غُصَّہ۔وقتی پاگل پن یا ایک مہلک بیماری ؟

افتخار احمد قادری
غصہ اور غضب کرنا انسان کی فطرت ہے، لیکن اس کی انسانی نہیں حیوانی خصوصیت ہے جبکہ شرف انسانیت اس کو قابو میں رکھنا ہے۔ غصہ کا ظہور اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی مرضی کے خلاف کوئی عمل سامنے آتا ہے،وہ جس درجہ انسان کو ناگوار ہوگا اور جس درجہ اس کی خواہش نفس کے خلاف ہوگا، غصہ بھی اسی شدت کے ساتھ ہوگا۔ درحقیقت غصہ انسان کی اپنی عظمت،انا اور کبریائی کا اظہار ہے،جو شرعاً قطعاً حرام اور معصیت ہے۔ غصے کے معاملے میں بھی انسانی طبائع جدا گانہ ہیں ۔بعض لوگ گھر میں شیر ہوتے ہیں اور بیوی بچوں اور گھر والوں پر سخت غصہ کرتے ہیں جب کہ گھر سے باہردوستوں میں انہیں کبھی غصہ نہیں آتا،آتا ہے تو وہ اسے ضبط کر لیتے ہیںاور دوسروں کو اس کا احساس بھی نہیں ہوپاتا، جبکہ بعض لوگ اس کے برعکس گھر میں بالکل غصہ نہیں کرتے اور گھر سے باہر انہیں بہت غصہ آتا ہے اور بعض لوگ ایسے ہیں جن پر ہر وقت غصہ سوار رہتا ہے۔ یہ سب سے زیادہ بدخلق اور بد مزاج سمجھے جاتے ہیں۔ عام طور سے غصہ انسان کو اپنی انا عظمت و کبریائی کے احساس سے آتا ہے۔ اس کی انا،اپنے ارادہ و خواہش نفس کی مخالفت برداشت نہیں کر پاتی،اس کی قوت برداشت مغلوب ہو جاتی ہے اور وہ غضب ناک ہو جاتاہے۔اس کے نتیجے میں اس سے ایسے ایسے افعال واقوال کا صدور ہوتا ہے جو خود اس کی ذات کے لئے اور دوسروں کے لئے سخت ضرر رساں،اذیت ناک اور رُسواکُن ہوتے ہیں اور نہایت بُرے نتائج سامنے آتے ہیں۔ غصہ کی انجام جذبہ انتقام ہے، جس کے نتیجے میں اکثر قتل بھی واقع ہوجاتے ہیں اور املاک تباہ ہوجاتے ہیں۔

غصہ ایک ایسے تغیر اور کیفیت کا نام ہے، جو خون میں شدت حرارت یا التہاب ناری سے پیدا ہوتی ہے۔ غصہ کرنے کا مقصد تو یہ ہوتا ہے کہ اس ذریعے سے وہ اپنی عظمت و انا کا اظہار کرے اور طمانیت و سکون حاصل کرے۔ لیکن نتیجہ اس کے بالکل برعکس نکلتا ہے،طرح طرح کی اُلجھنیں بڑھ جاتی ہیںاور نئ نئ سخت مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ،اگر غور کیا جائے تو غصہ کے نقصانات بے اندازہ ہیں۔

