سرینگر // جموں وکشمیر حکام گذشتہ 10برسوںکے دوران کستوربا گاندھی بالکہ ودھیالہ (کے جی بی وی) سکولوں کی صرف 20 فیصدعمارتیں ہی مکمل ہوئی ہیں، اور قریب47 سکولی عمارتیں ابھی بھی کرایہ کے کمروں میں چل رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ ان سکولوں کیلئے عملہ بھی دستیاب نہیں ہے بلکہ دیگر سکولوں سے عملے کو تعینات کیا جارہا ہے۔جو سکول چل رہے ہیں وہ بچیوں کو معیاری تعلیم تو دے رہے ہیں لیکن بہتر سہولیات کے فقدان کے نتیجے میں بچیوں کو کافی دقتیں آتی ہیں کیونکہ کرایہ کے کمروں میں درکارسہولیات میسر نہیں ہیں ۔معلوم رہے کہ بچیوں کو تعلیم دینے کیلئے بنائی گئی سکیم کو اگست 2004 میں حکومت ہند نے متعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد اسے سرو سکشا ابھیان سکیم میں ضم کیا گیا۔ اس سکیم کا مقصد پسماندہ، اقلیتی طبقہ جات اور غریبی کی سطح سے نیچے زندگیاں گزر بسر کرنے والی بچیوں کو بہتر تعلیم دیناہے اور گذشتہ10 برسوں سے انہیں تعلیم دی بھی جا رہی ہے۔ سال2009میں اس سکیم کے تحت پسماندہ اور غریب لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی غرض سے کے جی بی وی سکولوں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا گیا جس کیلئے مرکزی وزارت برائے انسانی وسائل (ایم ایچ آر ڈی) نے اسکولوں کی تعمیر کیلئے فنڈس مختص رکھے۔ کئی جگہوں پر پہلے حکام کو زمین ہی میسر نہیں ہوئی اور جب زمین میسر ہوئی تو فنڈس کا رونا رویا گیا۔ اب سکولوں کی تعمیر کا کام انتہائی سست رفتاری سے جاری ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جموں وکشمیر میں ابھی تک صرف 20فیصد عمارتوں کی تعمیر مکمل کی جا چکی ہے اور باقی سکول ابھی تک کرایہ کے کمروں میں چل رہے ہیں ۔ ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ جموں وکشمیر میں کل ایسے89سکولوں کی تعمیر کو منظوری ملی تھی جس میں 54 سکول کشمیر صوبہ کیلئے اور 35جموں صوبہ کیلئے تھے ۔ بچیوں کیلئے مخصوص سکولوں کیساتھ ہوسٹلوں کی تعمیر بھی کی جارہی ہے جن میں6200بچیوں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ صرف 16کے جی بی وی سکول ابھی تک اپنی عمارات میں چل رہے ہیں جبکہ 47کرایہ کے کمروں میں ہیں، جبکہ 25 سکول سرکاری عمارات میں رکھے گئے ہیں ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ فی الوقت اننت ناگ میں 8،بانڈی پورہ میں 4،بارہمولہ میں 10، بڈگام میں 8،ڈوڈہ میں 5،گاندربل میں 3،کٹھوعہ میں 4، کشتواڑ میں 5،کولگام میں 3،کپوارہ میں 10،پونچھ میں 5،پلوامہ میں5،راجوری میں 5،رام بن میں 4،ریاسی میں 2،شوپیاں میں 1،سرینگر میں 2اور اودھمپور میں 2 سکول کام کررہے ہیں ۔کستوربا گاندھی بالکیہ ودھیالہ دو اقسام کے ہیں۔ ایک ماڈل فسٹ اور دوسرا ماڈل سکینڈ ۔ماڈل فسٹ 100بیڈ کا ہوسٹل ہے ،جبکہ ماڈل سیکنڈ 50بیڈ کاہے ۔اس سکیم کے تحت چل رہے سکولوں میں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں بچیوںکیلئے صرف رات کو رہنے کیلئے جگہ میسر رکھی گئی ہے بلکہ انہیں مفت کھانا اور دیگر ضروریات زندگی کی چیزیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایسے سکولوں میں اپنا کوئی عملہ دستیاب نہیں ، سکول کیلئے الگ وارڈن، اساتذہ اور دیگر عملہ تعینات کرنے میں برسوں گزر گئے لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے دس برسوں کے دوران مرکزی سرکار نے تین سکیموں کے نام بدل دئے ، پہلے سرو شکشھا ابھیان ، اس کے بعد رمسا اور اب سمگر شکشھا ابھیان متعارف کیا گیا ہے۔