قدرتی حسن سے مالا مال سنتھن ٹاپ ان دنوں سیاحوں کی توجہ کا مرکز | سیاحتی مقام پربنیادی سہولیات تک دستیاب نہ ہو سکی بے روز گار نوجوان دربدر ،کشتواڑ ڈیو لپمنٹ اتھارٹی کی عدم توجہی سمجھ سے بالا تر :عوام

عاصف بٹ

کشتواڑ //وادی کشمیر کو خطہ چناب سے جوڑنے والی واحد قومی شاہرہ پرجہاں متعدد سیاحتی مقامات موجود ہے وہی سنتھن ٹاپ بھی کافی مشہور سیاحتی مقام اسی شاہرہ پر واقع ہے۔ سطح سمندر سے 12000فٹ کی زائد بلندی پرواقع سنتھن ٹاپ اپنی خوبصورتی کیلئے ملک بھر میں مشہور ہے جہاں موسم سرما میں پندرہ فٹ سے زائد برف جمع رہتی ہے وہی موسم گرما کے دوران برف سے لدے ہوے پہاڑ و سرسبز و ہرے بھرے پہاڑ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں ان دنوں جہاں ریاست و بیرون ریاستوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ ہوا ہے اور سیاح وادی کشمیر و دیگر مقامات کا رخ کرررہے ہیں وہی گلمرگ ، پہلگام سونہ مرگ و دیگر سیاحتی مقامات پر جہاں بھاری رش دیکھنے کو مل رہاہے وہی سنتھن سے کشتواڑ و وادی کشمیر کا دلفریب نظارے دیکھنے کیلئے بھی ہزاروں کی تعداد میں لوگ سنتھن کا رخ کررہے ہیں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح یہاں آتے ہیں اور قدرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ لوگوں کی بڑی تعداد سنتھن کا رخ کررہی ہے اور گرمی سے راحت کی سانس لے رہی ہے۔ سینکڑوںکی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کررہے ہیں ۔سنتھن ٹاپ پر ہنوز پانچ سے اٹھ فٹ کے قریب برف جمع ہے جو سیلانیوں کو اپنی طرف کھیچ کرلاتی ہے۔ممبی سے سنتھن آئے سیاح ارون کمار نے بتایاکہ’’ ہمیں یہاں آکر بہت اچھا لگ رہاہے ہم نے اسے قبل اسطرح کی خوبصورتی کبھی نہیں دیکھی ہیجہاں ہر طرف برف ہی برف ہے ،انھوں نے کہا یہ جنت سے کم نہیں ہے جبکہ انھوں نے ملک کے سبھی لوگوں سے سنتھن آنے کی اپیل کی‘‘۔گجرات کی سیاح خاتون اروا فاطمہ نے بتایا کہ وہ پہلے گلمرگ گئے تھے جہاں برف بہت کم تھی جسکے بعد ہم سنتھن آے ’’ہمیں یہاں آکر بہت اچھا لگا۔ گجرات میں گرمی شدت انتہا پر ہے جسکے بعد ہم اپنے اہل و عیال کے ساتھ کشمیر آے اور یہاں آکر ہمیں گرمی سے راحت ملی‘۔راجستھان سے تعلق رکھنے والی شھیکھا کھڈنیلوال نے بتایا کہ’’ یہ سنتھن ٹاپ ہمارے ملک کی جنت ہے ہم نے کبھی ایسا سوچھا بھی نہیں تھا۔لوگ اسطرح کے سیاحتی مقامات کیلئے بیرون ممالک سیوزلینڈ و دیگر مقامات کا رخ کرتے ہیں‘‘۔ انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے ملک کے اس حصے میں آئیںجہاں انھیں بیرونی ملک سے زیادہ مزہ آئیگا۔اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے اطہر علی نے بتایا کہ سنتھن قدرتی طور کافی خوبصورت اور دلکش جگہ ہے جہاں آنے کا لوگ بے صبری سے انتظار کرتے ہیں لیکن یہ جگہ انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار ہے ۔محکمہ سیاحت نے اُسے فروغ دینے کیلئے کچھ بھی نہیں کیا ہے ۔اگرچہ مقامی لوگ یہاں آکر سیاحوں کی خدمت کرتے ہیں لیکن یہ مقام انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار رہا ہے ۔یہاںنہ ہی بیت الخلاء کا کوئی بندوبست ہے اور نہ ہی بیٹھنے کیلئے کوئی جگہ بنائی گئی ہے ۔رات گزرانے کیلئے لوگوں کو سینکڑوں کلومیٹر واپس ڈکسم یا چھاترو جانا پڑتا ہے جہاں ہرسال ہزاروں کی تعداد میں سیاح آتے ہیں لیکن باوجود اسکے آج تک کشتواڑ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے کوئی قدم نہیں اٹھایا جسے اس علاقہ کو سیاحتی نقشہ پر لایاجاسکے اور مزید سیاحوں کو اسطرف راغب کیا جاسکے۔مقامی لوگوں نے کہاکہ کشتواڑ ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی کارکردگی سیاحت کو فروغ دینے کیلئے معیاری نہیں رہی ہے جبکہ مذکورہ مقام پر سیاحوں کو بنیاد ی سہولیات فراہم کرنے اور بے روز گار نوجوانوں کو مذکورہ مقام پر روز گار فراہم کرنے کیلئے اختیار کی گئی عدم توجہی سمجھ سے بالا تر ہے ۔اگرچہ گزشتہ سال انتظامیہ نے سیاحوں کو راغب کرنے کیلئے سنتھن میدان میں سیاحتی میلے کا اہتمام کیا تھا لیکن یہ پروگرام فلاپ شو ثابت ہوا جہاں سیاحوں کی تعداد نہ کے برابر تھی۔ انتظامیہ نے سیاحوں سے سنتھن ٹاپ آنے کہ اپیل کی تاکہ علاقہ میں سیاحت کو مزید فروغ مل سکے۔