اللہ نے امت مسلمہ کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے،انہیںنعمتوں میں سے رمضان المبارک کا مہینہ بھی ایک بڑی نعمت ہے ۔ اسی ماہ مبارک میں اللہ نے قرآن کریم بھی اُمت مسلمہ کو عطا کیا۔ کلام مجید میں پوری انسانیت کے لئے ہدایت کاسامان تمام زمانوں کے لئے موجود ہے۔ آں حضور ﷺ رمضان کے خزانوں سے فیض یاب ہونے کے لئے صحابہ کرام ؓ کو مہینوں پہلے ذہنی، جسمانی اور رُوحانی طور تیار فرماتے تھے تاکہ ان کو ماہ رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں حاصل ہو جائیں اور وہ اپنے رب کے ہاں سر خروئی حاصل کریں ۔انشاء اللہ چند روز کے بعد ہی ایک دفعہ پھر رمضان المبارک کا مہینہ ہمارے اوپر سایہ فگن ہوگا اور ہم اللہ کے فضل واحسان سے اس ماہ کی گوناگوں رحمتوں سے مالا مال ہوجائیں گے ۔ اس ماہ کی برکتوں کا شماراپنی زبان سے نہیں کرسکتے اس لئے کہ ہماری زبان اور ہمارے الفاظ میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ ہم ماہ پاک کے بیان کا حق ادا کرسکیں ۔ ماہ رمضان المبارک کی ہرساعت ہر لمحہ مبارک وسعادت ہے اور اس کا ہر پل رحمت کا سایہ ہے ۔اس ماہ میں اللہ نے اپنے حبیب ﷺ پر قرآن نازل فرمایا جو عملی زندگی میں ہمیں حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے میں مفصل و مدلل رہنمائی دیتی ہے ۔ کتاب اللہ میں دنیا کے سارے انسانوں کے لئے اور تمام زمانوں کے لئے کافی وشافی ہدا یت ہے ۔ نیز رمضان المبارک مغفرت کا مہینہ ہے کہ یہ مہینہ گناہوں کو جلانے والا مہینہ ہے ۔کتنے خوش نصیب ہیں وہ لوگ ، جو اس ماہ مبارک کو پالیں اور پھر اس ماہ کی برکات ونعمات حاصل کریں ۔ ماہ مقدس اہل ایمان کے لئے یہ پیغام لے کر آتا ہے کہ جو الکتاب اس ماہ میں حضورﷺ پر نازل کی گئی ،اس کتاب کا مقصد یہی ہے کہ اس کتاب کو نافذکیاجائے تاکہ زمین پر حقیقی امن وآشتی قائم ہوسکے ۔ ماہ رمضان کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنے پوشیدہ خزانوں کا روزہ دار پر نزول ہوتا ہے کہ نفل اعمال صالحہ بھی فرض اعمال کے درجہ کو چھوتے ہیں اور فرائض اجرو ثواب کے معنوں میںستر گنا زیادہ وزنی ہوجاتے ہیں ۔ رمضان المبارک جب شروع ہوجاتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں او ر دفعتا ً عالم اسلام پررحمتوں کی بارشیں شروع ہوتی ہیںیہاں تک کہ عمل کی سوکھی کھیتیاں لہلاتی ا ٹھتی ہیں اور اسی مناسبت سے جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور لوگوں کو نیکیوں پر چلنے کی توفیق عام ہوجاتی ہے ۔اس دوران شیطانوں کو زنجیروں میں بندھا رکھا جاتا ہے۔ نبیﷺ نے اس شخص کو جو رمضان المبارک میں پورے ذوق وشوق سے روزے رکھے، یہ بشارت عظمیٰ دی ہے کہ اس کے سارے اگلے پچھلے گنا ہ معاف کر دئے جاتے ہیں اور ایسا شخص جو ایمان اور احتساب کے ساتھ شب قدر میں قیام کرے اس کے سبھی گناہ بخش دئے جاتے ہیں ، شرط یہ ہے کہ اسے اپنے رب پر پورا یقین ہو۔ چونکہ اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے ماہ رمضان المبارک ایک بیش بہا نعمت ہے، اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ خدا کے اس انعام کی قدر کریں اور اللہ سے دعا کریں کہ اللہ انہیں توفیق عطا فرمائے کہ وہ رمضان المبارک کے خیر کثیر کو حاصل کریں ۔ ماہ رمضان المبارک نظم و ضبط کا بے مثال درس دیتا ہے۔ ایک ہی وقت میں رات کے دوران سحری کا حکم بجا لایا جاتا ہے، نرم اور گرم بستر کو چھوڑنا پڑتا ہے اور پھر نفل نمازوں کا اہتمام ہوتا ہے اور پھر سحری کھانے کے بعد نماز فجر کے لئے تیار ہونا پڑتا ہے ۔ کوئی کسی کو فورس نہیں کرتا اور نہ ہی کوئی کسی پر زبردستی کرتا ہے بلکہ بندگان ِ خدا یہ صرف اللہ کی رضا کیلئے کرتے ہیں ، پھر سحری کھا کر روزہ دارکوپورے دن فاقہ کشی کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ سب اللہ کا حکم بجا لانے کی نیت سے ہی کیا جاتا ہے اورپھر مغرب کے وقت اللہ کے نیک بندے روزہ افطار کرتے ہیں ۔ یوں ایک ایسا روح پرور مسلم معاشرے کے اَنگ اَنگ میںنئی جان ڈال دیتا ہے ۔ خاص کروہ فرحت کا سماں قابل دید ہوتا ہے جب اپنے رب کو راضی کرنے کے لئے روزہ دار بندے مسجد میں اجتماعی طور افطار کرتے ہیں اور پھر نماز مغرب با جماعت اداکرکے گھروں کو لوٹتے ہیں او ر کچھ دیر مغرب اور عشاء کے درمیانی وقفے کے بعد نماز عشاء کی ادائیگی کے لئے مسجد کا رُخ کر تے ہیں ، پھر عشاء کے بعد نماز تراویح ادا کر کے عبادت کے توسل سے نفس اَمارہ اور نفس لوامہ کے تقاضوں پر قابو پاتے ہیں ۔ اس دوران بھی تسبیحات کا ورد کیا جاتا ہے ۔ غرض فہم وشعور کے ساتھ اگر روزوں کا حق اداکیا جائے تو انشاء اللہ ہماری زندگیا ں بدل سکتی ہیں ۔اس تبدیلی کو ممکن بنانے کے لئے ہمارے لئے ضروری ہے کہ قرآن کریم کو خود سمجھیں ، ا س پر عمل کریں اور دوسروں تک ا س کا پیغام پہنچائیں جو کہ نزولِ قرآن کا اصل مقصد ہے ۔ آج ہمیں اُمت مسلمہ ہر جگہ تفرقات اور تشدد کے دلدل میں دھنسی نظر آرہی ہے جس سے نکل باہر آنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے تھام لیں اور اللہ کے رسول برحقﷺ کی تعلیمات کو عام کریں ، ذلت وادبارسے بچنے کے لئے سعی وجدکریں اور حق کے غلبہ انفردای اور اجتماعی طور مستعد ہوجائیں ۔ رمضان المبارک کے روزے ہم میں انہی صفاتِ تقویٰ کو پیدا کر نے اور خدا وبندگان ِ خدا سے محبت میں ڈوب جانے کی راہ سجھاتا ہے ۔ اللہ سے دعاہے کہ ماہ رمضان کے طفیل ہماری مغفرت ہوجائے ۔
رابطہ 9596483484