قومی شاہراہ پرمعمول کا سویلین اور فورسز ٹریفک مکمل طور پربند رہا | ہزاروں مسافروں اور سیاحوں کو مشکل کا سامنا کشمیر میں الیکشن ڈیوٹی سے واپس آرہی گاڑیوں کو ہی شاہراہ پر جموں کی طرف چلنے کی اجازت تھی

محمد تسکین

بانہال //وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے والی واحد شاہراہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر منگل کے روز ٹریفک کی نقل و حرکت کو بند رکھ کر ٹریفک ڈرائی ڈے قرار دیا گیا تھا اور اس کیلئے ٹریفک پولیس کی طرف سے جاری کی گی ایڈوازری کو زمینی سطح پر لاگو کرنے کیلئے کل شام سے ہی ٹریفک پولیس اور محکمہ پولیس کے حکام مستعد تھے اور پیر کی شام چھ بجے بعد نگروٹہ، ادھم پور اور قاضی گنڈ سے آگے کسی بھی قسم کے ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ اگرچہ ماضی میں شاہراہ کا ٹریفک بند رکھ کر شاہراہ پر ناشری اور بانہال کے درمیان کئی جگہوں پر خراب اور تنگ سڑک کی تجدید و مرمت کی جاتی تھی لیکن اس بار ٹریفک بند رکھنے کے بارے میں ٹریفک پولیس اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی اف انڈیا کی طرف سے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی البتہ منگل کی صبح سے ہی وادی کشمیر کے مختلف اضلاع میں الیکشن ڈیوٹی پر تعینات سیکورٹی فورسز کو لیکر جارہی الیکشن ڈیوٹی سے منسلک ٹرکوں ، بسوں اور دیگر گاڑیوں کو ہی وادی کشمیر سے جموں کی طرف جانے کی اجازت دی تھی۔پیر کے روز ٹریفک پولیس ہیڈکواٹر کی طرف سے جاری کی گئی ٹریفک ایڈوائزری کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پیر کی شام سے ہی ادھم پور اور قاضی گنڈ کے درمیان ٹریفک کو روکنے کا عمل شروع کیا گیا تھا اور وادی کشمیر اور جموں کے علاوہ وادی چناب کے ڈوڈہ ،بھدرواہ ، کشتواڑ ، گول ، پتنی ٹاپ اور رام بن بانہال کے علاقوں کی طرف کسی بھی قسم کے سویلین ٹریفک کے علاوہ معمول کی کانوائے میں شامل سیکورٹی فورسز اور فوج کی کانوائے والی گاڑیوں کو بھی جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ ناشری اور بانہال ٹنل کے آر پار شاہراہ کے مختلف مقامات پر ٹریفک پولیس کے اہلکار پیر کی شام سے ہی لاوڈ سپیکر لگی گاڑیوں کے ذریعے وہاں پہنچے گاڑی والوں اور مسافروں کو واپس جانے اور شاہراہ پر ٹریفک کی نقل وحرکت پر مکمل پابندی کے بارے میں آگاہی دے رہے تھے اور یہ سلسلہ منگل کے روز بھی جاری رہا۔ شاہراہ کو عام ٹریفک کیلئے بند رکھنے کی وجہ سے بانہال ، نیل چملواس ، کھڑی مہو منگت ، مکرکوٹ ، اکڑال پوگل پرستان، گول سنگلدان ، رام بن ، اور ناشری بٹوٹ کے علاقوں کو جانے والی سڑکوں کے علاوہ مقامی رابطہ سڑکوں پر بھی ٹریفک روکنے کیلئے ناکے لگائے گئے تھے اور کسی بھی قسم کے ٹریفک کو جموں سرینگر قومی شاہراہ کی طرف آنے جانے کی اجازت نہیں تھی تاہم میڈیکل ایمرجنسی لیکر آنے والی گاڑیوں کو شاہراہ پر آنے جانے کی اجازت تھی اور ان پر ٹریفک کی بندش اور پابندی کا اطلاق نہیں تھا۔