غصہ کے مضر اثرات: غصہ کی حالت میں اعضاب میں سخت تناؤ پیدا ہوجاتا ہے۔ بظاہر جسمانی قوت بڑھ جاتی ہے لیکن قوت عقل مضمحل اور مختل ہوجاتی ہے ،سوچنے سمجھنے کی قوت مفلوج ہو جاتی ہے۔غصہ انسان کے سکون و اطمینان کو غارت کردیتا ہے۔ سانس چڑھ جاتا ہے،جسم کانپنے لگتا ہے،معدہ کا نظام ہضم خراب ہوجاتا ہے،دل میں ہیجانی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ غصہ ٹھنڈا ہونے کے بعد ایک قسم کی گھبراہٹ اور ضعف کا احساس ہوتا ہے، بھوک بھی غائب ہو جاتی ہے۔غصہ کی حالت میں قبول حق کی صلاحیت باقی نہیں رہتی اور فہم و فراست کا فقدان ہوجاتا ہے۔غصہ کی حالت میں کبھی کبھی خون کا جوش اس قدر شدید ہو جاتا ہے کہ دماغی رگیں پھٹ جاتی ہے اور موت واقع ہوجاتی ہے۔غصہ کرنے والا جہاں دوسروں کی عزت و آبرو کو پامال کرتا ہے، خود اپنی عزت و آبرو اور احترام کو غارت کرلیتا ہے۔غصہ کرنے والے کو لوگ نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ہمیشہ اس سے بچے رہنے کی کوشش کرتے ہیں۔غصہ اور غیض و غضب باہمی نزع،سر پھٹول اور قتل و خون کا بڑا سبب ہے، اکثر جنگیں غیظ و غضب کے نتیجے میں ہوتی ہیں۔غصہ اور غضب قاطع محبت ہے،اتحاد کو غارت کرتا ہے ،باہمی نفرت پیدا کرتا ہے۔غصہ کی حالت میں نہ وکیل بحث کرسکتا ہے،نہ جج فیصلہ دے سکتا ہے یعنی صحیح فیصلہ نہ اُستاد پڑھا سکتا ہے نہ شاگرد پڑھ سکتا ہے۔غصہ نماز، روزہ اور حج اور جملہ عبادات کا دشمن ہے، غصہ کی حالت میں کوئی عبادت قبول نہیں۔غصہ کی حالت میں بیہودگی،لغوگوئی  اور طعنہ زنی پیدا ہوتی ہے جو شرافت نفس اور حسن اخلاق کو ضائع کرتی ہے۔جس پر غصہ کیا جائے، اُسے سخت ایذا پہنچتی ہے اور ایذائے مسلم حرام اور رب العزت کی ناراضگی کا سبب ہے۔غصہ دعا کی قبولیت کا دشمن ہے اور غصہ کرنے والا عند اللہ معتوب اور قابلِ مواخذہ ہے۔غصہ کے مہلک و مضر اثرات و نتائج جب سامنے آتے ہیں تو بجز ندامت و شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ غصہ بڑی مہلک بیماری ہے اور اس کے نتائج بڑے خطرناک ہیں ۔اکثر طلاقیں اور زن و شوہر میں جدائی اِسی غصہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور تمام گھریلو جھگڑے اس غصہ کو قابو میں نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ غصہ پر سکون اور خوشگوار زندگی کو تباہ کردیتا ہے، اسی لئے حدیث شریف میں غصہ کرنے سے بتاکید منع فرمایا گیا ہے۔ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم! مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا، غصہ نہ کرو۔ اُس نے پھر یہی سوال کیا: آپؐ نے پھر یہی جواب عنایت فرمایا ،غصہ نہ کرو۔ اس نے تین بار سوال کیا ہر بار آپ کا یہی جواب تھا کہ غصہ نہ کرو۔ آپ کا غصہ نہ کرنے پر زور دینے سے معلوم ہوا کہ غصہ کس درجہ مہلک اور تباہ کن ہے۔ رسول اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان کی تخلیق آگ سے ہوتی ہے، آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا جب تمہیں غصہ آئے تو وضو کرو، ( غصہ ٹھنڈا پڑ جائے گا)

حدیثِ پاک میں غصہ پر قابو حاصل کرنے کے لئے بڑی سہل اور موثر تدبیر بتلائی گئی ہے۔ حضرت ابو ذر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہیں غصہ آئے اگر تم کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ ،پھر بھی غصہ ٹھنڈا نہ ہو تو چت لیٹ جاؤ( اس ترکیب سے غصہ ٹھنڈا ہوجائے گا)۔

