اوڑی//سرحدی قصبہ اوڑی کے بونیار علاقے میں نور کھا،نلوسہ،ریشاواڑی اور کینچن نامی دیہات کے لوگ علاقے میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا کہ علاقے میں واٹر سپلائی سکیم مقامی نیلا ناگ نالہ سے بچھائی گئی ہے اور اسی نالہ کے نزدیک نلوسہ گائوں میں جل شکتی محکمہ نے کئی سال قبل ایک فلٹریشن پلانٹ تعمیر کیا تھا مگر ابھی تک اس فلٹریشن پلانٹ کو استعمال میں نہیں لایا گیا اور قریب چار دیہات کے لوگ نالہ کا آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔لوگوں نے بتایا کہ نیلا ناگ نالہ کئی دیہات سے گزر کر ان کے علاقے تک پہنچتا ہے اور گائوں کی تمام گندگی اسی نالہ میں ہوتی ہے۔ انہوں نے ایس ڈی ایم اوڑی اور جل شکتی محکمہ کے اعلیٰ حکام سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر جل شکتی اوڑی ناصر احمد وانی نے بتایا کہ کچھ دن پہلے اس نالہ میں تازہ سیلاب کی وجہ سے نالہ کے اوپری حصہ کو شدید نقصان پہنچا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں کی رضامندی سے عارضی طور پانی بحال کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مستقل بحالی کا تخمینہ ٹینڈرنگ کیلئے پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ فلٹریشن پلانٹ تقریباًمکمل ہو چکا ہے اور تھوڑا سا کام زیر التوا ہے جو چند دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔
پینے کے پانی کی عدم دستیابی | آٹھناڈن پہلگام میں احتجاج
سرینگر// آٹھناڈن پہلگامکی آبادی نے جل شکتی محکمہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پینے کے صاف پانی سے محروم رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا’’ گزشتہ کئی برسوں سے ہم پانی کی فراہمی کا مطالبہ کرہے ہیں لیکن کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی فراہمی کے لئے بستی کے لوگوں نے جل شکتی محکمہ کے سبھی عہدیداروں سے رجوع کیا لیکن کوئی سدباب نہیں ہوا۔انہوں نے ایل جی انتظامیہ اور ضلع انتظامیہ اننت ناگ سے درخواست کی کہ وہ بستی کے اس سنگین مسئلہ کو حل کرنے کیلئے اقدامات کریں ۔ متعلقہ محکمہ کے اسسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر نے اس ضمن میں کہا کہ اس علاقے کیلئے پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے پہلے ہی ایک پروجیکٹ بنانے کی تجویز پیش کی گئی ہے اور جب تک اُس پروجیکٹ کی منظوری مل جائے گی تب تک علاقے میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے اعلیٰ حکام سے گاؤں میں واٹر ٹینکر بھیجنے کی بات کی جائے گی تاکہ ان کو درپیش مشکلات سے تھوڑی راحت مل جائے۔سی این آئی