یونائیٹڈ سکول ٹیچرس ایسو سی ایشن نے تعلیم کو کمرشیلائزکرنے پر تنقید کی
نیوز ڈیسک
کٹھوعہ //جے اینڈ کے یونائیٹڈ سکول ٹیچرس ایسو سی ایشن نے مرکزی و ریاستی سرکار کی جانب سے تعلیم کومبینہ طور سے پرائیویٹ اورکمرشلائزکرنے کی تنقید کی ہے۔ اس سلسلہ میں ایسو سی ایشن کا یہاں ایک جنرل باڈی اجلاس منعقد ہوا ،جس کی صدارت ہری سنگھ ، راجیو کامر، کانتا دیوی اور روپ چند نے کی۔ اس موقعہ پر اپنے خطاب میں صوبائی صدر ہری سنگھ نے مرکزی و ریاستی سرکار کی جانب سے تعلیم کو پرائیویٹ ہاتھوں اور اسے کمرشلائز کرنے کی سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے پبلک سکول تعلیمی نظام کی بنیاد تباہ ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ حُکام سرکاری سکولوں میں تدریسی عملے کے مطالبات کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے،یہاں تک کہ مہینوں تک انکے اجرت بھی ا دانہیں کئے جا رہے ہیں،جسکی وجہ سے اساتذہ کی ایک بڑی تعداد مالی تنگدستی سے جھو جھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہزاروں کی تعداد میں اساتذہ کو غیر اکیڈمک کاموں میں لگایا جا تاہے جس سے تعلیمی نظام متاثر ہو جا تا ہے۔انہوں نے ایس ایس اے کے تحت ہیڈ ٹیچروں کے حق میں ساتواں تنخواہ کمشین معہ بقایاجات کے واگُذار کرنے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر حکام نے انکے مطالبات تسلیم نہیں کئے تو وہ 29-03-2019. کو پریس کلب جموں میں احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ احتجاج میں پردیپ سنگھ ،ذوالفقار علی ملک، شام لعل، اشوک کمار، تھوڑو رام ،رش پال سنگھ ، دھرم پال، ولی محمد ، رتن چند، شمشیر سنگھ ،راکیش کمار، گنیش دت و غیرہ بھی شامل تھے۔
کانگریس کے کشمیری جماعتوں کیساتھ گٹھ جوڑ پر جتندر سنگھ ناخوش
کہا علیحد گی پسندوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے مفاہمت کی گئی
نیوز ڈیسک
کٹھوعہ //مرکزی وزیر ڈاکٹر جیتندر سنگھ نے کانگریس پارٹی پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس نے علیحدگی پسندوں کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے کشمیر المرکوز سیاسی جماعتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے۔ضلع کٹھووعہ کے بلاک کنڈی بلاور میں انتخابی مہم کے تحت اجتماع دسے خطاب کرتے ہوئے ا نہوںنے کہا کہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی قوم پرست طاقتوں کو چلینج اور علحیدگی پسندوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی سازش کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس اور کشمیر پر مرکوز سیاسی پارٹیاں وزیر اعظم نریندر مودی سے خوف محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انہوں نے ملی ٹینٹوں اور انکے حمایتیوں کو سبق سکھانے کے لئے انکے خلاف فیصلہ کن کاروائی شروع کر دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیاں نریندر مودی کی مقبولیت کا موازنہ کرنے میں ناکام رہی ہیںاسلئے انہون نے بوکھجلاہٹ میں ہاری ہوئی جنگ جیتنے کے لئے ناراض عناصر کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے۔گذشتہ پانچ برسوں کے دوران متعدد ترقیاتی کاموں کا شمار کرتے ہوئے انہوں نے کہا انہوں نے اپنے دوور میں ہوئی ترقیاتی کاموں کے ویڈیو سوشل میڈیا پر لگائے ہیں ۔انکے ہمراہ نامور بی جے پی لیڈران میں سابقہ نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ ، پریم ناتھ ڈوگرہ، بی جے پی کے ضلع صدر آشا نند کھجوریہ ،بی جے پی ضلع سیکرٹری کے علاوہ متعدد بلاک و مقامی کارکنوں کے علاوہ سرپنچ اور پنچ بھی تھے۔منشیات اور تمباکو نوشی کی بدعت کے خاتمہ کیلئے تمام سٹیک ہولڈروں کی توجہ مبذول کی ،جو کہ موجودہ نوجوان پیڑھی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔انہوں نے لوگوں کو صحت مند کھانا لینے،باقاعدگی سے مشق کرنے ،تمباکو نوشی ترک کرنے اور اپنے بلڈ پریشر، شوگر اور کلسٹرال لیول کی مانیٹرنگ کی بھی صلاح دی۔مندر کی منیجنگ کمیٹی کے سوامی اومیش آنند ،سوامی وشوا ناتھ ،پنڈت سومناتھ، کمل کمار نے طبی کیمپ منعقد کرنے کی ستائش کی ۔ڈاکٹروجے کمار سانجن ،ڈاکٹردھنیشور کپور،ڈاکٹرسعید رہیلا ،نیم طبی عملے اور رضاکاروں نے بھی کیمپ میں شرکت کی۔
