بلال فرقانی
سرینگر// ڈائریکٹوریٹ آف مردم شماری آپریشنز جموں و کشمیر اورلداخ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ آئندہ مردم شماری 2027 دو مراحل میں منعقد کی جائیگی، جس میں جدید ڈیجیٹل نظام، خود اندراج(سیلف اینو مریشن)، موبائل ایپلیکیشنز کے ڈریعے ڈیٹا جمع کرنے اور جی ایس میپنگ کا استعمال کیا جائیگا تاکہ درست اور صحیح اعدادوشمار حاصل کئے جاسکیں۔چیف پرنسپل مردم شماری افسر امیت شرما نے جمعرات کو سرینگر میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس قومی عمل کو مؤثر بنانے کیلئے مختلف سطحوں پر انتظامی سرگرمیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ایک وسیع افرادی قوت کو متحرک کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مشق میں تقریباً 25 سے 30 ہزار سپروائزر اور قریب 10 ہزار شمار کنندگان حصہ لیں گے، جبکہ سینئر افسران کو چیف پرنسپل سینسس افسران کے طور پر تعینات کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 220 افسران پہلے ہی عملدرآمد کی نگرانی اور رابطہ کاری میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری کا یہ عمل دو الگ الگ مراحل میں مکمل کیا جائے گا، جن میں ہر مرحلے کے دوران منظم اور سائنسی طریقے سے ڈیٹا جمع کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا یہ عمل روایتی طریقہ کار سے ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں جدید ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی،جس کے تحت مکان شماری( ہاؤس لسٹنگ) کیلئے خصوصی ایپلی کیشن، جی آئی ایس میپنگ، سیٹلائٹ امیجری اور بلاک سطح پر سائنسی منصوبہ بندی کو بروئے کار لایا جائے گا تاکہ ایسے ٹولز کے ذریعے علاقوں کی درست نقشہ بندی کی جاسکے ۔امیت شرما نے بتایا کہ پہلی مرتبہ شہریوں کیلئے آن لائن خود اندراج کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس کے ذریعے لوگ خود اپنی معلومات پورٹل پر آن لائن درج کر سکیں گے جس سے فیلڈ عملے کا بوجھ بھی کم ہوگا اور ڈیٹا کی فوری تصدیق ممکن ہوسکے گی۔۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام نہ صرف آسان ہے بلکہ محفوظ بھی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی اعلیٰ آئینی شخصیات، جن میں صدر، نائب صدر اور وزیر اعظم شامل ہیں، خود اندراج کے عمل میں حصہ لے چکی ہیں، جو عوام کیلئے ایک مثبت مثال ہے۔ مردم شماری افسر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس قومی عمل میں بھرپور تعاون کریں تاکہ مکمل اور غلطیوں سے پاک ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار حکومتی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور ترقیاتی فیصلوں میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے درست معلومات کی فراہمی نہایت اہم ہے۔ڈائریکٹر مردم شماری کے مطابق اس پورے عمل میںشروع سے آخر تک ڈیجیٹل ڈیٹا مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا، جہاں جمع شدہ معلومات کو ملک بھر میں قائم مخصوص ڈیٹا سینٹروںمیں محفوظ اور پروسیس کیا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈیٹا کی تصدیق، جانچ اور حتمی ترتیب مزید مؤثر اور قابل اعتماد بنائی جائے گی۔انہوں نے زور دیا کہ مردم شماری کے اعداد و شمار حکومتی منصوبہ بندی، پالیسی سازی اور ترقیاتی حکمت عملی کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں، اس لیے عوام کا مکمل تعاون نہایت ضروری ہے تاکہ درست اور جامع ڈیٹا اکٹھا کیا جا سکے۔