سرینگر// مرکزی حکومت نے پارلیمنٹ میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ دفعہ 370 کو منسوخ کئے جانے کے بعد جموں و کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔کے این ایس کے مطابق بجٹ اجلاس کے دوران منگل کو وزیر مملکت برائے سیاحت پرہلاد سنگھ پٹیل نے ممبر پارلیمنٹ الہارام کارینینٹ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ 5 اگست 2019کے بعد جموں و کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں کمی واقع ہوئی ہے اور اس حوالے سے جموں ڈویڑن کے مقابلے میں یہ اثر وادی کشمیر میں زیادہ محسوس کیا گیا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی مہینوں سے جموں و کشمیر میں سیاحوں کی آمد میں آہستہ آہستہ اضافہ ہونے لگا ہے۔ مرکزی وزیر مملکت نے ایوان کے سامنے اعدادو شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019 کے بعد وادی کشمیر میں کل326,84سیاح اور جموں میں تقریبا 8794837 یاتری اور سیاح آئے جبکہ 100931 سیاحوں نے لداخ یونین ٹریٹری کا رخ کیا۔وزیر موصوف نے کہا کہ مرکزی وزارت سیاحت نے کاریگروں ،ٹور آپریٹرز ، ہاؤس بوٹ مالکان ، ہوٹل اور ریستوراں صنعت کے علاوہ ٹور گائیڈز اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد کی ملازمت چلے جانے کے متعلق سرکاری طور سروے نہیں کی گئی تاہم انہوں نے کہا کہ ہینڈی کرافٹ سیکٹر میں5 اگست 2019 کے بعد نوکریوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں ہوئی ، جبکہ دستکاری کے مختلف کاموں میں مصروف کاریگر اپنا کام کاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور حکومت مختلف اسکیموں کے ذریعے انہیں امداد فراہم کررہی ہے۔ مرکزی سرکار نے کہا کہ جموں کشمیر یونین ٹریٹری انتظامیہ سے انہیں جو تفصیلات فراہم ہوئی ہے اس کے مطابق حکومت نے کووڈ- 19وبائی بیماری کے تناظر میں سیاحت شعبے کے لئے 5.6742کروڑ روپے کا پیکیج جاری کیا جس دوران ہر ایک فرد کو 3 مہینوں کے لئے 1000 روپے فی ماہ فراہم کیا گیا اور اس حوالے سے شکارہ والوں کو فی کس 4880روپے ، مرکبانوں کو 10571روپے ،ٹورسٹ گائیڈز کو1313روپے اور ڈنڈی والوں کو2150.روپے کی امداد فراہم کی گئی جبکہ یہ امداد بعد میں 6 ماہ تک کیلئے بڑھایا گیا جس کے لئے 618.70 لاکھ روپے کو منظوری دی گئی۔