نئی دہلی//(یواین آئی)کانگریس نے معیشت اور مجموعی داخلی پیداوار(جی ڈی پی ) میں گراوٹ کے تعلق سے وزیراعظم نریندر مودی کے جواب پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سمجھ لینا چاہئے کی ملک 'لچھیدار بھاشن 'سے نہیں بلکہ گورننس سے چلتاہے ۔ کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والانے صحافیوں سے کہا کہ ملک کی معیشت مسلسل گررہی ہے اور پچھلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں بڑی گراوٹ درج کی گئی۔برآمدات میں کمی آرہی ہے اور زرعی پیداوار کی برآمدات نہیں ہورہی ہے ۔بینکوں کا غیرفعال اثاثہ(این پی اے ) سات دہائیوں میں سب سے اونچی سطح پر پہنچ گیا ہے اور کئی بینک بند ہونے کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ مودی حکومت مایوسی کی علامت بن گئی ہے ۔اس حکومت کے نوٹ بندی کے فیصلے سے ملک کو تین لاکھ کروڑ روپئے کا نقصان ہواہے ۔جی ایس ٹی کو حکومت نے کسی تیاری کے بغیر نافذ کردیا جس کی وجہ سے چھوٹے کاروباریوں کے سامنے بحران پیدا ہوگیا ہے ۔بے روزگاری بڑھ گئی ہے اور مسٹر مودی کا دوکروڑ لوگوں کو روزگار دینے کا وعدہ صرف جملہ بن کر رہ گیا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت نے پچھلے ایک سال میں پٹرول ڈیزل پر ایکسائزڈیوٹی 11بار بڑھاکر 18روپئے 62پیسے تک کردی ہے لیکن اب محض دو روپئے کم کرکے اپنی پیٹھ تھپ تھپانے کی کوشش کرہی ہے ۔اخبارات میں وزیر داخلہ کا بیان ہے کہ تیل پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کے متبادل کھلے ہیں ۔یواین آئی