شاہراہ کا ٹریفک بند رہنے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں عام لوگوں ، شاہراہ کے مسافروں ، سیاحوں اور ٹرک ڈرائیورو کو قاضی گنڈ ، بانہال اور ادھم پور سمیت شاہراہ کے مختلف مقامات پر شدید گرمی میں پورا دن گزارنا پڑا ہے ، جبکہ چنینی ، بٹوٹ سے رام بن اور بانہال کے درمیان عام لوگوں اور سکول کالج جانے والے طالب علموں اور سرکاری ملازمین کو بھی مسافر گاڑیاں دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات اور اپنی منزلوں تک پہنچنے میں دشواریوں اور بعض کو ناکامیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ کئی مسافروں نے بات کرتے ہوئے کشمیر عظمی کو بتایا کہ وہ بے خبری اور جناکاری کے بغیر ہی پیر کی رات اور منگل کی صبح سڑک اور ریل گاڑی سے اپنی منزلوں کیلئے نکلے ہیں لیکن قاضی گنڈ ، نگروٹہ اور ادھم پور اور بانہال ریلوے سٹیشن پر پہنچنے کے بعد وہاں سے آگے گاڑیوں کو چلنے کی اجازت نہیں تھی اور کئی مسافروں نے ریل اور اپنی گاڑیوں کے ذریعے واپسی کی راہ لی۔ بانہال اور رام بن میں کام کرنے والے مسافر گاڑیوں کے کئی ایجنٹوں نے بتایا کہ بتایا کہ پیر کی شام سے ہی شاہراہ پر کسی بھی قسم کے ٹریفک کو آنے اور جانے کی اجازت نہیں تھی اور ضلع رام بن میں چلنے والا مقامی ٹریفک بھی بند رہا اور مقامی رابطہ سڑکوں پر ناکے لگائے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے مسافروں نے اپنی منزلوں کو پہنچنے کیلئے پیدل سفر شروع کیا تھا جبکہ کئی مسافروں نے رات گزارنے کیلئے ریلوے سٹیشن بانہال ، قصبہ بانہال اور رام بن وغیرہ میں ہوٹل وغیرہ میں قیام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منگل کی صبح سے ہی کشمیر میں الیکشن ڈیوٹی انجام دینے کے بعد واپس آرہی فورسز کی گاڑیوں کو ہی شاہراہ پر چلنے کی اجازت تھی اور اندورنی ٹریفک کے علاوہ شاہراہ کے باقی ٹریفک کو شاہراہ پر آنے پر مکمل پابندی عائید کی گئی تھی۔ شاہراہ کی صورتحال اور ٹریفک کو بحال کرنے کے بارے میں اگرچہ ٹریفک کے اعلی حکام سے بات کرنے کی کئی بار کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تاہم ٹریفک ذرائع نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر منگل کیلئے شاہراہ پر کسی بھی قسم کے ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں تھی اور اُسے ٹریفک ڈرائی ڈے قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر ٹریفک کو بند رکھنے کے باے میں لوگوں کو پہلے ہی بار بار اپیل کی گئی تھی کہ وہ منگل یعنی 21 مئی کو شاہراہ پرکسی بھی قسم کے سفرسے اجتناب کریں لیکن اس کے باوجود بہت ساری گاڑیاں شاہراہ پر آئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر آج یعنی بْدھ کیلئے ٹریفک کو بحال کرنے کیلئے ٹریفک پولیس ہیڈکواٹر کی طرف سے الگ سے ٹریفک ایڈوائزری جاری کی جائے گی اور مسافروں اور ڈرائیوروں کو ٹریفک ایڈوائزری کے مطابق ہی اپنے سفر کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے تاکہ انہیں راستے میں درماندگی اور دشواریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے ڈرائیوروں سے بھی اپیل کی ہیکہ وہ بے خبر مسافروں کو شاہراہ کی صورتحال سے آگاہ کرتے رہیں اور اگلی ٹریفک ایڈوائزری کا انتظار اور عمل کریں۔