مائیگرنٹ جائیداد کے تحفظ کا قانون

سرینگر// سرکار نے محکمہ آفات سماویٰ انتظام،ریلیف و باز آبادکاری محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہاجرین کی جانب سے ریکارڈوں و نشاندہی کی درستگی،تجاوز ات کو ہٹانے اورزبردستی قبضے کے خلاف شکایات درج کرنے کیلئے آن لائن پورٹل تیار کرے۔ محکمہ مال کے پرنسپل سیکریٹری شالین کابرا کی جانب سے جاری حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ جموں کشمیر مہاجرین غیر منقولہ جائیداد(تحفظ،حفاظت) مجریہ1997 نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی جائیداد کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔انکا کہنا ہے کہ اس دفعہ کی کئی شقیں غیر منقولہ جائیداد،زبردستی قبضے کیلئے اقدامات فراہم کرتا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ تاہم اس قانون کا جس انداز سے اطلاق ہونا چاہے تھا وہ نہیں ہوا،اور یہ بات سامنے آئی کہ مہاجرین کی جائیداد میں ضوابط کو نذر اندز کیا جا رہا ہے۔ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ ایس ائو1229(ای) محررہ31مارچ2020(ریاستی قوانین کا اطلاق) کے دفعہ 6کی شق 2 کی  زیلی کو حذف کیا جاتا ہے اور اس میں’’ حکام مہاجرین کے غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات اس طرح فارمیٹ میں مرتب کریں،جس طرح مہاجرین جائیداد کی غیر قانونی قبضے کے خلاف معقول کارروائی عمل میں لائی جائے‘‘۔حکم نامہ میں  سرکار نے محکمہ آفات سماویٰ انتظام،ریلیف و باز آبادکاری محکمہ کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہاجرین کی جانب سے ریکارڈوں و نشاندہی کی درستگی،تجاوزات کو ہٹانے اورزبردستی قبضے کے خلاف شکایات درج کرنے کیلئے آن لائن پورٹل تیار کرے۔مزید کہا گیا ہے کہ پورٹل پر درج درخواست کو محکمہ مال عوامی خدمات ضمانتی قانون کے تحت معیاد بند وقت میں پائے تکمیل تک پہنچایا جائے۔ مزید کہا گیا ہے کہ با اختیار حکام(ضلع مجسٹریت) سروے کرے اور مہاجرین جائیداد کی جانچ کریں اور اس کو15دنوں کے اندر تمام رجسٹروں میں درج کریں،جبکہ صوبائی کمشنر کو تعمیلی رپورٹ پیش کرے۔ حکم نامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ  با اختیار حکام(ڈسڑک مجسٹریٹ) مذہبی جائیداد سمیت  اس قانون کی خلاف ورزی کا نوٹس لے،اور قبضے کو ہٹانے کیلئے بروقت کارروائی عمل میں لائے۔محکمہ مال کے افسراں کو یہ کیس ترجیجی بنیادوں پر نپتانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
 
 

جون تک 98ہزار کشمیری مہاجر پنڈتوں کو ڈومیسائل جاری

بلال فرقانی
 
سرینگر//جموں و کشمیر کے98ہزارسے زائد کشمیری مہاجرین کو جون کے آخر تک ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں۔ حکام نے بتایا کہ نقل مکانی کرنے والے کشمیری پنڈتوں کو 90ہزار430ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ، جبکہ مہاجرکشمیری پنڈتوں کے 2ہزار340خاندانوں کو تازہ مہاجر کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔ ان میں سے 8170 افراد نے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ حاصل کئے ہیں۔اسی طرح جموں و کشمیر سے باہرپاکستانی زیر انتظام جموں و کشمیر سے نقل مکانی کرنے والے 2ہزار898خاندانوں کو بھی رجسٹر کیا گیا اور انہیں ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ریلیف اینڈ باز آبادکاری کمشنر ٹی کے بھٹ ، نے کہا کہ یہ عمل گزشتہ سال جولائی میں شروع ہوا تھا۔انکا کہنا تھا کہ کوئی بھی کشمیری پنڈت اور مہاجر شخص ، جو آزادی سے پہلے 1944 میں کشمیر چھوڑ چکا ہو اور 1944 کو یا اس کے بعد جموں و کشمیر کے کسی بھی حصے میں غیر منقولہ جائیداد کے مالک ہونے یا رکھنے کا ثبوت رکھتا ہو ، وہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کے ڈومیسائل کا حقدار ہے۔پچھلے سال 16 مئی کو ، جموں و کشمیر انتظامیہ نے کشمیری تارکین وطن اور مہاجرین کے لئے ’’تازہ رجسٹریشن‘‘ دوبارہ کھولنے کا فیصلہ لیا جس نے جموں کشمیرسے نقل مکانی کرنے والے حقیقی لوگوں کو شامل کرنے کی راہ ہموار کی۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، راحت ، بحالی اور تعمیر نو کے محکمہ نے گزشتہ سال 16 مئی کو کہا تھا’’بونافائیڈ مہاجر اور بونافائیڈ بے گھر افراد جو ابھی تک ریلیف و باز آبادکارین کمشنر (مہاجر) ، جموں و کشمیر میں رجسٹرڈ نہیں ہیں ، صرف ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے رجسٹریشن کے لیے مجاز اتھارٹی کے سامنے درخواست دے سکتے ہیں۔‘‘