یو این آئی
نئی دہلی//وزارتِ خزانہ نے ہندوستان سے باہر رہنے والے افراد (پی آر او آئی)اور غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی)کے لیے سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور مستحکم طویل مدتی غیر ملکی سرمایہ کے بہا کو فروغ دینے کے مقصد سے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے وزیرِ خزانہ نرملا سیتارمن نے بجٹ 2026-27 میں اعلان کیا تھا کہ ہندوستان سے باہر رہنے والے افراد (پی آر او آئی)کو پورٹ فولیو سرمایہ کاری اسکیم کے تحت ہندوستانی اسٹاک ایکسچینج میں فہرست شدہ کمپنیوں کے حصص اور سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جائے گی، جو اب تک صرف این آر آئی اور او سی آئی کے لیے دستیاب تھی۔بجٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس اسکیم کے تحت کسی بھی کمپنی میں ایک فرد پی آر او آئی کی سرمایہ کاری کی حد 5 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کر دی جائے گی، جبکہ تمام انفرادی پی آر او آئی سرمایہ کاروں کے لیے مجموعی سرمایہ کاری کی حد موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 24 فیصد کر دی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے آج جاری کردہ بیان کے مطابق ان بجٹ تجاویز پر عمل درآمد کے لیے محکمہ اقتصادی امور (ڈی ای اے)نے غیر ملکی زرِ مبادلہ انتظام (غیر قرض جاتی آلات)تیسری ترمیم قواعد، 2026 کو نوٹیفائی کر دیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے ذریعے این آر آئی اور او سی آئی سرمایہ کاروں کے لیے پہلے سے موجود آن بورڈنگ نظاموں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کے زیادہ موثر حصول کو ممکن بنایا جائے گا۔سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں(ایف پی آئی)کی شرکت بڑھانے کے لیے حکومت نے مکمل طور پر قابلِ رسائی راستہ (ایف اے آر) کے تحت شامل سیکیورٹیز کی فہرست میں توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس میں 15، 30 اور 40 سالہ مدت والی نئی سرکاری سیکیورٹیز کے اجرا کے ساتھ ساتھ ایف اے آر کے لیے اہل خودمختار گرین بانڈز بھی شامل کیے جائیں گے۔اس کے علاوہ جنرل روٹ کے تحت ایف پی آئی سرمایہ کاری کے حوالے سے حکومت نے سرکاری سیکیورٹیز میں غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں پر عائد تین پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں قلیل مدتی سرمایہ کاری کی حد، ارتکاز کی حد اور ہر سیکیورٹی کے لحاظ سے سرمایہ کاری کی حد شامل ہیںتاہم، مرکزی حکومت کی سیکیورٹیز کے بقایا اسٹاک میں 6 فیصد اور ریاستی حکومت کی سیکیورٹیز (ایس جی ایس) میں 2 فیصد کی مجموعی مقداری سرمایہ کاری کی حد برقرار رکھی جائے گی۔