فکروفہم | اُستاد اور شاگرد کا رشتہ،زندگی کا ستون

اطہر حسین نقوی

استاد اور شاگرد کا رشتہ معنی و مفہوم کے اعتبار سے انسانی زندگی کا ستون ہے۔ وہ ستون جو زندگی کو معنی اور مفہوم کہ حسین رنگوں سے نکھار دیتا ہے۔ ایک بہترین استاد طالب علم کو اچھے اخلاق و اعتماد کی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔ وہ شاگرد کی نفسیات اور نفس و کردار کو اخلاقی کردار اخلاقی عمل کی پابندیوں تک پہچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

استاد اور شاگرد کا آپس میں تعلیمی عمل میں خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اُستاد اور طالب علم کہ درمیان عزت و احترام معلومات کے خزانے کو ایک دوسرے تک پہچانے، ایک نشانی، ایک شناخت اور پہچان، ایک علم کا بینک ہے جو نسلوں کو علم منتقل کرتا ہے۔ طالب علموں میں سب کچھ سمیٹ کر اپنی علم کی پیاس بجھانا چاہتا ہے، تا کہ انھیں زندگی بھر تشنگی کا احساس نہ ہو۔اسی تناظر میں ایک واقعہ نذرِ قارئین ہے۔
ایک درس گاہ میں ایک نوجوان طالب علم نے اپنے لیکچرار سے سوال کیا کہ ’’آپ جو ہمیں شہریت کے بارے میں پڑھا رہے اور سمجھا رہے ہیں اس کا ہمارے مستقبل سے کیا تعلق بنتا ہے‘‘۔لیکچرار صاحب نے جواب دیا،’’میں اس وقت دو فرائض انجام دے رہا ہوں، ایک تو جس مضمون کا پیریڈ ہے، اس کے لئے مجھے ہر حال میں آنا ہے اور میری کوشش ہوتی ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ،احسن طریقے سے پڑھاؤں، تاکہ طلبا بور بھی نہ ہوں اور دل چسپی کے ساتھ لیکچر سنیں اور بحث کریں۔ دوسرا فرض جس پر مجھے فخر ہے کہ میں علم کو آگے بڑھنے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہوں اوریقین ہے کہ آپ سب بہت دلچسپی اور غور فکر کے ساتھ مجھے سنتے ہیں اور کلاس روم میں آتے ہیں اور کچھ نئی باتیں نئے خیالات لے کر اپنے گھرجاتے ہیں، ورنہ اسی کلاس سے تعلق رکھنے والے بعض طلبا جو میرے اس مضمون سے منسلک ہیں ،وہ اس وقت باہر اپنے دوستوں کے ساتھ مختلف قسم کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کے والدین یا سرپرست سمجھ رہے ہیں کہ ان کے لخت جگر تعلیم حاصل کرنے گیا ہے۔ میری خواہش ہوتی ہے کہ اپنے طالب علوں کو نصابی مضامین کے ساتھ مختلف قومی امور اور قومی تشخص کے بارے میں بھی بتاوٗں،تاکہ ہماری نسل اور مستقبل کے معماروں کو معلوم ہونا چاہئے کہ قومیں کس طرح بنتی ہیں اور ترقی حاصل کرنے کے کیا رموز ہیں۔‘‘

طالب علم نے لیکچرار صاحب سے سوال کیا ’’ہم سب ایک ساتھ رہتے ہیں اور ایک ہی معاشرے کا حصہ ہیں، دیکھنے میں آرہا ہے کہ ہماری ملت کا شیرازہ بکھرنے لگا ہے۔ لیکچرار صاحب نے کہا اس کا جواب طویل ہے ،آپ لوگ بور بھی ہوسکتے ہیں،اس پر کل بات کرتے ہیں۔

تمام طالب علم نے حامی بھری اور پیریڈ ختم ہوگیا۔ اگلے دن ایک طالب علم کے علاوہ کل والے تمام طلبا کلاس میں موجود تھے۔ لیکچرار صاحب نےکل پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ، کہ’’کسی بھی قوم کی تشکیل نو کے کچھ سنہرے اصول ہوتے ہیں ،جنہیں بنیادی ستون کا درجہ حاصل ہوتا ہے اور اسی کی روشنی میں اک تسلسل کے ساتھ اک خوبصورت اور پائیدار عمارت وجود میں آتی ہے۔ بنیاد مضبوط ہوگی تو منزل تک رسائی آسانی سے ممکن ہے۔

