مذہبی مقامات کی بحالی کا اعلان مستحسن

 جموں وکشمیر یونین ٹریٹری کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے اتوار کو اننت ناگ کا دورہ کیا اور مٹن کے قدیم مارتنڈسوریہ مندر میں نوگراہ آستھا منگلم پوجا میں حصہ لیا۔ اس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر نے ثقافتی اور روحانی اہمیت کے حامل قدیم مقامات کی حفاظت اور ترقی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموںوکشمیر متنوع مذہبی اور ثقافتی اثرات کا گھر ہے اور ملک میں علم کا مرکز ہے اورہم جموںوکشمیر کے تاریخی روحانی مقامات کو متحرک مراکز میں تبدیل کرنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں جو ہمیں نیکی کی راہ پر گامزن کریں گے اور اِس خوبصورت سر زمین کو اَمن ، خوشی اور خوشحالی سے نوازیں گے۔جہاں تک مارتنڈ سوریہ مندر کا تعلق ہے تو آٹھویں صدی کایہ مندر ہندوستان میںسوریہ منادر میں سب سے قدیم ہے اور انمول قدیم روحانی ورثے کی علامت ہے۔لیفٹیننٹ گورنر کا اس قدیم اور تاریخی مندر کا دورہ اور وہاں پوجا پاٹھ میں حصہ لینا اس بات کا اعلان ہے کہ موجودہ حکومت جموںوکشمیرمیں قدیم مذہبی مقامات کی شان رفتہ بحال کرنے میں سنجیدہ ہے ۔چونکہ منوج سنہا نے اس تقریب میں واضح الفاظ میں کہاہے کہ روحانی اہمیت کے حامل سبھی قدیم مقامات کی بحالی و ترقی کیلئے کوششیں تیز کی جائیں گی تو ایسے میں یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ جموں وکشمیر چونکہ مخلوط تمدن کا گہوارہ ہے اور یہاں ہندو ،مسلم ،سکھ صدیوں سے آپسی بھائی چارہ کے ساتھ رہتے آئے ہیں تو حکومت سبھی مذاہب کے مقدس مقامات کی بحالی اور فروغ کو ترجیح دے گی ۔جہاں تک ہندو مذہب کا تعلق ہے تو اس میں کوئی دورائے نہیں کہ کشمیر سے لیکر کٹھوعہ تک یہاں ایسے تاریخی مذہبی مقامات ہیں جو حالات کے جبر کا شکار ہوکر یا تو ویران ہوچکے ہیں یا پھر اپنی شان رفتہ کھو چکے ہیں۔اس ضمن میں پہلگام، اونتی پورہ ،مانسبل اور پٹن میں موجود قدیم مذہبی مقامات کی زبوں حالی مخلوط تمدن پر یقین رکھنے والے ہر ذی حس شہری کو خون کے آنسو رلانے پر مجبور کردیتی ہے ۔اس بات سے انکار نہیں کہ یہ مقامات آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے تحت ہیں اور ان کی دیکھ ریکھ اور بحالی متعلقہ محکمہ کی ذمہ داری ہے تاہم یہ بھی ایک کھلی حقیقت ہے کہ ان سبھی مقامات پر آرکیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے بورڈ تو لگے ہوئے ہیں لیکن ان کی حالت بدلنے کا نا م نہیں لے رہی ہے ۔اسی طرح مسلم طبقہ کے بھی درجنوں مذہبی و روحانی مقامات ایسے ہیں جو فوری حکومتی توجہ کے طلبگار ہیں اور جو حالات کے جبر کی وجہ سے یاتو غیر آباد ہوچکے ہیں یاپھر کئی معاملات پر ایسے مقامات پر ناجائز قبضہ بھی کیاگیاہے ۔مسلم مذہبی مقامات وقف بورڈ کے تحت آتے ہیں اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ جموں سے لیکر کشمیر تک وقف کی سینکڑوں کنال پر ناجائز قبضہ کیاجاچکا ہے اور آج تک مقبوضہ وقف املاک کی بحالی کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تاہم یہ امر اطمینان بخش ہے کہ موجودہ وقف چیئرپرسن ڈاکٹر درخشاں اندرابی وقف املاک کے تحفظ اور بحالی میں سنجیدہ ہیں۔اُن کے حالیہ بیانات اس حوالے سے انتہائی حوصلہ افزاء ہیں اور اگر قول کو فعل میں تبدیل کیاجائے تو وقف املاک کی بایابی اور بحالی یقینی بنانے میں دیر نہیں لگے گی ۔اب جہاں تک سکھ طبقہ کے مذہبی مقامات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بھی عا م فریادیہ ہے کہ سکھوں کے کئی مذہبی مقامات فوری سرکاری توجہ کے طلبگار ہیں۔ہمارا ملک ایک سیکولر جمہوری ملک ہے اور یہاں تمام مذاہب سے وابستہ لوگوں کو اپنے مذہبی فرائض انجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہے بلکہ حکومت ہر مذہب کے لوگوں او ر انکے مذہبی مقامات کی محافظ ہے ۔اس صورتحال میں حکومت کی یہ منصبی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مذہبی مقامات کا تحفظ اور ان کی ترقی یقینی بنائے ۔اب جہاں تک ہمارے جموں وکشمیر کا تعلق ہے تو یہ ہمارے ملک ہندوستان میں ہی ایک چھوٹاہندوستان ہے جو پھولوں کا ایک ایسا گلدستہ ہے جس میں رنگ برنگے پھول لگے ہیں۔صوفی روایات کیلئے مشہور جموں وکشمیر میں مذہبی رواداری کی مثالیں دی جاتی ہیں اور یہاں جس طر ح مختلف مذاہب کے لوگ مکمل ہم آہنگی کے ساتھ صدیوں سے رہتے آئے ہیں ،وہ اپنی مثال آپ ہے اور اُسی میل ملاپ کو کشمیریت کا نام دیاگیا ہے ۔کشمیر کی خوبصورتی یہاں کے لوگوں کے ساتھ یہاںکے مذہبی مقامات سے بھی ہے اور یہاں مساجد ،منادر اور گردواروں کی ایک ساتھ موجودگی یہاں کی خوبصورتی کو دوبالا کردیتی ہے ۔آج کل چونکہ حکومت سیاحت کو فروغ دینے میں منہمک ہے اور آئے روز نئے نئے سیاحتی مقامات کو سیاحتی نقشہ پر لایا جارہا ہے تو وقت آچکا ہے جب سرکار کو مذہبی سیاحت کا باضابطہ سرکٹ جموں وکشمیر میں قائم کرنا چاہئے ۔اگر سبھی برادریوں کے تاریخی مذہبی مقامات کی شان رفتہ بحال کی جاتی ہے تو اس سے نہ صرف کشمیر کو مخلوط تمدن کے ایک اعلیٰ نمونہ کے طور ملکی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کیا جاسکتا ہے بلکہ سیاحتی نقشہ پر ایسے بیسیوں مقامات کو بھی شامل کیاجاسکتا ہے جن سے نہ صرف جموںوکشمیر کی سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ کشمیریت کا عملی نمونہ بھی دیش اور دنیا کے سامنے رکھاجاسکتا ہے ۔امید کی جاسکتی ہے کہ اس ضمن میں فوری اور ٹھوس پیش رفت ہوگی۔