آپؐ نے فرمایا:زورآور پہلوان وہ نہیں جو منو ںبوجھ اُٹھالے ،حقیقت میں پہلوان وہ ہے جو غصہ کے وقت اپنے آپ کو قابو میں رکھے یعنی وہ زبردست قوت برداشت رکھتاہے۔ حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے، جسے غصہ بہت دیر میں آئے، پھر فوراً ہی ختم ہو جائے اور بدترین شخص وہ ہے جسے غصہ فوراً آجائے اور لمبی مدت تک رہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ غضب سے بچو، کیونکہ قلب انسان پر بھڑکتی ہوئی ایک چنگاری ہے، کیا نہیں دیکھتے کہ بحالت غضب و غصہ گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہوجاتی ہے۔

قرآن کریم میں رب تبارک وتعالیٰ نے ان لوگوں کی تعریف کی اور پسند فرمایا جو غصہ کو پی جاتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں۔ فرمایا:ولکاظمین الغیظ والعافین عن الناس،اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے:اذا ما غضابو اھم یغفرون،جب وہ غضب ناک ہوتے ہیں تو معاف کر دیتے ہیں یعنی ایسے لوگ جو غصہ کرکے فوری طور پر معاف کر دیتے ہیں اور کوئی انتقامی کارروائی نہیں کرتے، لائق ستائش ہیں اور عند اللہ اجر پائیں گے۔

ایک حدیث میں حضور پاک علیہ السلام فرماتے ہیں:جو غصہ کو پی جائے کہ وہ انتقام لے سکتاتھا اور تحمل و برداشت و عفو و درگزر سے کام لے، اللّٰہ تعالیٰ اُسےقیامت کے دن اختیار عطا فرمائے گا کہ حوران بہشت میں جس کو چاہے پسند کرلے۔

غرض اللّٰہ تعالیٰ جل و علا اور اس کے محبوب پاک علیہ السلام نے غصہ کرنے سے منع فرمایا ہے اور غصہ پر قابو پانے کی نہ صرف ترغیب دی ہے بلکہ اس پر قابو پانے کی تدبیر بھی بیان فرمادی اور غصہ پر قابو رکھنے والوں اور معاف کرنے والوں کی تعریف کی ہے۔ اس لئے ہر ممکن طریقے سے ہمیں غصہ سے بچنا اور دور رہنا چاہیے۔ اللّٰہ رب العزت مجھے اور تمام مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے کہ ہم غصہ نہ کریں اور پورے طریقے سے غصہ کو قابو میں رکھیں۔ اے اللّٰہ عزومجل وعلا اور اس کے رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ماننے والوں اللّٰہ سے ڈرو اور غصہ کرنا چھوڑ دو اور دیکھو کہ اس غصہ نے قوم کو کیسے تباہ کردیا ہے۔ اس غصے کی بدولت گھروں میں جھگڑے اور نااتفاقیاں ہیں۔خاندانوں میں جھگڑے ہیں ،بھائی بھائی میں جھگڑے ہیں،گلی گلی کوچے کوچے میں لڑائیاں ہیں،مدارس میں،دارالعوم میں،یونیورسیٹیوں میں،تعلیمی اداروں میں،علم دیں رکھنے والے علماء میں،مدرسین،معلمین اور طلباء میں جھگڑے ہیں،خانقاہیں بھی بچی ہوئی نہیں ہیں۔ اسی غصہ پر کنٹرول نہ کرنے سے پوری قوم تباہی اور ہلاکت کے گڈھے میں گر گئی ہے۔ آپس کی خیر خواہی ختم ہو گئی ہے۔اتحاد درہم برہم ہو گیا۔ ایک دوسرے کی عزت و آبرو اور جان ومال کا کوئی احترام نہیں، بےدریغ جان ومال اور املاک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔غصہ ناک پر رکھا ہے، کسی قیمت پر غصے کو ضبط نہیں کرتے۔مسلمانو! اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہاری فلاح و بہبود صرف اللّٰہ و رسولؐ کی فرمانبرداری اور اطاعت گذاری میں ہے۔ اگر تم نے ضبط و تحمل سے کام نہ لیا اور تم یوں ہی لڑتے رہے اور غصہ کرتے رہے،تو تم مزید قعر مذلت میں گرتے رہو گے۔

[email protected]

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