مسلمانانِ ہند سے!

 ہندوستان  میں عام انتخابات کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور انہی کے دوران قائدین اور عوام انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے کے روبروہوتے ہیں۔ پارٹی قائدین ووٹروں سے بتاتے ہیں کہ وہ بہ حیثیت عوامی نمائندہ عوام کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے ہمہ جہتی ترقی کیا منصوبہ رکھتے ہیں اور عوام انہیں اپنے مسائل اور محسوسات سے آگاہ کر تے ہیں ۔۔
 جمہوریت میں ایک ایکووٹ کی اہمیت۔رائے دہندوں کی جانب سے حق رائے دہی سے استفادہ کرنے سے قبل اپنی پسند کے امیدوار کو چننے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔ جمہوریت میں ووٹر کی پسندا ور ناپسند ایک اہم مقام رکھتی ہے ۔ ۱۹۵۱ء میں نافذ ہونے والے قانون کے مطابق حق رائے دہی  کے اختیارکی عمر ۲۱؍سال تھی جو بعد میں ۱۹۸۸ء میں ۱۸؍سال مقرر کر دی گئی ۔ ہر وہ فرد جس کی عمر ۱۸؍سال ہوجائے اس کو چاہئے کہ وہ بحیثیت ووٹر(رائے دہندہ) اپنے نام کا اندراج کرائے اور انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا آزادنہ استعمال کرے۔
 ہندوستان میں کئی مرتبہ انتخابات کے موقع پر جو ووٹ ڈالنے بوتھ پر گئے یا جو نہیں بھی گئے، جو فاتح بن کر ابھرے یا جنہوں نے شکست کھائی ،سبھی نے یعنی جیتنے والے، ہارنے والے نے ووٹ ڈالنے کے حق کو ہمیشہ ایک قومی فریضہ کے طور پر دیکھا ہے ۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چل پڑتاہے اور تعصب ، منافرت ، تنگ نظر ی، فرقہ پرستی کی کچھ مثالیں بھی بن جاتی ہیں(جو اب بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں)لیکن ہماری وسیع قومی یکجہتی ، ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ ،بلا لحاظ مذہب، ملت ، ر نگ و نسل ، ہمارا جذبہ اخوت ان چیزوں پر غالب آجاتی ہے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہار کو بعض لوگ خندہ پیشانی سے قبول کر تے ہیں کیونکہ عوام کے فیصلہ کو حتمی ماننا ضروری ہوتاہے لیکن کوئی کوئی اپنی ہار اور مخالف کی ہار کو تسلیم کر نے سے کتراتا ہے ۔لوک سبھا اوراسمبلی انتخابات کے انعقاد کی تمام تر انتظامات، ہدایات ، کنٹرول، طریقہ کا ر، تاریخ کے تعین وغیرہ کے لئے الیکشن کمیشن آف انڈیا ذمہ دا رہے۔
 متعین قانون کے مطابق انتخابات میں کرپشن، دباؤ دھونس اورفرقہ پرستانہ اپیلوں کو روکنا الیکشن کمیشن کی ایک بھاری ذمہ داری ہوتی ہے لیکن اکیلے کمیشن ہی کچھ نہیں کرسکتا جب تک انتخابات کے آزادانہ اور شفاف انعقاد کے کام میں عوام الناس بھی اپنی ذمہ داری نہ نبھائیں اور انہیں کمیشن اور اس کے مقرر کردہ عملے سے بھی تعاون کرنا ہوتا ہے۔
