دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے
ایجنسیز
بخارسٹ (رومانیہ)// صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو نے جمعہ کو رومانیہ کی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ بھارت کی ترقی کی داستان میں فعال کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون میں بے پناہ غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے۔بھارت-رومانیہ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے صدر مرمو نے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اقتصادی ترقی مضبوط معاشی بنیادوں، متحرک کاروباری ماحول، ہنر مند افرادی قوت اور اصلاحات کے تسلسل کا نتیجہ ہے۔صدر نے کہا کہ بھارت ٹیکنالوجی، اختراع اور پائیدار ترقی کے میدان میں عالمی رہنما بن کر ابھر رہا ہے اور قابلِ تجدید توانائی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونی کیشن، آٹو موبائل، فارما، بایوٹیکنالوجی، خلائی تحقیق اور فن ٹیک جیسے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یورپ کے سنگم پر واقع رومانیہ اپنی جغرافیائی اہمیت، ہنر مند انسانی وسائل، مضبوط صنعتی صلاحیت اور یورپی یونین سے گہرے انضمام کے باعث بھارت کا ایک فطری اور قابلِ قدر شراکت دار ہے۔ ان کے مطابق رومانیہ نہ صرف سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم منزل ہے بلکہ وسیع یورپی منڈی تک رسائی کا دروازہ بھی ہے۔صدر مرمو نے کہا کہ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، تاہم یہ اب بھی اپنی حقیقی صلاحیت سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کمپنیاں رومانیہ کو یورپی منڈی میں داخلے کے لیے ایک اسٹریٹجک مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہیں، جبکہ رومانیہ کی کمپنیاں بھی بھارت میں نئے کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ دونوں ممالک کی کاروباری برادری ابھرتے ہوئے مواقع کو کامیاب تجارتی شراکت داری میں تبدیل کرے گی اور رومانیہ کی کمپنیوں کو بھارت کی ترقی میں فعال شمولیت اختیار کرنی چاہیے۔صدر نے کہا کہ دونوں ممالک کی کمپنیاں مضبوط سپلائی چین قائم کر سکتی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا کر سکتی ہیں، اختراع کو فروغ دے سکتی ہیں اور عوام کے لیے پائیدار خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔انہوں نے بھارت-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو دونوں فریقوں کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری میں ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تقریباً دو ارب افراد کی مشترکہ منڈی اور 25 کھرب ڈالر کی معیشت پر مشتمل یہ معاہدہ دنیا کے اہم ترین اقتصادی شراکت داریوں میں شمار ہوگا۔صدر نے بتایا کہ بھارت اور یورپی یونین سرمایہ کاری کے تحفظ کے معاہدے (IPA) اور جغرافیائی شناخت (GI) معاہدے پر بھی مذاکرات کر رہے ہیں، جن سے دوطرفہ تجارت مزید مستحکم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایف ٹی اے پر مؤثر اور بروقت عمل درآمد کاروباری اداروں کو مستحکم ماحول فراہم کرے گا۔