بلال احمد پرے
رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ماحولیات منایاگیا اور اس سال کا نعرہ ’’آب و ہوا کے لئے‘‘ جیسے خوبصورت نعرہ کے ذریعے زمین کو اس کے قدرتی نظارے کے ساتھ بحال کرنے کا تھا۔ بے شک ہم جس ماحول میں رہتے ہیں، اس کا خیال رکھنا نہ صرف ہماری بنیادی ذمہ داری ہے بلکہ ہماری صحت اور بقا کے لیے بھی بے حد ضروری ہے ۔
ماحول عربی لفظ ‘حول سے ماخوذ ہے جس کے معنی چکر لگانا یا سال کا پھر آنا کے ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زمین پر اپنا خلیفہ بنایا اوراس پر ایک خاص ذمہ داری عائد کی ہے ۔ جس کے لئے انسان کو زمین پر موجود تمام نعمتوں جن میں تمام وسائل ِ حیات موجود ہیں، کا درست انداز میں استعمال (الانعام۔ ۱۶۵) کرنا لازمی ٹھرایا گیا ہے ۔اسلام فعال ماحولیات کو فروغ دیتا ہے اور ماحول دوست مسلمان بننے کا درس دیتا ہے ۔ کرۂ ارض جس سے ربّ ِذوالجلا ل نے لہلہاتی فصلوں، آبشاروں، جھیلوں، چشموں و دریاؤں، سر سبز و شاداب جنگلوں، برف پوش کوہساروں، میٹھے و ذائقہ دار پھلوں، خوشبو و معطر پھولوں، خوب صورت باغوں، ہرے بھرے پیڑ پودوں سے خوب صورت انداز میں مزیںکرکے رکھا ہے ۔ رب العالمین نے حکمت و دانائی سے اس دنیا کا ڈیزائن اس طرح فرمايا ہے کہ اس میں کوئی نقص ہی نہیں رکھا، کوئی شگاف یا بے ترتیب تنسیق کہیں نظر نہیں آتی ۔ لیکن یہ انسان ہی ہے جس نے ان نعمتوں میں اپنی محدود عقل کے مطابق رد و بدل کرنا چاہا اور نظام قدرت کو درہم و برہم کر ڈالا۔ اسلام ماحولیاتی چیلنجز کو ایک اخلاقی بحران کے طور پر دیکھتا ہے ۔ انسان کو چاہیے کہ زمین کی تخلیق کو خالقِ کائنات کی نشانیوں کے طور پر دیکھے ۔نظامِ فطرت میں منفی طور تبدیلی پیدا کرنے، اس کے بگاڑنے، پاکیزگی اور صاف ستھرائی کے انتظامات و اِنصرام میں خلافِ قانون کرنا ماحولیاتی فسادکہلاتا ہے ، جو اس وقت عالمی سطح پرانتہائی حساس مسئلہ بن چُکا ہے ۔ اسلام عالمی نظریہ کے طور پر زمین پر خوشگوار زندگی گزارنے کا رواں دار ہے ۔ قرآن کریم کا ارشاد ہے کہ ’’ اور نیکی کرو جیسا کہ اللہ نے تمہارے ساتھ بھلائی کی ہے ، اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کرو ۔‘‘ (القصص: 77)۔اس وقت ماحولیاتی نظام ہر جگہ درہم برہم ہوا ہے اور موسم میں غیر معمولی تغیر و تبدیلی اسی کا نتیجہ ہے کہ انسان نے اس سے اپنے ہاتھوں سے بگاڑ دیا ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’خشکی اور سمندر دونوں میں فساد ظاہر ہوا ہے، کیونکہ لوگوں کے اپنے ہاتھوں نے لایا ہے۔‘‘ (الروم ۔ 41) اس سے انسانی صحت بُری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ زمین پہ موجود قدرتی وسائل کو بِلا سوچے سمجھے چھیڑ چھاڑ کرنے سے عالمی سطح پہ شدت کی گرمی (Global warming) پیدا ہو چکی ہے ۔ اسلام نے اس طرح کے سنگین مسائل سے نپٹنے کے لئے صفائی اور شجر کاری کے تفصیلی احکامات صادر کر کے ایک واضح اور منفرد حل نکال کے رکھ دیا ہے ۔ قرآن حکیم نے کھیتی اور پودوں کو برباد کرنا منافقین کا شیوہ قرار دیا ہے ۔اسلام ماحولیاتی بحران پر قابو پانے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے، اسلامی نقطہ نظر سے کرہ ارض پر انسان کو بحیثیت خلیفہ مانتا ہے اور اس سے امانت دار اور ایک ذمہ دار انسان ٹھہراتا ہے کہ وہ اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرے ۔ ماحولیاتی بحران انسانی اخلاقیات اور اقدار سے جڑا ہوا ہے ۔ انسان کے غیر سنجیدہ اقدام سے عالمی ماحولیاتی بحران پیدا ہوا ہے ۔
