نئی دہلی// حکومت نے پھلوں اور سبزیوں کوضائع ہونے سے بچانے ، برآمدات میں اضافے ، روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور کاشتکاروں کو اپنی فصلوں کی منافع بخش قیمتیں فراہم کرنے کے پیش نظر فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کے لئے پیداوار پر مبنی ترغیبی اسکیم(پی ایل آئی) کومنظوری دے دی ہے ۔وزیر اعظم نریندر مودی کی زیرصدارت بدھ کے روز منعقدہ کابینہ کے اجلاس میں اس اسکیم کے لئے 10900کروڑ روپے کی سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز کو منظوری دی گئی۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر خوراک و رسدات پیوش گوئل نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کے اس فیصلے سے عالمی معیار کی خورد و نوش کی مصنوعات تیار کی جاسکیں گی اور غیر ملکی سرمایہ کاری سے برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں تیار کھانے کی بہت طلب ہے ۔ اس کے ساتھ نامیاتی غذا اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کی بھی بہت زیادہ مانگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کے تحت سمندری پیداوار کو بھی شامل کیا گیا ہے ، جس سے ساحل سمندر کی ریاستوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ انڈوں سے بنی مصنوعات کو بھی اس اسکیم میں شامل کیا گیا ہے ۔ حکومت کا تخمینہ ہے کہ اس کی وجہ سے تقریبا ڈھائی لاکھ افراد کو ملک میں روزگار ملے گا۔ پیوش گوئل نے کہا کہ حکومت کاشتکاروں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کو فکرمند تھی اور نئے زراعتی قوانین کے تحت کسانوں کو اپنی پیداوار کا بڑا فائدہ دینے کے لئے اقدامات کیے گئے ہیں۔ ان قوانین کے نفاذ کے بعد سے انہیں اپنی پیداوار کو بیچنے کے لئے زیادہ آزادی اور اختیارات مل چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی فائدے کے لئے کسانوں کو ان قوانین سے اکسارہے ہیں ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زراعتی قوانین کے نفاذ سے کاشتکاروں کو فائدہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایل آئی کے نفاذ سے کاشتکاروں کو عام پیداوار کے ساتھ پھل، سبزیوں وغیرہ کی بھی زیادہ قیمتیں ملیں گی۔ اس سے مویشی پروری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی اشیائے خوردونوش کی پروسسینگ کی جاتی ہے ، ان کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور پروسیسڈ فوڈ آئٹم ایکسپورٹ کرنا آسان ہوجاتا ہے ۔ ان مصنوعات کی زیادہ برآمدات کی وجہ سے ملک کو زیادہ پیسہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ کنٹریکٹ فارمنگ سے کاشتکاروں کو بھی فائدہ ہوگا اور کوئی بھی ان کی زمین پر قبضہ نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدہ کی زراعت میں کسی شے کی قیمت مارکیٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