کشمیرمیں سالانہ 51000ٹن استعمال،صحت افزا مقامات اور جنگلات متاثر، دریا اور آبی ذخائر زہر آلود
سرینگر /عظمیٰ نیوز سروس/پوری دنیا میں 5جون کو ماحولیات کا عالمی دن منایا جاتا ہے اور امسال اقوام متحدہ نے اس دن کیلئے’’ پلاسٹک آلودگی کو ہٹائو‘‘ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پوری دنیا میں سالانہ 400ملین ٹن پلاسٹک کا استعمال ہورہا ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں سے 200ملین ٹن پلاسٹک صرف ایک ہی بار استعمال کیا جاتا ہے اور یہ پوری دنیا میں ا ٓلودگی کی بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر صوبے میں ہر سال 51ہزار ٹن پلاسٹ کا گندا مواد پیدا ہوتا ہے۔ اس کی بڑی وجہ شہری ترقی، صارفین کی بدلتی عادتیں اور گندگی کو صاف کرنے کا ناقص نظام ہے۔ کشمیر صوبے کی ہر گلی اور کوچے میں پلاسٹک کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں اور یہ پلاسٹک کے ڈھیر تہواروں کے موقعوں پر زیادہ نظر آتے ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں شعبہ ماحولیات کے طالب علم اعجاز احمد کہتے ہیں کہ پلاسٹ کا جو کوڑا نکلتا ہے ، مشکل یہ ہے کہ اس کوڑے کو کہاں پر جمع کیا جائے۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ روزانہ نکلنے والے پلاسٹک کو ختم کرنے کیلئے بنیادی ڈھانچے کی ضرور ہوتی ہے لیکن یہاں اس کیلئے کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے ۔ اعجاز کا کہنا ہے کہ یہی وجہ سے یہاں ہر گلی کوچے میں پلاسٹک کے ڈھیر جمع ہوتے ہیں اور بیرون ریاستوں کے خاکروب صبح سویرے یہ پلاسٹ جمع کرکے ٹھیکیداروں کو بھیجتے ہیں جو مختلف کمپنیوں تک استعمال شدہ پالی تھین اور پلاسٹک پہنچاتے ہیں۔اسی پالی تھین اورپلاسٹ کی ری سیکلنگ کر کے ان سے دوبارہ رنگین پالی تھین اور پلاسٹک بناکر اس ے برتن بنائے جاتے ہیں۔ بند بوتلوں میں موجود پانی اور جنک فوڈ کی پیکنگ میں یہی پلاسٹ استعمال ہوتا ہے جو بعد میں بیماریاں پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں و کشمیر میں سالانہ 10ہزار لوگ ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے مختلف بیماریوں کا شکار ہوکر فوت ہوجاتے ہیں۔ پولی تھین بیگز اور سنگل یوز پلاسٹک پر مکمل پابندی کے باوجود، ان غیر بایوڈیگریڈیبل اشیا کا کھلے عام استعمال ہو رہا ہے، اس طرح جموں و کشمیر کے بہترین ماحول کو آلودہ کیا جا رہا ہے۔ایک اندازے کے مطابق جموں و کشمیر میں سالانہ 50,000 ٹن سے زیادہ پولی تھین اور پلاسٹک کا فضلہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم، ماخذ پر پلاسٹک کو جمع کرنے اور الگ کرنے کے سائنسی عمل کی عدم موجودگی میں، غیر بایوڈیگریڈیبل اشیا، خاص طور پر پولی تھین، کو آبی ذخائر، لینڈ فلز اور جنگلاتی علاقوں میں پھینک دیا جاتا ہے- جو ماحول کو گھٹانے اور آلودہ کرتے ہیں۔ گلیشیرز، پہاڑ، جنگلات اور آبی ذخائر بنیادی طور پر کوڑا کرکٹ کے غیر سائنسی ڈمپنگ کی وجہ سے جموں و کشمیر میں انتہائی آلودگی سے نبردآزما ہے۔ آلودگی کو روکنے کے لیے، جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے پالی تھین بیگ کے داخلے، استعمال اور فروخت پر خاص طور پر سیاحتی مقامات اور صحت کی دیکھ بھال کرنے والے اداروں میں مکمل پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم، حکام زمین پر حکم پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے بعد 18 جون، 2008 کو، جموں و کشمیر حکومت نے نان بائیوڈیگریڈیبل میٹریل(مینجمنٹ، ہینڈلنگ اور ڈسپوزل) ایکٹ، 2007 کے تحت ایس آر او 182 جاری کرکے تمام قسم کے پولی تھین بیگز پر پابندی لگا دی۔ لیکن، یکے بعد دیگرے حکومتیں اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہیں۔