مشروم کی کاشت میں روزگار کے مواقع

وہ افراد جو بے روزگار ہیں یا وہ خواتین جو گھروں میں ہوتی ہیں اور جن کے پاس سرمایہ کاری کے بڑے وسائل نہیں ہیں، مشروم کی کاشت کاری سے روزگار کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ مشروم کی کاشت سے خود روزگار کے وسائل میں اضافہ یقینی بن سکتا ہے۔آجکل محکمہ ایگریکلچر کے تعاون سے یہ کاشتکاری جدید پیمانے پر کی جاتی ہے، لہٰذا لوگ اس طرف مائل ہو رہے ہیں۔ ساتھ ہی اس پر زیادہ خرچ نہیں آتا اور اسے گھروں میں بھی بآسانی کاشت کیا جا سکتا ہے۔ مشروم میں پروٹین زیادہ مقدار میں پایا جاتا ہے۔ اس لئے ترقی پذیر ملکوں میں اسے خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔قدرت کشمیر پر اس لحاظ سے مہربان ہے کہ یہاں کا موسم اکثر سبزیوں کے لیے موافق ہے. اسی طرح یہاں کا موسم بھی اچھے مشروم کے لئے بہت ہی بہتر ہے. مشروم کے لئے 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت کی ضرورت ہوتی ہے اور 55 سے 75 فیصد ہوا میں نمی، لہٰذا کشمیر میں مارچ سے مئی تک اور اگست سے اکتوبر تک مشروم کی کاشت کاری کے لئے موسم موافق ہے۔ کشمیر میں یہ کاشت گھریلو صنعت کے طور پر ابھر رہی ہے۔ مشروم کو اردو میں 'کھمب کہتے ہیں. یوں تو دنیا بھر میں کھمبیوں کی تقریباً1500 اقسام پائی جاتی ہیں۔ لیکن کشمیر میں دو قسم 'ڈنگری مشروم اور 'بٹن مشروم اگایا جاتا ہے. اس سال ملکی مشروم کی بھی ٹرائل محکمہ زراعت کی طرف سے کی گئی، لیکن بٹن مشروم کی کاشت سب سے زیادہ کی جاتی ہے۔ مشروم کی تاریخ اور اس کی طبی اہمیت کافی پرانی ہے۔ اگرچہ مشروم کی اصطلاح اور اس کے استعمال پر اتفاق زمانہ قدیم میں نہیں پایا جاتا تھا تاہم پندرھویں اور سولہویں صدی سے مشروم کی اصطلاح استعمال ہونے لگی اور یہ اصطلاح فرانسسی لفظ 'موسیرون سے مشتق ہے۔  
  انسانی غذا میں مشروم کا استعمال قدیم زمانے سے کیا جاتا ہے۔  یونانی فوج مشروم کو جنگوں میں جسمانی طاقت کے لئے استعمال کرتے تھے۔  وہیں رومی اسکو 'دیوتاوں کی غذا مانتے تھے۔ چینی تہذیب مشروم کو مقوی غذا کے طور جمع کرتے تھے اور اسکو"اکسیر حیات" کہتے تھے۔ غرض مشروم ہزاروں سال سے انسانی تہذیب کا حصہ رہا ہے اور باورچی خانے کا خاصہ رہا ہے۔
مشروم کو غذا اور دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مشروم میں کوئی نمک نہیں پایا جاتا۔ مشروم میں 30 سے 35 فیصد تک پروٹین، 25 سے 30 فیصد تک وٹامن ڈی اور دیگر وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔ جبکہ لحمیات کی مقدار 21.7 سے لے کر 40.8 فیصد تک ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن بی، تھیامن، ربوفلوکسن، نیا سین بھی پائے جاتے ہیں، جبکہ کیلشیم،فاسفورس، پوٹاشیم، سیلیسئم اور زنک کی بھی وافر مقدارموجود ہوتی ہے، جو انسانی صحت کےلئے انتہائی مفید ہے۔ یہ ذیابیطس‘ فشار خون اور دل کے امراض کے لئے بھی فائدہ مند قرار دی گئی ہے۔ روزانہ 100گرام مشروم استعمال کرنے سے کئی اقسام کے کینسر خاص کر خواتین میں بریسٹ کینسر اور مردوں میں پروسٹیٹ کینسر کے امکانات کو کافی حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس میں نشاستہ اور روغنیات کی مقدار بہت ہی کم ہوتی ہے اس لئے یہ دل اور شوگر کے مریضوں کے لئے اور ایسی خواتین جو اپنا وزن کم کرنا چاہتی ہیں کے لئے بہت زیادہ مفید غذا ہے۔ اس کی تاثیر گرم ہوتی ہے اسی بنا پر یہ درد قولنج، مروڑ اور زخم اور سوجے ہوئے اعضا کے علاج کیلئے بھی مفید ہے۔ یہ ہڈی کی ٹوٹ پھوٹ کے علاج کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ وٹامن ڈی کے چند قدرتی ذرائع میں سے ایک مشروم بھی ہے، جو کہ صحت مند ہڈیوں اور دانتوں کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہےاور مادررحم کو کینسر سے بچاتا ہے. موٹاپے کے شکار افراد کے لئے یہ بہترین خوراک ہے۔ اس کا مسلسل استعمال مدافعتی نظام کی بہتری کے لئے مددگار ہے۔ دنیا کے بہت سے ممالک مثلاً امریکہ‘ چین‘ جاپان اور تائیوان میں کمرشل بنیاد پر اس کی کاشت کی جاتی ہے اور وہاں یہ معقول قیمت پر دستیاب ہے۔ پاکستان‘ ہندوستان‘ تائیوان‘ تھائی لینڈ اور چین اس کی برآمد سے غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرتے ہیں۔
مشروم کی کاشت اب بہت آسان ہوگئی ہے۔ مشروم کاشت سے متعلق ضروری مواد کم دام پر مارکیٹ میں دستیاب  ہے، مشروم کی کاشت کے لئے ایک کمرے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں کئی شلف ہونے چاہئے۔ اس کے بعد مارکیٹ میں تیار شدہ کمپوسٹ ملتا ہے جو کہ پانچ کلو کے پلاسٹک تھیلوں میں دستیاب ہوتا ہے، ان تھیلوں کو ان شیلفوں پر رکھا جاتا ہے، ساتھ ہی مختلف کمپنیاں بیج بھی دیتے ہیں، دوسرے روز اگر کمپوسٹ تیار ہیں تو اس میںبیج ڈالا جاتا ہے، جس کو spawning کہتے ہیں ،اس کے 15 سے اٹھارہ روزتک اس کی casing کی جاتی ہے ،casing مواد (peat soil) بھی مارکیٹ میں دستیاب ہے، قریب 15 روز بعد مشروم کی پہلی فصل آنی شروع ہوتی ہے اور یہ کراپ ڈیڑھ سے دو ماہ تک آتا رہتا ہے۔ محکمہ زراعت کشمیر کی کوششوں سے مشروم کی کاشت بہت ہی آسان ہوگئی ہے، یہاں پاسچرڈکمپوسٹ بہت کم  قیمت پر فراہم کیا جاتا ہے۔  یہاں کمپوسٹ صرف دس دن میں تیار کیا جاتا ہے ،جس کو پہلے 45 دن لگتے تھے۔ یہاں کا تیار کردہ کمپوسٹ کیڑوں مکوڑوں اور دیگر بیماریوں سے پاک ہوتا ہے، اس کمپوسٹ کو اٹھا کر 5 کلو کے پالی تھین تھیلوں میں بھرا جاتا ہے ،اس کے بعد اس میں تین تہوں میں مشروم کا بیج جسے spawn کہتے ہیں، ڈالا جاتا ہے اور ربر بینڈ سے بند کیا جاتا ہے اور کاشتکار اس کو ایک شلف میں رکھتا ہے۔ محکمہ زراعت نے ہر ضلع میں dtdc سینٹر کھولے ہیں، جہاں کسانوں کی رہنمائی کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں محکمہ زراعت گھر گھر جا کر کسانوں کی رہنمائی کرتا ہے۔ 10 /10 فٹ کمرے میں 100 بیگ آسکتے ہیں، جن پر دیگر ضروریات سے لیکر کاشتکاری تک قریب 30 ہزار کا خرچہ آتا ہے، جس پر محکمہ زراعت 15 ہزار کی سبسڈی بھی کسان کو دیتا ہے۔ ہر بیگ قریب 2 کلو کی مشروم  پیداوار دیتا ہے۔ مارکیٹ میں ایک کلو کی قیمت 2 سے ڈھائی سو تک ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات اس کا لوکل مارکیٹ بھی ہمیشہ دستیاب ہوتا ہے، یہ مارکیٹ میں ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہے،ساتھ ہی کاشت کے بعد استعمال شدہ کمپوسٹ کچن گارڈن کے لیے بہت ہی کارآمد ہے. مارکیٹ میں بھی یہ کمپوسٹ بک سکتا ہے. گزشتہ سال جموں و کشمیر میں مشروم کی پیداوار 330 میٹرک ٹن تک ہوئی۔  ضرورت ہے نوجوان بالخصوص بے روزگار طبقہ اس فیلڈ میں آگے آئیں اور محکمہ زراعت کشمیر کے ساتھ رابطہ قائم کرکے یونٹس قائم کریں اور محکمہ کی طرف سے اسکیموں کا فائدہ اٹھائیں۔آج کل اس کا سیزن ہے، ضرورت ہے آگے آنےکی۔ خود کفیل ہوں تاکہ ذہنی و جسمانی ہمّ و غم سے نجات ملے. بے روزگاری ہزاروں مسائل کو جنم دیتی ہے۔سب سے بڑا مسئلہ بے چینی و بے سکونی ہے، ایسے میں محکمہ زراعت ایسی اسکیموں کے ذریعے آپ کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کررہا ہے۔موقع غنیمت ہے، بس صلاحیتوں کو پہچاننے اور انہیں صحیح نہج دینے کی ضرورت ہے۔
رابط ۔ بارہمولہ کشمیر
واٹس ایپ : 9906653927