فرقہ وارانہ ہم آہنگی مٹانے کی کوششیں !

نفرت اور تعصّب کی فصل اُگائی جارہی ہے


  دوسو سال پہلے جس سرزمین کو محب وطن باد شاہ نے اپنی بے مثال روا داری، مذہبی بے تعصبی اور اپنے فلاحی کارناموں کے ذریعہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا گہواراہ بنایا تھا ،آج اُ سی سرزمین سے خوفناک فرقہ پرستی کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ محض ووٹوں کی سیاست گری کے خاطر منافر قوتیں ریاست کرناٹک میں نفرت اور تعصب کی جو فصل اُگا رہی ہیں، اُس کے زہریلے اثرات ملک کے مختلف دیگرعلاقوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔ اسکولوں کے ڈریس کوڈ کو لے کر تعلیمی اداروں میں حجاب پر پابندی کا جو طوفان وہاں حالیہ عرصہ میں کھڑا کیا گیاتھا ،اب یکے بعد دیگر موضوعات کو چھیڑ کر پوری ریاست کو منافرانہ رنگ میںرنگنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ مسلم طالبات کے حجاب پہننے پر ہنگامہ مچانے والے اب حلال گوشت پر پابندی کا مطالبہ کرنے لگے ہیں ۔ اسی کے ساتھ مسجدوں میں دی جانے والی اذان کی آواز بھی اب اُن کے لئے خطرہ محسوس ہونے لگی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے 20سال پہلے 2002میں فرقہ پرستوں نے ریاست گجرات میں مسلمانوں کی جو نسل کشی کی تھی، اب کرناٹک میں اُسے دہرانے کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ گویاگجرات میں جنونی طاقتوں نے جس طرح کا تجربہ کیا تھا اُب اُسی طرح کا تجربہ کرناٹک میں بھ ہونے جارہا ہے۔
 اس لحاظ سے کرناٹک کو ہندتوا کی نئی لیبارٹیری بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ گجرات کے ہولناک فسادات کے بعد شمالی ہندوستان میں بھاجپا اپنے قدم جمانے میں کا میاب ہو گئی اور2014 کے عام انتخابات کے بعد گجرات کے وہی چیف منسٹر جن کے دور میں ریاست میں فرقہ پرستی کا ننگا ناچ ہوا تھا، ملک کے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہو گئے۔ اُترپردیش اور دیگر ہندی ریاستوں میں ہندوتوا کو کامیابی ملی لیکن جنوب کی ریاستوں میںاُنہیں اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل نہیں ہوئی۔ کرناٹک ہی ایک ایسی ریاست ہے جہاں بی جے پی جوڑ توڑ کی سیاست کرکے اپنی حکومت بناتی رہی۔ کرناٹک میں پہلی مرتبہ 2007میں اُسے حکومت بنانے کا موقعہ ملااوریدی یورپا چیف منسٹر بنائے گئے۔ اس کے بعد اس بات کی کوشش کی گئی کہ جنوبی ہند کی دیگر ریاستوں میں اپنی تنظیم کو مضبوط کر نے کے لئے کرناٹک میں ایسے تجربات کئے جا ئیں جو گجرات میں کئے گئے۔
 اب جب کہ 2023میں کرناٹک اسمبلی کے انتخابات ہونے والے ہیں اور 2024میں لوک سبھا کا الیکشن ہوگا۔ اس لئے کرناٹک میں فرقہ پرستی کا جنون اپنی انتہا پر ہے۔ حجاب کا مسئلہ سپریم کورٹ تک پہنچ چکا ہے۔ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت اس معاملے میں کیا فیصلہ دے گی یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ اس دوران ریاست میں ماحول کو گرم رکھنے کے لئے کچھ نئے عنوانات طے کر لئے گئے ہیں اور اس پر ہنگامہ کھڑا کیا جا رہا ہے۔ حجاب کے بعد منافر عناصر کی جانب سے حلال گوشت پر امتناع عائد کرنے کا مطالبہ سے زور پکڑ رہا ہے۔ اس کے لئے یہ منطق دی جا رہی ہے کہ اِس سے مسلمان اپنے مذہب کا پرچار کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے قومی سیکریٹری سی ٹی روی نے یہ ریمارک بھی دیئے کہ یہ ایک اقتصادی جہاد ہے اور اس سے مسلمان اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔یعنی اب ہر چیز جہاد سے جوڑ دی جا رہی ہے۔ مسلم لڑکا اور غیر مسلم لڑکی عشق کرتے ہیں تو یہ ’’لو جہاد ‘‘ہوجاتا ہے اور کوئی غیر مسلم حلال گوشت کھاتا ہے تو اس میں کٹر پسندی آجاتی ہے۔ اس نوعیت کی مریضانہ ذہنیت کا کو ئی علاج نہیں ہے۔ لیکن یہ سب مسلمانوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ کرناٹک میںاب ایک نیا تنازعہ مسجدوں میں دی جا نے والی اذان پر کھڑا کیا گیا ہے۔ سری رام سینا نامی تنظیم کے کرتا دھرتا مطالبہ کر رہے ہیں کہ لاؤڈاسپیکرس سے دی جانے والی اذان پر پابندی عائد کردی جائے۔ ان کا ادعّا ہے کہ اس سے عام آدمی کو تکلیف ہورہی ہے اور صوتی آلودگی بڑھ رہی ہے۔ ہندو شدت پسند تنظیموں کی جانب سے اذا ن کے خلاف شروع کی گئی اس مہم کے بارے میں کرناٹک کے چیف منسٹر، بسواراج بومئی نے دعوی کیا کہ اذان کے لئے لاؤڈا سپیکر کے استعمال کے بارے میں سپریم کورٹ کی جو ہدایات ہیں، اسی کے مطابق عمل کیا جا ئے گا۔ لیکن اس بارے میں کسی کے ساتھ زبردستی نہیں کی جا ئے گی بلکہ بات چیت کے ذریعہ اس مسئلہ کو حل کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ بی جے پی حکومت نے کوئی نیا آرڈر پاس نہیں کیا بلکہ ہائی کورٹ کے سابق احکامات کو وہ روبہ عمل لارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کرناٹک کی حکومت کو یہ سب کیوں اب یاد آ رہا ہے۔ اسکول یونیفارم کو لاگو کرتے وقت بھی یہی بات کہی گئی کہ یہ کوئی نیا قانون نہیں ہے بلکہ برسوں سے محکمہ تعلیمات ، تعلیمی اداروں کو اسکول ڈریس کوڈ کی پابندی کے احکام جاری کر تا رہا۔ ایک طرف ریاستی حکومت اس معاملے میں کسی پر کوئی زبردستی نہ کرنے کی بات کر رہی ہے اور دوسری طرف سری رام سینا نے یہ وارننگ دی ہے کہ اگر لاؤڈاسپیکر سے اذان دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ بھی اذان کے وقت لاؤڈاسپیکر پر ’’اوم نمشوائے جئے شری رام ‘‘اور ’’ہندمان چالیسہ ‘‘کا پاٹ شروع کردیں گے۔   حکومت اس ہندو تنظیم کی اِس دھمکی کے خلاف کوئی قانونی کاروائی کیوں نہیں کرتی ؟ مسلمان لاؤڈاسپیکر پر اذان زما نہ ٔ دراز سے دیتے آ رہے ہیں ۔ اذان زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ میں ختم ہو جاتی ہے، اس سے کتنی صوتی آلودگی ہو تی ہے، اس کی تحقیق ماہرین ماحولیا ت سے کرائی جانی چاہئے، جب کہ مندروں میں گھنٹوں لاؤڈاسپیکر کا بیجا استعمال ہوتا رہتا ہے۔ خاص طور پر کسی مخصوص تہوار کے موقع پر لاؤڈاسپیکر کے ساتھ ڈی جے پر جو ناچ گانا ہوتا ہے، اس سے شاید دل کے کئی مریض دم توڑ دیتے ہیں ۔ لیکن اس پر کوئی پابندی کی بات نہیں کی جا رہی ہے۔ اذان پر پابندی کا یہ مسئلہ اب مہا راشٹرا تک پہنچ گیا ہے۔ ممبئی کی نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے کو اپنی سیاسی بقاء کاایک موضوع مل گیا ہے۔ شیوسینا سے ناراض ہو کر نونرمان سینا بنانے والے بال ٹھاکرے کے بھتیجے راج ٹھاکرے مہاراشٹرا کی سیاست میں گمنام ہو گئے ہیںاور بھاجپااُسے پھر سے خیمے گاڑنے کے لئے میدان میں لارہی ہے۔ راج ٹھاکرے نے بھی گز شتہ دنوں حکومت مہاراشٹرا سے مطالبہ کیا کہ مساجد سے لاؤڈاسپیکر ہٹا دئے جائیں ورنہ وہ مساجد کے سامنے لاؤڈا سپیکر لگا کر ہنومان چالیسہ کا پاٹھ کریں گے۔ ایم این ایس سربراہ کے اس مطالبہ پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے صدر اور ملک کے قدآور سیاستدان شرد پوار نے دلچسپ تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ راج ٹھاکرے تین چار ماہ تک روپوش رہتے ہیں اور اچانک لکچر دینے نمودار ہوجاتے ہیں۔ انہوں نے راج ٹھاکرے سے سوال کیا کہ وہ یوگی حکومت کی کارکردگی پر کیوں زبان نہیں کھولتے۔ لکھیم پوری میں جہاں ایک مرکزی وزیر کے بیٹے نے کسانوں کو اپنی گاڑی سے روند دیا، اُ س وقت کیوں خاموش رہے۔ آج کیوں عوام میں تفرقہ ڈالنے کی سیاست پر اُتر آئے ہیں۔ راج ٹھاکرے کا اب مہاراشٹرا کی سیاست میں کوئی وزن باقی نہیں رہا۔ وہاں کے رائے دہندوں نے ان کی پارٹی کو مسترد کر دیا۔ اب وہ بی جے پی کے ترجمان بن کر اپنی سیاسی دکان چمکانا چاہتے ہیں ، اسی لئے انہیں اذان کے مسئلہ پر کچھ بولنے کا موقعہ دیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا میں اس وقت شیو سینا کے ادھو ٹھاکرے کی زیر قیادت مہا وکاس اکھاڑی حکومت ہے۔ این سی پی اور کانگریس اس مخلوط حکومت کا حصہ ہیں۔    
 مہا وکاس اکھاڑی حکومت میں این سی پی اور کانگریس شریک ہونے کی وجہ سے ادھوٹھاکرے کی شیوسینا من مانی نہیں کرسکتی۔ ادھو ٹھاکرے کے تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے انہوں نے اپنے والد بال ٹھاکرے سے سیاسی وراثت تو حاصل کرلی لیکن ان کے سیاسی خیالات اور نظریات بال ٹھاکرے سے مختلف ہیں۔ اس کی ایک وجہ خود بی جے پی ہے ۔ جو یہ نہیں چاہتی کہ ملک گیر سطح پر میں شیوسینا اپنی ایک الگ شناخت بنائے۔ یہی وجہ ہے ادھوٹھاکرے نے کئی دہوں پر مشتمل بی جے پی سے اپنی دوستی ختم کر دی اور این سی پی اور کانگریس کے ساتھ مل کر مہاراشتر میںحکومت بنالی۔ ممبئی جو ملک کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے وہاں نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لئے مہاراشٹرا حکومت فکرمند ہے۔ اسی لئے وہاں اب پہلے جیسی صورتحال نہیں دیکھی جا رہی ہے۔  منافر عناصر حالات کو بگاڑنے کی کوشش میں لگی ہوئے ہیں، اسی لئے راج ٹھاکرے کو اپنا پیادہ بناکر اُتار رہی ہے۔ ملک کی مرکزی حکومت ،مہاوکاس اکھاڑی حکومت کو گِرانے کی تدبیریں کرتی رہی ہے۔ گز شتہ دنوں مخلوط حکومت کے وزیر اور این سی پی کے لیڈر نواب ملک کو مختلف الزامات لگا کر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اسی طرح چند دن پہلے شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت کے اثاثے ضبط کر لئے گئے۔ یہ سب مبینہ طور پر انتقامی کاروائیاں ہیں تا کہ کوئی موجودہ مرکزی حکومت کے خلاف آواز نہ اٹھائے۔ بہار کے کہنہ مشق سیاست دان لالو پر ساد یا دو کے ساتھ جو کچھ کیا جارہا ہے یہ بھی اسی کی ایک مثال ہے۔ مختصر یہ کہ حکومت اپنے خلاف کوئی آواز اٹھتے دیکھنا نہیں چاہتی۔ خاص طور پر یوپی الیکشن میں دوبارہ کا میابی کے بعد اُس کا غرور اور تکبر اپنی انتہا پر پہنچ چکا ہے۔ اس کا مظاہرہ کر تے ہوئے ملک کی اقلیتوں کو اپنے قابو میں لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کرناٹک کے بعد مہاراشٹرا میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا منافر طاقتوں کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ جن مسائل کو چھیڑا جا رہا ہے اس کا تعلق نہ پورے ملک سے ہے اور نہ ملک کی عوام کو اس سے کوئی خاص دلچسپی ہے۔ مسلم لڑکیاں حجاب کے ساتھ اپنی پڑھائی کرتی ہیں تواس سے ملک کی یکجہتی یا اس کی سالمیت کو کیا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی طرح لوگ حلال گوشت کو ترجیح دیتے ہیں تو اس سے کسی کے دھرم کو کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ کسی بھی مذہبی مقام پر تھوڑی دیر کے لئے کوئی مذہبی فریضہ انجام دینے کے لئے لاؤڈاسپیکر کا استعمال ہوتا ہے تو اس سے کس کو تکلیف ہوتی ہے۔ ملک میں اس وقت کئی سنگین مسائل منہ پھاڑے کھڑے ہیں۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے۔ پٹرول فی لیٹر 117 روپئے ہو گیا ۔ عام آدمی کا گزربسر مشکل ہو گیا۔ ملک کی سڑکوں پر خواتین گیس سلنڈر لے کر حکومت کے خلاف مظاہرے کر رہی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے الیکشن کے نتائج آ تے ہی حکومت نے عوام کے جیبوں پرڈاکہ ڈال دیا ہے۔ ان سارے مسائل سے عوام کی توجہ کو ہٹانے کے لئے یہ سارے شوشے چھوڑے جارہے ہیں۔ عوام کی اکثریت بھی کھوکھلے نعرے لگانے کی عادی ہو گئی ہے۔ یہ سمجھا جا رہا تھا کہ کوویڈ کی مہا ماری کے دوران حکومت کی جو نااہلی سامنے آئی اس کا بدلہ عوام لے گی۔ دوسال کس آزمائش میں گزرے اس کا اندازہ ہر اس شخص کوہے جو حالات کا شکار ہوا ہے۔ لیکن اس کے باوجود بی جے پی کا اقتدار پر آنا ایک عجوبہ سے کم نہیں ہے۔ اس لئے طاقت کا نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ حالات کے اس تناظر میں ہندوستانی مسلمانوں کو باریک بینی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حجاب کے مسئلہ میں مسلمان عدلیہ سے رجوع ہو نے کے بجائے گفت و شیند سے مسئلہ کو حل کر لیتے تو بہتر تھا۔ اب کم از کم دیگر حسّاس مو ضوعات پر اس قسم کی جلد بازی سے گریز کرنا حکمت کا تقاضا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلم قیادت چاہے مذہبی ہو کہ سیاسی اپنی بیدار مغزی کا ثبوت دے اور قوم کی صحیح وقت پر صحیح رہنمائی کا فرض انجام دے۔

( رابطہ۔ 9885210770)

ڈاکٹر سید اسلام الدین مجاہد