فوجی اقتدار کیخلاف ‘کچرا ہڑتال | میانمار میں سڑکوں پر کچرے کے ڈھیرجمع

ینگون// میانمار میں فوج کے پْر تشدد کریک ڈاؤن کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 500 سے تجاوز کر گئی ہے جس کے خلاف مظاہرین نے احتجاجاً  'کچرے کی ہڑتال کر دی ہے اور اس وقت اہم شہر کی سڑکوں پر کوڑے کا انبار لگ گیا ہے۔فوجی حکومت کے خلاف ہڑتالوں کی سول نافرمانی تحریک نے معیشت کے بڑے حصے کو مفلوج کردیا ہے اور اس سلسلے میں مظاہرین نے ایک نیا حربہ آزماتے ہوئے مرکزی شاہراہوں، سڑکوں اور چوراہوں پر کچرا چھوڑنے کے لیے مہم چلانے کی شروع کردی ہے۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹر پر لکھا گیا کہ یہ کچرا ہڑتال جنتا کی مخالفت کرنے کے لیے، ہر کوئی اس میں شامل ہوسکتا ہے۔ینگون میں سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی تصاویر میں کچرے کے ڈھیر دکھائے گئے۔یہ مہم پیر کے روز کیے گئے اس اعلان کی مخالفت میں شروع کی گئی جس میں ینگون کے کچھ محلوں میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اعلان کرتے ہوئے لوگوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کچرے کو صحیح طریقے سے تلف کریں۔واضح رہے کہ فروری میں میانمار کی فوج نے آنگ سان سو چی کی حکومت ختم کر دی تھی جس کے بعد ملک بھر میں جمہوریت کی بحالی کے لیے مظاہرے جاری ہیں۔ ایک مقامی جائزے کے گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد ایک ایسے وقت بڑھی ہے جب عالمی طاقتیں میانمار میں فوج کی ’بے رحمانہ مہم‘ کی مذمت کر رہے ہیں اور جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔امریکہ نے میانمار کے ساتھ تجارت کا معاہدہ ختم کر دیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سربراہ اینتونیو گتریز نے میانمار کی فوج پر دباؤ ڈالنے کے لیے متحدہ عالمی محاذ کھڑا کرنے کا کہا ہے۔ملک بھر میں غیر مسلح مظاہرین کی روزانہ کی ریلیوں پر آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں ماری اور فائرنگ کی جاتی ہے۔