سیاست میں شامل ہونے والے افراد کی ترجیحات بھی اقتصادی ترقی کی رفتار کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ بڑھانا انتخابی مقابلہ آرائی میں اُترنے والے اُمید واروں کی ایک اولین ضرورت ہوتی ہے جس میں روز افزوں اضافہ ہونا کسی سیاست دان کی کامیابی کا پہلا زینہ ہوتا ہے۔ بعض پیشہ ورسیاست کار اپنی سیاسی طاقت حاصل کرنے کے لئے کہیں غنڈہ گردی پر اُتر آتے ہیں اور بعضے ووٹر کورشوت دینے میں بھی پس و پیش نہیںکرتے ہیں۔ اُمیدوار کھلے عام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ایک اسمبلی سیٹ کے لئے ایک کروڑ ، لوک سبھا سیٹ کے لئے دس کروڑ سے زائد انتخابی خرچہ آتا ہے اور یہ خرچہ روز بروز بڑھتا ہی جارہاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اُمیدوار ووٹوں کی خریدداری پر الیکشن مہم سے زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ میڈیا ئی اطلاعات کے مطابق کئی اُمیدواروں نے گزشتہ انتخابات کے دوران ایک ووٹ کے ۵۰۰؍ تا۱۰۰۰؍روپے کی ادائیگی کی تھی۔ جب ایک امیدوار ووٹ کو خریدنے کی پیش کش کرتاہے اور ووٹر اس کو قبول کرنے پر آمادہ ہو تو کیا ووٹ کا تقدس برقراررہ سکتا ہے۔ایک ووٹ خرید نے کے لئے جو بھی رقم پیش کی جائے کیانظام سلطنت کے نقشے میں یہی اس کی قیمت ہوسکتی ہے ؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ کہیںکنڈیڈیٹ ووٹ کی خریدداری کے لئے بھاری رقومات ادا کرتے ہیں۔ صاف ہے کہ امیدوار ووٹ کی خریداری پر بھاری رقمیں اس لئے خرچ کرتے ہیں تا کہ وہ ہر حال میں جیت کر وہ سیاسی قوت و طاقت حاصل کریں تاکہ سیاست میں مشغول ہوکر دہ اصل رقوم مع سود در سود کمائیں اور اپنی تجوریاں بھرتے رہیں۔ 
جو لوگ ووٹ ڈالنے کے عوض رشوت لیتے ہیںو ہ قوم اور اس کی ترقیاتی پالیسیوںکا مستقبل رہن(گروی)رکھ دیتے ہیں۔ جمہوریت میں ووٹ ایک مقدس حیثیت ہی نہیں رکھتا بلکہ ایک زبردست طاقت بھی رکھتا ہے۔ ۱۹۹۶ء میں صرف ۱۷؍ووٹوں کی اکثریت سے گجرات میں وڈورا سے لوک سبھا کے لئے ایک نوجوان نے جیت حاصل کی اور اسی طرح ۱۹۸۹ء میں بھی صرف ۹؍ووٹوں سے کنڈیڈیٹ کو آندھرا پردیش میں انکا پلی سے لوک سبھا کے لئے منتخب کیا گیا۔ دہلی میں اپنے وقت کے مشہور فلمی اداکار  راجیش کھنہ سے مشہور بی جے پی لیڈر لال کرشن اڈوانی نے صرف ۵۲؍ووٹوںسے جیت حاصل کی تھی۔ ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۴ء میں مہاراشٹر کے الیکشن میں ۹؍مسلم امیدوار صرف ایک ہزار یا اس سے کم کے فاصلے سے ہار گئے اور بی جے پی کے۱۴؍کنڈیڈیٹس نے صرف ساڑھے چارف صد زیادہ ووٹ ملنے پر جیت حاصل کی۔
ووٹنگ کے دن کو پکنک ڈے(Picnic Day) نہ بنائیں:اپنے ملک اوراپنی ریاست کی بقاء کے لئے ووٹنگ کے دن کویومِ جمہوریت کی طرح منانا چاہیے اور صرف ایسے خوامیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالیں جو دولت بٹورنے کی غرض سے نہیں بلکہ خدمت خلق اللہ انجام دینے کے لئے میدان کارزار میں آگے آتے ہیں۔ اپنے قیمتی ووٹ سے انہیں کامیاب بنانے کی کوشش کی جانی چاہیے اور یہ بات گرہ میں باندھئے کہ ووٹ کا جائز استعمال ہمارا سنجیدہ فریضہ ہے، بہ صورت دیگر ہم جمہوری نظام کی طاقت سے محروم ہوجائیں گے۔ کثرت میںوحدت کی شان کی بحالی اور قومی یکجہتی کی برقراری کے لئے ہندوستانی عوام جمہوری نظام کے حق میں روزاول سے ووٹنگ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ر ہے ہیں گے تاکہ ہر طرف تعمیر وترقی اور امن وسکون کا بول بالاہو۔ بقول نیلسن منڈیلا’’ امن کا مطلب صرف لڑائی ختم ہوجانا نہیں ہے۔امن تب ہوتا ہے جب سب خوشحال ہوں، بھلے ہی وہ کسی بھی ذات، مذہب، ملک ، جنس اور سماج کے ہوں‘‘۔ہمیں سمجھناہوگا کہ پورا کارپوریٹ جگت اس مہم میں کیوں لگا ہے اور کیوںلگا ہے یہ اہل شعور وغیور سے چھیا نہیںہے اور اس کا فائدہ کس کو مل رہا ہے آپ کے سامنے ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ اپنے حق رائے دہی کا استعمال اپنی مرضی و ہوش مندی سے کریں بغیر کسی ڈر اور لالچ کے تاکہ جو حکومت بنے وہ عوامی بہبود  کاکام کرے ۔اُتر پردیش کے پچھلے اسمبلی الیکشن میں سماج وادی پارٹی کے ۷۰ ایم ۔ایل۔اے  ۵۰۰؍ یا ۱۰۰۰ ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے اور ۱۶؍ ایم۔ایل۔ اے ۵۰۰۰؍ سے کم ووٹوں کے فرق سے ہار گئے تھے (حوالہ نارائن دت ترپاٹھی سابق بی بی سی رپورٹر،پروگرام یوپی کا مہابھارت این ۔ڈی۔ ٹی۔ وی) ۔
سیکولرووٹوں کی تقسیم،سخت گیر عناصر کی چاندی:الیکشن کا اعلان ہوتے ہی ہمیشہ اَن گنت پارٹیاں سامنے آجاتی ہیں اور سب کی سب غریبوں مسلمانوں کی فلاح وبہبودکادم بھرتی ہیں لیکن ایساہے نہیں، ایسی پارٹیوں اور ضمیر فروشوں کو محض ووٹ بانٹنے کے لئے کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ جو سخت گیر تنظیموں کا مقصد اور ایجنڈا پورا ہوجائے ۔الیکشن کی تاریخوں کا اعلان ہوتے ہی سیاسی حرارت ساتویں آسمان پر ہے، غور کریں کہ اتر پردیش میں ۲۲؍ سیٹوں پر مسلمانوں کی ۲۰ فی صد سے زائد ووٹرس ہیں اور ۶۰ سیٹوں پر ۳۰ فی صد سے زائد ووٹرس ہیں ،ایک درجن سیٹوں پر تو ان کی آبادی ۴۰ سے ۵۲ فی صد تک ہے۔ اس وقت اُتر پردیش میں چھوٹی بڑی پارٹیوں کو ملاکر ۱۰۰ ؍ سے زیادہ پارٹیاں سرگرم عمل ہیں ۔ان میں سب اہم تین چار پارٹیاں ہی ہیں: سماج وادی پارٹی، جس میں گھمسان مچا ہوا ہے۔ بہوجن سماج پارٹی، کانگریس اور بی،جے، پی ۔ بی۔جے۔پی تو کھلم کھلا ہندوؤں کے ووٹ کو ایک جُٹ کرنے میں لگی ہوئی ہے، اس کے لیے وہ کروڑوں روپے خرچ کر کے ریلیاں کرارہی ہے اور سوشل میڈیاجو اس زمانے کا سپریم پاور ہے، اس کا استعمال زبردست طرح سے کر رہی ہے۔بی۔جے۔پی کے یوپی کے ہیڈ کوارٹر میں پور سیل بنا کر سیکڑوں کمپیوٹر اور ٹرینڈ لوگوں کی مدد سے نان اسٹاپ ۲۴؍ گھنٹے کام کر رہی ہے۔این ۔ڈی ۔ٹی ۔ وی کے رپورٹر کمال خان کے مطابق ۸۰۰۰ ؍ سے زیادہ (Whatsapp Group, Twitter, Instagram, You Tube, Telegram) وغیرہ وغیرہ کے ذریعہ زبردست چناؤی پرچار کیا جا رہا ہے جس طرح پچھلے پارلیمنٹ الیکشن میں کیا گیا تھا۔ رواں الیکشن میں اس سے زیادہ تیاری و طاقت سے لگی ہوئی ہے بلکہ لاکھ کے قریب راشٹریہ سویم سیوکوں کو گھر گھرکنوینسنگ کے لئے استعمال کیا جا رہاہے ۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ بتان ِ تمام وہم و گمان کو دل سے نکال کر سوچ سمجھ کر ووٹنگ ضرور کریں اور اپنا حق اسی ووٹ پرچی کے ذریعہ لینے کی کوشش کریں۔آئیے اپنے ملک ، اپنی ریاست اور اپنی ملت کے لئے دعا کریں کہ چار سُو امن وامان ہو، ترقی ہو، ہرشہری کو اس کا حق ملے اور زندگی خوشحال ہو۔
Mob.:09431332338