایک مریض کی موت کے بعد ایک اٹینڈنٹ کے ذریعہ ایمرجنسی وارڈ کے اندر ایک رہائشی ڈاکٹر پر جسمانی طور پر حملہ کیا گیا۔
عمومی طور پرہسپتالوں اور میڈیکل کالجوں میں زیر تعلیم پوسٹ گریجویٹ طلبہ و طالبات کو ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے دوران مریضوں کا علاج و معالجہ کرنے میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ وادی کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں جہاں طبی قوائد و ضوابط کو بلائے طاق رکھ سینئرر ریذیڈنٹوں اور زیر تربیت پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کو تعینات کیا جارہا ہے وہیں دوران ڈیوٹی کسی بھی کوتاہی کے نتیجہ میں پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں اور دیگر جونیئر ڈاکٹروں کو مریضوں اور تیمارداروں کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کسی بھی ہسپتال میںشعبہ ایمرجنسی و حادثات انتہائی نازک شعبہ ہوتا ہے اور ایمرجنسی میں ہمیشہ یا تو شدید زخمی یا انتہائی علیل مریض آتے ہیں جن کا علاج کرنے کیلئے نہ صرف تمام تر طبی آلات کی دستیابی لازمی ہے وہیں دوسری جانب ایمرجنسی میں علیل مریضوں کے اہم لمحات میں فیصلہ لینے کی صلاحیت صرف سینئر ڈاکٹروں میں ہوتی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں سینئرڈاکٹر دستیاب رہتے ہیں لیکن 5بجے کے بعد وہ بھی مختلف پرائیویٹ کلنکوں کا رخ کرتے ہیں اور ہسپتال میں شعبہ ایمرجنسی کی ذمہ داری پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں پر ڈالی جاتی ہے۔ جموں و کشمیر سرکار کو ایمرجنسی میں 24گھنٹے سینئر ڈاکٹروں کی موجودگی کو یقینی بنانا چاہیے تبھی اس دن کے مقصد کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ رزیڈنٹ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے ’’ ہم نے اپنے تمام مسائل حکام کے سامنے رکھے ہیں جن میں ایمرجنسی شعبہ جات میں سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کا مسئلہ بھی شامل ہے، لیکن کوئی جواب نہیں آیا کیونکہ شکایت سننے والے بھی سینئر ڈاکٹر ہی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں پر حملوں کی اصل وجہ ہسپتالوں اور وارڈوں میں سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی ہوتی ہے۔دن میں چند گھنٹوں کی ڈیوٹی کے بغیر وہ کبھی بھی ڈیوٹی پر نہیں ہوتے، ان کا زیادہ فوکس نجی ہسپتالوں اور کلنکوں پر ہوتی ہے اور ان سے کوئی جواب طلبی نہیں ہوتی۔