اسلام ذمہ دارانہ کردار اور پائیداری کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے ایک پائیدار معاشرے پر زور دیتا ہے ۔ جس سے مضبوط معیشت کی طرف منتقلی ممکن ہے ۔ اس تبدیلی کے لیے اصولوں اور طریقوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ اسلامی عقائد، روایات اور اقدار، نسلِ انسانی کو درپیش موجودہ ماحولیاتی چیلنجوں سے نپٹنے کے لئے ایک مؤثر اور جامع حل فراہم کرتے ہیں ۔ قرآن پاک میں ماحولیات کے حوالے سے متعدد مخصوص حوالہ جات موجود ہیں اور اس میں ماحولیاتی تحفظ کے لیے اہم اصول بھی دئے گئے ہیں ۔ جو ماحولیاتی پائیداری کے بارے میں اسلامی تعلیمات کی رہنمائی کرتی ہیں ۔ ایک ذمہ دار سرپرست ہونے کے ناطے انسان کو تمام ضروری اقدامات کرنے چاہئے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ سپرد کردہ امانت اگلی نسل کو خالص شکل میں منتقل کی جائے ۔ قرآن پاک میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ’’اور زمین میں ترتیب کے بعد فساد نہ کرو‘‘۔ (الاعراف: 85)۔ صاف شفاف ماحول کا خیال رکھنا تمام انسانوں پر عموماً اور مسلمانوں پر خصوصاً فرض ہے ۔ ہر قسم کی بدعنوانی اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے، بشمول ماحولیاتی بدعنوانی، جس میں ہوا، پانی، شور اور صنعتی آلودگی، ماحولیاتی نقصان، قدرتی وسائل کا بے دریغ استحصال اور بدانتظامی شامل ہیں ۔ قرآن پاک اس کی ہدایت یوں فرماتا ہے کہ ’’اور اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ (المائدہ: 64)
کسی خاص قدرتی وسائل کے استحصال کا براہ راست تعلق دستیاب وسائل کی جوابدہی اور دیکھ بھال سے ہے ۔ احادیث مبارک کی متعدد روایات بھی ماحول کے مختلف پہلوؤں سے وسیع پیمانے پر نمٹتی ہیں ،جن میں وسائل کا تحفظ، زمین کی بحالی اور ماحولیاتی حفظانِ صحت شامل ہیں ۔ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے تمام شعبوں میں اعتدال کی ترغیب دی ہیں ۔آپؐ نے جنگ کے وقت بھی درختوں اور فصّلوں کو تباہ کرنے سے واضح طور پر منع فرمایا ہے ۔ اسلام میں درخت لگانا ایک خیراتی تحفہ ہے جو ہرے بھرے ماحول کی طرف زندہ پرانی فلاسفی نئی تحریک کے ساتھ پیش کرتی ہے ۔فرموداتِ قرآن اور تعلیماتِ پیغمبر آخرالزمانؐ کی روایات عالمی سطح پر ہر وقت پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے رہنمائی کر رہی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو شرارتوں اور وسائل کے ضیاع سے بچنے کا حکم دیتا ہے کیونکہ یہ اعمال ماحول کی خرابی کا باعث بنتے ہیں ۔ اسلام نے بغیر کسی خلل اور تباہی کے ماحولیات کے تحفظ پر زور دیا ہے ۔لہٰذا ہم سب کو مل کر اسلام کی تعلیمات سے خود کو مزیں کرنا چاہئے تاکہ دنیا بھر میں بہترین، صاف و شفاف، سرسبز و شاداب اور بدعنوانی سے پاک ماحول بنانے کی کوشش کی جا سکیں ۔ ہمیں اپنی بے حسی، غفلت و لاپرواہی سے باز آنا چاہیے اور ہم سب کو اپنی جگہ اپنی اصلاح کرنی چاہئے ۔ سرکاری سطح کے علاوہ نجی سطح پر بھی جمعۃ کے خطبوں میں ماحول کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات سے عوام الناس کو روشناس کرنا چاہئے ۔ ائمہ و خطیب صاحبان کو اپنے خطبوں میں سرسبز جنگلات کے تحفظ اور صاف پانی کی اہمیت کو اُجاگر کرنا چاہئے ، تاکہ انسانیت کو مذہبی بنیاد پر ماحول دوست بنایا جائے ۔ سب سے اہم بات یہی ہے کہ ہمیں اپنی ضروریات، سہولیات، آسائشوں اور آرائشوں کو کم کرکے آلودگی کی کثافت کو کم سے کم تر بنانا چاہیے ۔ تاکہ ہم بھی اپنے آپ کو ماحول دوست انسان اور مسلمان بنانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں ۔
(رابطہ ۔ 9858109109)