سرینگر//کشمیر وادی میں آتشزدگی کے واقعات میں اضافہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو گذشتہ5 برسوں کے دوران ٹول فری نمبر پرآگ سے متعلق13ہزار 691فون کالز موصول ہوئی ہیں اور سالانہ 1800سے زائد آگ کی واراتیں رونما ہوتی ہیں۔محکمہ میں موجود ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ سال2016سے فروری 2021تک وادی میں آگ کی وارداتوں کے دوران کل 9158 ڈھانچے متاثر ہوئے جس دوران شہریوں اور جانوروں کی 252 ہلاکتیں ہوئیں اور 103افراد زخمی ہوئے ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ ان برسوں کے دوران آگ کی وارداتوں میں 2067دکانیں ،274شاپنگ کمپلیکس، 432گاڑیاں اور750بجلی ٹرانسفارمر تباہ ہوئے ۔اعدادوشمار کے مطابق اس عرصہ کے دوران 132جنگلات میں آگ لگی اور آگ سے 34نرسریاں بھی متاثر ہوئیں ۔ 3539.3کروڑ روپے کی املاک آگ کی وارداتوں کی زد میں آئی، جس میں 349.67کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا ۔محکمہ نے بتایا کہ ان برسوں کے دوران 3189.63کروڑ کی املاک کو بچا لیا گیا ۔ ا عدادوشمار کے مطابق سال2016میں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو 3548فون کال موصول ہوئیں ۔ اسی سال 2204ڈھانچوں کو نقصان پہنچا اور 37 انسانی وجانور وں کی جانیں ضائع ہوئیں اور 39 زخمی ہوئے ۔ اس سال505دکانیں اور 68شاپنگ کمپلیکس تباہ ہوئے اور120گاڑیوں اور146بجلی ٹرانسفارمروں کو بھی نقصان پہنچا ۔
اسی سال48جنگلی علاقوں کو آگ سے نقصان ہوا ۔محکمہ نے بتایا کہ اس سال 924.76کروڑ کی املاک زد میں آئی جس میں سے 87.41کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور 837.35کروڑ کی املاک کو آگ سے بچا لیا گیا ۔اعدادوشمار کے مطابق سال2017میں 2914فون کالز موصول ہوئیں، 1888ڈھانچے متاثر ہوئے اور38جانوں کا ضیاں ہوا جبکہ 35افراد زخمی ہوئے، 423دکانیں اور 60شاپنگ کمپلیکس تباہ ہوئے جبکہ 100گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور 125بجلی ٹرانسفارمر تباہ ہوئے ۔اعدادوشمار کے مطابق20جنگلات اور 13نرسریوں میں آگ لگی ۔2017میں کل 647.18کروڑ کی املاک آگ کی زد میں آئی جس میں سے 64.33کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور582.85کروڑ کی املاک کو بچا لیا گیا ۔2018میں 2741فون کالز موصول ہوئیں ، جس دوران 1800ڈھانچوں کو نقصان پہنچا، 64جانیں ضائع ہوئیں اور11افراد زخمی ہوئے ۔ 364دکانیں اور50شاپنگ کمپلیکس کو نقصان پہنچا ، 59گاڑیوں اور 216بجلی ٹرانسفارمروں کو نقصان پہنچا ۔ 34جنگلات اور 15نرسریوں کو بھی اس آگ کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے ۔محکمہ کے مطابق اس آگ کی وجہ سے 534.33کروڑ کی املاک زد میں آئی جس میں سے 67.02کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور 457.15کروڑ کی امکاک کو آگ سے بچا لیا گیا ۔2019میں محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروس کو 1812فون کال موصول ہوئی ہیں جس دوران 1409ڈھانچوں کو نقصان ہوا ۔محکمہ کا کہنا ہے کہ اس دوران 45جانیں ضائع ہوئیں اور 8افراد زخمی ہوئے ۔محکمہ نے بتایا کہ 426دکانیں 46 شاپنگ کمپلیکس 72گاڑیاں 91بجلی ٹرانسفارمر بھی تباہ ہوئے جبکہ 11جنگلات اور 3نرسریوں کو اس وجہ سے نقصان پہنچا ۔
اعداوشمار کے مطابق 705.06کروڑ کی املاک متاثر ہوئی ۔جس میں سے 65.14کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور 639.92کروڑ کی املاک کو بچا لیا گیا ۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سال2020میں محکمہ کے ٹول فری نمبر پر کل 2336فون کالز موصول ہوئیں ، 1578ڈھانچوں کو نقصان پہنچا ، 64جانیں ضائع ہوئیں اور پانچ افراد زخمی ہوئے ۔اعدادوشمار کے مطابق 322دکانیں متاثر ہوئیں،39شاپنگ کمپلیکس تباہ ہوئے، 73گاڑیوں کو نقصان پہنچا ،145بجلی ٹرانسفارمر تباہ ہوئے، 19جنگلات اور 3نرسریوں کو نقصان پہنچا ۔محکمہ کے مطابق 512.78کروڑ کی املاک اس کی زد میں آئیں جس میں سے 55.63کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور 457.15کروڑ کی املاک کو بچا لیا گیا ۔رواں سال یعنی 2021 فروری کے مہینے تک محکمہ کو کل 340فون کالز موصول ہوئیں، جس دوران 279ڈھانچوں کو نقصان پہنچا، 4جانیں ضائع ہوئیں اور 5افراد زخمی ہوئے ۔ 47دکانیں اور 11شاپنگ کمپلیکس تباہ ہوئے ، 8گاڑیاں اور 27بجلی ٹرانسفارمر تباہ ہوئے ، 215.19کروڑ کی املاک اس کی زد میں آئیں اور10.14کروڑ کی املاک کو نقصان پہنچا اور 205.05کروڑ کی املاک کو بچا لیا گیا ۔ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز کو آگ کے واقعات کا تجزیہ کرنے اور عمومی اسباب کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے اور اس بنیاد پر لوگوں کو ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کیلئے عوامی حساسیت کی مہم چلائی جاسکتی ہے۔ محکمہ حکومت کو یہ بھی بتا سکتا ہے کہ مکانات بنانے ، بجلی کی لائنیں بچھانے،کھانا پکانے اور حرارتی گیس جیسی چیزوں کا استعمال کرتے ہوئے کچھ ضابطوں پر عمل کرکے اس طرح کے واقعات کو کیسے روکا جاسکتا ہے ۔ انتظامی سربراہان کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ آگ کے اس طرح کے واقعات کی مختلف وجوہات کو ایک ایک کرکے ختم کیا جائے۔ حکومت کی ذمہ داری بھی یہ ہے کہ وہ متاثرہ افراد کی خاطر خواہ مدد کرے۔