تعلیم و تربیت اور تہذیب و اقدار سے ہی قومیں تشکیل کے عمل سے گزرتی ہیں اور پھر ترقی کی جانب اپنے سفر کا آغاز کرتی ہیں، اسی نظریئے کو مغربی دنیا کے علاوہ ہم سے چھوٹے چھوٹے ممالک نے اپنایا اور وہ آج جدید ٹیکنالوجی اور ترقی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔معاشرےکے نوجوانوں نے بھی اسی نظریہ کو ایک نئے جذبے اور لگن کے ساتھ ملک و قوم کی ترقی کے لئے اپنی صلاحیتوں سے مختلف شعبہ جات میں ترقی کی رفتار کو آگے بڑھایا اورہمارا نام روشن کیا اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی بھی حاصل کی، جس سے ہمارا وقار بھی بلند ہوا لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے ہماری نسل کا ایک بڑا طبقہ پستی کی طرف کیوں جا رہا ہے؟ یہ سوچنے کی بات ہے۔

آپ نے یہ بات محسوس کی ہوگی کہ ہماری نوجوان نسل کی سوچ میں مثبت تبدیلیاں آنے کے بجائے منفی رجحانات زیادہ نمایاں ہو رہے ہیں۔ گھر سے باہر ان کی سرگرمیاں بھی کچھ مشکوک سے ہوتی جا رہی ہیں، اسی درسگاہ میں بھی دیکھتا ہوں کہ طالب علم کلاس میں آنے سے کتراتے ہیں بلکہ باہر ان کی دوستیاں اور سرگرمیاں سمجھ سے باہر ہیں۔ درسگاہ کو تفریح گاہ بنایا ہوا ہے۔اس کے اثرات تمام شعبہ ہائے زندگی کے ساتھ ساتھ ہمارے تعلیمی اداروں میں بہت زیادہ نظر آنے لگے ہیں جب کہ اساتذہ تمام طلبا کو علم سے آراستہ اک مکمل شخصیت کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ اُن پر فخر کر سکیں ۔‘‘
ایک طالب علم نے کہا کہ،’’سر آپ کی گفتگو کا انداز ہم تمام طلبا پر ایک سحر طاری کردیتا ہے اور نصابی تعلیم کے ساتھ آپ کے جو متاثرکن اخلاقی اقدار اور جامع علمیت کی روشنی سے نکلنے والا ایک ایک لفظ ہمیں رہنمائی دیتا ہے اور ہمیں قوی امید ہے کہ عملی زندگی میں ہمیں اس سے استفادہ حاصل ہوگا، آپ کے جملے اور الفاظ کا سمندر ہمارے دل و دماغ میں نت نئے آئیڈیاز اور مختلف تخلیقی صلاحیتوں کو ابھر رہے ہیں۔‘‘

ایک طالب علم نےکہاکہ ابتداء میں سوال کیا تھا کہ، ملت کا شیرازہ بکھر رہا ہے اس پر بھی تھوڑی روشنی ڈالیں۔‘‘
’’ تمہارے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر تم سب نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری کا سنجیدگی سے مطالعہ کیا ہے تو آپ کو ملت اور قوم میں تشکیل کا فرق بآسانی سمجھ میں آجائے گا، اگر ہم قوم بن جائیں اپنی ذات کا محاسبہ کریں اور اپنے اندر تعمیری صلاحیتیں اجاگر کریں، سیاسی، نظریاتی، مذہبی، لسانی، معاشی، معاشرتی اور خاص کر تعلیمی مسائل کا جو انبار ہم سب پر مسلط ہے، اس کا احسن طریقوں سے باہمی اتحاد کے ساتھ حل نکالیں، اختلافات اور طبقاتی جنگ کا خاتمہ کریں تمام فیصلے مثبت سوچ کے ساتھ کئے جائیں۔

مستقبل کے نوجوانوں کو ان کی قابلیت، صلاحیت اور ہنر کو دیکھتے ہوئے انہیں روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں،آپس میں محبت خلوص کے جذبے سے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں تو ہم ایک قوم شکل میں نظر آئیں گے اور بکھرتا ہوا شیرازہ سمٹ جائے گا اور ہم ترقی کی طرف مسلسل گامزن ہوتے جائیں گے۔

آخر میں لیکچرار صاحب نے ایک مثالی پیغام ہے۔ ’’انسانیت کے درجات کو سمجھو تم جس چیز سے بھی فیضیاب ہو (یعنی علم، مال و دولت، اخلاقی قدروں) اسے دوسروں میں تقسیم کرتے جاؤ، تاکہ اپنی آنے والے نسلوں کو روشن ، تابناک اور خوبصورت مستقبل کی نوید دے سکو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