ریاستی گوجروں کا پوسٹل ووٹنگ حق فراہم کرنے کا مطالبہ
نیوز ڈیسک
جموں //جموں و کشمیر کی سب سے زیادہ قبائلی آبادی گوجر طبقہ نے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے ریاست میں 15اپریل کے بعد اور15 اکتوبرسے پہلے اسمبلی انتخاب منعقد کرنے کی صورت میں پوسٹل ووٹنگ حق دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک پریس بیان میں جے اینڈ کے گوجر طبقہ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس دوران انکی آبادی کا بیشتر حصہ موسمی مائیگریشن میں ہوتا ہے۔انہوں نے اس سلسلہ میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی توجہ مبذول کی۔ اس سلسلہ میںطبقہ کا ایک اجلاس زیر اہتمام ٹرائیبل ریسرچ اینڈ کلچرل فائونڈیشن کی جانب سے منعقد ہوا ۔ایک نامور گوجر دانشور ڈاکٹر جاوید راہی نے کہا کہ صدیوں پُرانی روایت کے تحت گوجر /بکروال 15اپریل سے اور15 اکتوبر کے درمیان بالائی علاقوں کی مائیگریشن کے لئے رہتے ہیں۔انہوںنے مزید بتایا کہ گوجر طبقہ آبادی 20 لاکھ ہے ، جو کہ مجموعی طور سے ریاست کی آبادی کا 20فیصدہے۔،جن میں سے بیشتر ابھی بھی بالائی علاقوں کی مائیگریشن کرتے ہیں اور ماہ ستمبر کے آخرمیں واپسی کا رُخ کرتے ہیں، جس میں کم سے کم45دن لگ جاتے ہیں۔اجلاس میں چودھری اشتیاق حمد ،شفیق چودھری، بلال رشید چودھری، مدثر چودھری، اشفا ق شہزاد، شاہد ایوب، عابد الرحمان و دیگران بھی شامل تھے۔
بی ایڈ داخلہ امتحانات منعقد
جموں//جے اینڈ کے بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزامینیشن کی جانب سے بی ایڈ کیلئے داخلہ امتحانات کئے گئے ان امتحانات کیلئے سرینگر اور جموں میں مراکز قائم کئے گئے تھے ۔ سرینگر میں 424 اہل اُمیدواروں میں سے 370 اُمیدواروں نے امتحانات میں شرکت کی ۔ جموں میں 8 اُمیدوار امتحانات کیلئے حاضر ہوئے جبکہ 46 اُمیدوار غیر حاضر رہے ۔ امتحانات کیلئے سرینگر میں بمنہ ڈگری کالج اور امر سنگھ کالج جبکہ جموں میں ایم اے ایم کالج میں امتحانی مراکز قایم کئے گئے تھے ۔ بورڈ کے عہدیداروں نے ان امتحانی مراکز کا دورہ کر کے وہاں انتظامات کا جائیزہ لیا ۔ بورڈ کے اہلکاروں نے امتحانات کے احسن انعقاد میں تعاون فراہم کرنے کیلئے مذکورہ کالجوں کے پرنسپل صاحبان کا شکریہ ادا کیا ہے ۔
اپولو ہسپتال میں گٹھنے بدلنے کا کامیاب آپریشن
جموں //اندر پرستھا اپولو ہسپتال میں 67سال کی عمر کے ایک نائجیریائی شخض کے گھٹنے بدل دینے کا کامیاب آپریشن منعقد کیا گیا ہے۔ایک نائجیریائی باشندہ ڈانملکن نے زندگی میں اپنے پائوں پر چلنے کی امید چھوڑ دی تھی اور اپولو ہسپتال میں گھٹنے بدلنے کے بعد وہ اب وہ آخر کار دوبارہ چلنے کے قابل بن گئی ہے۔ ڈانملکن کو اپنے گھٹنوں میں کافی درد رہتی تھی اور کئی برسوں تک اپنے پائوں سے نہیں چل سکتی تھی، جس کی وجہ سے اسکے گٹھنے بد صورت بن گئے تھے اور گذشتہ چار سال بغیر والکر کے وہ سیدھے طریقہ سے نہیں چل سکتی تھی۔اپالو ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروںنے 21 فروری کو اسکے گھٹنوں کا آپریشن کیا اور ایک نیا اور ایڈوانسڈ طریقہ کار ’’‘Half – Knee Replacement’‘‘ انجام دیا ۔یہ کامیاب سرجری سینئر کنسلٹینٹ ڈاکٹر یش گولاٹی کی ٹیم نے انجام دی ۔ ڈاکٹر یش کے مطابق مریضہ جب انکے پاس پہنچی تو اسکا برا حال تھا ۔ اُسے اپنے دائیں گٹھنے میں کافی درد تھی ،وہ ایک بھی قدم چلنے کی قابل نہیں تھی ۔مریضہ سرجری منعقد کرنے کے بعد آہستہ آہستہ بحال ہوئی اور آپریشن کے دس دنوں کے بعد وہ اپنے وطن واپس چلی گئی ،اب وہ بغیر کسی مدد کے چلنے کی قابل ہے۔