مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا

  گزشتہ دنوں متحدہ مزاحمتی قیادت نے مخصوص ذہنیت کے مالک ائمہ مساجد اور علمائے کرام کو بروقت فہمائش کی ہے کہ وہ لوگوں میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور انہیں مسلکی بنیادوں پر منقسم کرنے سے احتراز کریں ۔ کچھ عرصہ سے دیکھا جارہاہے کہ بعض عناصر مذہب کے لبادے میںاشتعال انگیز خطابت سے عوام الناس میں نفرتیں اور شبہات پیدا کر کے یہاں کی فضا کو مکدر کر نے کے درپے ہیں ۔ ا س حوالے سے خاص کر سوشل میڈیا کا ناجائز استعمال ہورہاہے ۔ اس سلسلے کو فوراًسے پیش تر روکاجاناچاہیے۔ وادی ٔ کشمیر کو یہ اعزاز و امتیاز حاصل رہاہے کہ یہاں خاصا نِ خدا کے دوش بدوش سماجی اصلاح کاروں، اسکالروں، سخن وروں اور انسان دو ست شخصیتوں نے ہر دور میں اپنے اپنے دائرہ کار میںبیش قیمت انسانی خدمات انجام دے کر خطۂ مینو نظیر کو زریں اقدار کے ساتھ ساتھ مذہبی و راداری سے روشناس کرایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ اہل ِ کشمیر من حیث القوم سال ِ رفتہ کے سیلاب سمیت ہمیشہ قدرت کے غصے، زمانے کی بر ہمی اور نامساعدحالات کی ماریں سہتے ہو ئے بھی زندہ وپائندہ رہی مگر یہ تبھی ممکن ہوا جب متذکرہ سعید روحوں کا خاصا کنٹری بیوشن قدم قدم پہ قوم کے کام آیا۔ ان عظیم محسنین کا قرضہ اہالیان ِکشمیر کے سرہمیشہ رہے گا کہ وہ دین ومذہب کی انسانیت نو از تعلیمات سے جڑگئے اوراس کے پہلو بہ پہلو تہذ یب و فنو ن ، ہنر مندیوںاوردست کاریوں وصنعتوںسمیت ہمچو قسم کی معاشی سرگرمیوں سے بہرہ ور ہوکر اپنی چرب دستی وتردماغی سے دنیا کو متاثر کر کے چھوڑا ۔یوں کشمیریوں نے ایک قابل فخر تشخص کا مقام حاصل کر لیا ۔ حق یہ ہے کہ ان تمام حوالوں سے ہم سب حضرت امیر کبیر شاہ ہمدا نؒ کی اولوالعزم شخصیات سے لے کر شیخ العالم شیخ نور الدین نورانی،سلطان العارفین حضرت شیخ حمزہ مخدوم  ؒ اور بقیہ اولیاء کرام اور صوفیائے عظام تک کی تابناک ہستیوں اور بے لوث خدمات کے زیر با ر احسان ہیں۔ آج کی تاریخ میں ان عبقری شخصیات کے تئیں محبت و عقیدت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتما عی طور ان کے نقوش قدم کی پیروی کر یں اور کشمیر کو ’’پیر وار‘‘ ہونے کے شرف کو دوبالا کر نے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں، لیکن آہ ! ہمارے یہاںہوتا اس کے برعکس ہے ۔ بے عیب سچ یہ ہے کہ ہم ان بر گزیدہ ہستیوں کی حیات آفرین تعلیما ت سے بالفعل منہ موڑےہو ئے من حیث القوم ان کے دکھائے ہوئی راہ سے برگشتہ ہیں۔ اس کی زندہ مثالیں اور واضح ثبوت اور باتوں کے علاوہ ہمارے یہاں کی طبقاتی کشید گی ،مسلکی انتشار اور من وتو کے جھگڑے بھی ہیں ۔ یہ منفی چیزیں اب ایک منظم شکل میں ہمارے اندر کیوں پنپ رہی ہیں، وہ ایک لمحہ ٔ فکر یہ ہے ۔ گو اس سلسلے میں ساراالزام ہمارے اپنے ہی سر آ تا ہے، البتہ خار جی عوامل بھی کشمیریوں کی اجتماعیت اور وحدت توڑ نے کے لئے مختلف طریقوں میں اپنی ریشہ دو انیو ں کا جا ل بچھا تے جارہے ہیں۔ خارجی  سطح پر فعال انتشار پسند قوتو ں کے مکروہ عزائم کا تو ڑ ممکن ہے لیکن اس کا کیا جائے اگرداخلی صفو ں میں متواترخلفشار،نفرتو ں، غلط فہمیو ں ،بغض وعناد کی سوکھی گھا س مسلک اور مشرب کے نام سے ذہنو ںاور قلوب میں جمع کی جا رہی ہو۔ ہم بڑی دیر سے مشرق وسطیٰ سے لے کر پار تک یہ دلخراش مناظر اور اس کے ناکارہ اثرات دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ کس طرح مسلکی تشدد سے برادرکشیاں ہورہی ہیں۔ یہ چاہے یمن ، شام، عراق ہو یا پاکستان کے شورش زدہ حصے، برادرکشی کی مسموم فضائیں ملت کو بلا روک ٹوک پارہ پارہ کر تی جارہی ہیں۔ بایں ہمہ جن قلوب و اذ ہا ن میں خو فِ خدا کی کسوٹی، انسان دوستی کی جنت اور آخرت کی باز پرسی کاعقیدہ جماہوا ہو ، وہ کبھی اسلامی اقدروں کے باغی نہیں ہوسکتے کیونکہ یہی  انہیں براہِ راست بندگان ِخدا سے پیار و محبت سکھاتی ہیں، سچی بند گی کے آ داب سے آشنا کرتی ہیں ، آزادیٔ ضمیر کی راہیں سجھا تی ہیںاور اُلفت و یگانگت کی ڈور میں پروتی ہیں۔بالفاظ دیگر یہ انمول قدریں صالح طبع لوگوں کو آدمیت کی ٹھنڈی چھاؤںمیں مجتمع کر کے انہیں دنیا جہاںکے لئے باعثِ رحمت بناتی ہیں ۔بد قسمتی سے دور جد ید میں مذہب کے ان روح پرور پہلو ؤں کی طر ف متو جہ ہونے اور انہیں عملی زندگی میں اپنانے کی بجا ئے ظاہر پرستانہ مذہبیت یا کٹھ ملائیت کا لبادہ اوڑھنے کو ہی حرف آخر سمجھا جانے لگا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیاکو کبھی فلسطین ، کبھی برما، کبھی شام ، کبھی عراق، کبھی یمن وغیر ہم جیسے دل دہلانے والے مناظر سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔ یہ کتنی ہولناک حقیقت ہے کہ ایک طرف بنی نوع انسان خدا ناشناس وانسان دشمن عنا صر کے ہاتھوں پٹ رہی ہے اور دوسری جانب مذہب ومسلک کے نام نہاد علمبرداروں کے ہاتھوں ب گھٹ گھٹ کر مررہی ہے۔ بلاشبہ اس سارے درد وکرب کا علاج عالم گیر بھائی چارے میں ہے جو اسلام کے دامنِ رحمت سے مشروط ہے مگر افسوس خو د زیادہ تر مسلم ممالک اپنے باہم دگر مسلک اور مشرب کی جارحیت پسندانہ دیواریں کھڑ ی کرنے میں لگے ہیں ۔ کشمیر میں بھی یہ کر یہہ الصورت داستان مختلف انداز سے دہرائی جارہی ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ یہاں مختلف الخیا ل مذہبی اُنجمنیں روزکانفرنسیں اور اجتما عا ت بلا کر لو گو ں کو وحدتِ فکر کے تعلق سے ایک ہو نے اور نیک بننے کی وعظ و نصیحت کر نے میں اپنی ساری قوت گویا ئی صرف کر رہی ہیں ، لو گو ں کو مذہبی پلیٹ فارموں سے اتحاد و بھائی چا رے کے اپدیش بھی دئے جارہے ہیں ۔ یہ صلح جویانہ کاوشیں قابل صدتعظیم ہیںلیکن اس کا کیا کیجئے کہ بعض فتنہ پرور اور ناعاقبت اندیش عنا صر انہی پلیٹ فارموں سے مسلک ومشرب کے نام سے کچھ ایسی زہر ناک چا لیں چل رہے ہیں جن کا منطقی انجام عوامی اتحا د و یگانگت میں رخنہ اندازی اور تفرقہ بازی ہی ہو سکتا ہے۔ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی بلکہ سرکوبی ہونی چاہیے۔ کشمیر ایک عرصہ سے نامساعد حالات سے متاثرہ سرزمین ہے ا س لئے یہاں لوگوں میں مسلک اور مکتب ِ فکر کی آڑ میںانتشار پھیلانے والی حر کا ت کا توڑ کرنے کے لئے عوام الناس میں اخوت ومحبت کی مشعل فروزاں کرنے کی مخلصانہ پہل کرناایک مستحسن کام بلکہ وقت کی نا گزیر ضرورت ہے۔یہ بات نہیں بھولی جانی چاہیے کہ جس کشمیری قوم کو حالا ت و حوادث کی چوٹیں مسلسل سہنے کے با وجود تاریخ میں راسخ العقیدہ،وسیع المشرب اور کثر ت میں وحدت دکھانے کا شر ف حا صل رہا ہے، اسی میں کچھ مٹھی بھر لوگ منبر ومحراب سے لے کر سماجی رابطے کی سائٹوں کی مدد سے سماج میں اختلال اوانتشار کی تخم ریزی کر تے پھریں۔ اس لئے مستند علماء، معتبر اسکالروں، اہل دانش اور قوم کے بہی خواہ حقیقی قائدین پر لازماًیہ ذمہ داری عائدہو تی ہے کہ وہ عوام الناس میں دینی اُخوت و محبت کی خوشبو پھیلائیں، عوام میں غلط فہمیاں پھیلانے والو ں کی حوصلہ شکنی کر یں، خدمت خلق اللہ کے حوالے سے فراموش شدہ اسلامی تعلیمات کو از سر نو زندہ کریں اور تمام مکاتب ِفکر اپنے اپنے دائر ہ اثر میں ملی اتحادا ور قومی یکجہتی کو فروغ دیں۔ یہی وقت کی اشد ضرورت ہے۔