عید الاضحی۔ دین حق کی آبروایثار ہے فہم وفراست

بشارت بشیرؔ
حج بیت اللہ ہو یا عید قربان دونوں کی نسبت سیدنا ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے ہے۔ گو اس کا اصل پس منظرسیدنا ابراہیمؑ کا اپنے نور ِ نگاہ سیدنا اسماعیل ؑ کو ذبح کرنے کا واقعہ ہے۔ لیکن حق تو یہ ہے کہ جناب براہیمؑ کی ساری حیات ِ مبارکہ ہی اس یوم عظیم کے پس منظر کا مقام رکھتی ہے۔ قدم قدم اور ڈگر ڈگر پر اُن کے ایثار وقربانیوں کی ایک تاریخ ہے ایک کا نقطہ ٔ عروج ذبیحہ کا واقعہ ہے۔ ہر مسلمان کے لئے لازم ہے کہ وہ سیرت ابراہیمی کا کامل طور مطالعہ کرے، ایسا کرکے اُس پر یہ حقیقت واشگاف ہوگی کہ ایک بت پرست معاشرے میں اللہ کے خلیل ؑ نے آنکھ کھولی اور پھر شعور کے مرحلے پر آکر اُسے بت پرستی میں محو پایا پھراس کی حقیقت کو بیان کیا اور اس سے کامل طور بیزاری کا اظہار کیا۔ یہاں تک کہ جب اللہ کو پالیا تو اُسی کے ہوکے رہ گئے ۔ انہوں نے مبارک جاں ہتھیلی پر رکھ کے ایک اکیلے اللہ کی عظمت کے گن گائے اور مفادات کے اسیر ہو کر ہوائوں کے رُخ پر بہنے کی روش اپنائی نہ حصول ماہ وجاہ کے لئے کتمان حق کیا، اللہ نے اُنہیں جس دانش وفہم کی دولت سے نوازا تھا اُس کا اُنہوں نے خوب خوب استعمال کیا ، ستاروں چاند اور نجوم کو ایک ایک کرکے ڈوبنے پر پکار اُٹھے کہ میںڈوبنے والوں سے محبت نہیں کرتا۔ لمحہ ٔ فکریہ یہاں یہ ہے کہ ابراہیم ؑ نے یہاں اندھی تقلید سے کام نہیں لیا کہ معاشرہ صدیوں سے اسی ڈگر پر جارہا ہے ۔روایات اسی نوع کی ہیں اور رسوم ورواج کے بندھن میں معاشرہ بندھ چکا ہے۔ اس لئے میں نے ہی کیا حق نوائی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ اپنے کو خطرات کے نذر کروں ۔مصائب کا شکار بنوں، احباب واقارب سے الگ ہوجائوں ٗ باپ کے غیض وغضب کا شکار ہوجائوں ،وہ کسی عصبیت سے زیر نہیں ہوئے بلکہ ڈنکے کی چوٹ حق بیانی کی، ایسے کی کہ سارا معاشرہ سیخ پا ہوا ،یہاں بات اصل میںکہنے کی یہ ہے کہ سیدنا ابراہیمؑ نے سوچ پر تالے نہیں ڈالے بلکہ غور وتدبر سے کام لیا اور انسان جتنا بھی کائنات ارضی پر غور کرتا جائے گا ۔اُس پر اُس قدر حق واضح اور واشگاف ہوتا جائے گا۔ قرآن نے تلاش حق میںابراہیم ؑ کی دانش وفہم کا ذکر خوب فرمایا ہے اور ’’ ہم اسی طرح ابراہیم کو زمین وآسمان کا نظام سلطنت دکھایا کرتے تھے تاکہ وہ یقین کرنے والوں میںسے ہوجائے‘‘۔اور یہی وہ نظام سلطنت ہے جو ہر شخص کے سامنے ہے۔ عقل ودانش کا درست استعمال ہو توخالق پر لمحہ بہ لمحہ ایمان مستحکم ہوگااور توحید زندگی کی سب سے بڑی متاع محسوس ہوگی۔ شرک سے نفرت اور بیزاری مزاج بن کے رہے گی۔ ابراہیم علیہ السلام نے یہ جو ببانگ دھل اعلان فرمایا کہ ’’ میںنے یکسو ہوکر اپنا رُخ اس ہستی کی جانب کیا جس نے زمین وآسمان کو پیدا کیا ‘‘۔(الانعام) تو اخلاص سے لبریز یہ صدائے حق اُس کے اندروں کا پتہ دیتی ہے کہ کامیابی جس بھی نوع کی مطلوب ہواُس میں شخصیت کا رُخ واضح نظر آنا چاہیے کہ کس جانب ہے۔ اس نعرئہ حق سے یہ بات نکھر کر سامنے آئی کہ مزاج کردار اور اعمال میں بتدریج تبدیلی آتی ہے۔ سب سے پہلے شخصیت کے رُخ کا تعین ہو۔ اصل میںاسلام کو سمجھنے کے بعد یہ آیت ہر شخص کے سامنے رہے تاکہ کوئی ابلیسی وسوسہ ،کوئی نفسانی خواہش، کوئی آبائی رسم ورواج ، کوئی توہمات کا سلسلہ بندئہ مؤمن کو راہ راست سے ہٹانے میںکامیاب نہ ہو ۔ اور قومیں پوری طرح حنیف بن کر جادئہ حق پر گامزن رہیں۔سیدنا ابراہیمؑ نے اپنے مولا سے محبت اور وفا کی جو مثالیں قائم کیں ٗ خودوفا ومحبت کی اصطلاحیں اُس پر عش عش کرتی نظر آرہی ہیں، کون سی محبت ہے دنیا کی جو آپ ؑ نے راہ حق میں تج نہیں دی۔ والد سے فاصلے پیدا کئے، سماج کے ساتھ تعلقات کو اسی محبت کی بنیاد پر قربان کیا، جس وطن میں پلے بڑھے اُس کو خیر باد کہنے میںذرا بھی دیر نہیں لگادی ، چہیتی اہلیہ اور معصوم بچے کو بے آب وگیاہ ریگستان میں یکہ وتنہا چھوڑدیا ٗ دھکتی آگ میں ڈالے گئے اور ہر مرحلہ جان گسل سے گذرتے ہوئے بزبان حال گویا ہوئے کہ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا، مولا سے محبت کی یہ لازوال داستان قیام قیامت تک راہ رواں راہ حق کوصبر وثبات کا درس فراہم کرتی رہے گی، پھر اپنے لخت جگر کو قربان کرنے کا حکم خواب میںکیا پایا کہ ساری زندگی کی دعائوں کے اس ثمر کے مبارک گلے پر چھری بھی ہنسی خوشی ایسے چلائی کہ وحی ربانی کو یہ کہنا پڑا بس ابراہیم ؑبس! تو نے توخواب سچ کرکے دکھایا ۔یوں تا ابد معبود کے ساتھ اپنی وارفتگی اور محبت کا اس شان سے اظہار فرمایا کہ فلک پیر ابھی تک حیران اور زمین ششدر نظر آرہے ہیں۔ عرض کر چکا کہ قربانی کون سی ہے جو نہیں دی لیکن اپنے وطن میںاُس وقت جب اُس کے خاندان کا ڈنکا بج رہا تھا،اُس کا والد اس ریاست کا سب سے بڑا پجاری تھا ۔قوم ومعاشرہ میںاُسے ’’مقام بلند‘‘ حاصل تھا۔جہاں سے گذرتا ہر شخص کھڑا نظر آتا ۔ یوں سمجھئے وہ بڑا گدی نشین تھا ۔ اس ماحول میں ابراہیم ؑ کا آواز حق بلند کرنا کیا یہ باور کرانے کے لئے کافی نہیں تھا کہ وہ کس طرح عیش ونشاط کو لات ماررہے ہیں اور آج کی اصطلاح میں کہیے تو یوں کہیے کہ چمکتے دمکتے کیرئیرکو ٹھکرا رہے ہیں۔ آخر وہی تو اپنے باپ کی گدی اور مال ومنال کا وارث تھا ۔اُسے کیا نہیں ملتا لیکن اُس نے رُخ کا تعین کرلیا اور پھر راہ حق پر ایسے جمے رہے کہ اللہ نے سند اعزاز دیا کہ ’’ابراہیم ؑ نے وفا کی‘‘  بھلا بتایئے کہ اس انعام وکمال سے بڑھ کو بھی کیا بندے کو کوئی سوغات دی جاسکتی ہے قطعی نہیں ،واقعی وہ حنیفاً مسلماً کی عملی تفسیر تھے ٗ قربانی کا ہر نیا مطالبہ ابراہیمؑ کے اندر ایک نیا جوش اور خوشگوار ولولہ پیدا کئے دیتا رہایہاںتک کہ آتش نمرود میںکودنے کا مرحلہ کیا آیا۔ تو لمحہ بھر کے لئے بھی نہیں سوچا کہ آگ جلا بھی سکتی ہے اور بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے نکلے تو ساعت بھر کے لئے بھی نہیں خیال آیاکہ بیٹا موت کی آغوش میں جائے گا تو کیا ہوگا۔قربانیوں کے جتنے مطالبات ہوئے تو کبھی سبب دریافت کیا اور نہ علت پوچھ لی۔ اور پھر ان ساری قربانیوں پر کوئی فخر و مباہات بھی نہیں ،ساری زندگی راہ حق میں آبلہ پائی کے بعد جب تعمیر کعبہ کا مبارک کام انجام دے کر اختتام کو پہنچایا تو باپ بیٹے کی زبان پر بس ایک صدا اور ایک دعا رہتی ہمارے رب اسے قبول فرما ۔(البقرۃ) یہی وہ انکساری ہے جو بندے کو رفعت وشان عطا کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔
قارئین کرام !آج مسلمانان عالم ہر گوشہ زمین میںعید قربان بھی منانے کو ہیں اور حج بیت اللہ کی ادائیگی بھی ہورہی ہے۔تو آئیے غور کریں کہ اس کے لئے 10؍ذوالحجہ کا ہی انتخاب کیوں؟اصل میں یوم عرفہ (9ذوالحجہ ) حج کی افضل ترین عبادت ہے ۔عرفات کے وقوف کے سوا حج کی تکمیل ہی نہیں ہوتی، یوں کہیے کہ سارے اعمال کئے اگر یہاں کا وقوف ہاتھ نہیں آیا تو محروم ہی رہا، یہ چھوٹ گیا کوئی تلافی کوئی فدیہ اور کوئی بدل نہیں یہ عظمت ورفعت اس دن کے لئے مخصوص کیوں ؟ اصل میں یہی وہ مبارک یوم تھا اور مقدس ساعتیں جب دین کی کاملیت کا اعلان یہ کہہ کر ہوا کہ ’’ آج میں نے تمہارے دین کو مکمل کیا اور اپنی نعمت کا تم پر اتمام کیا اور تمہارے لئے اسلام کو ایک دین کے طور پر پسند کیا۔(سورہ المائدہ) کیسا دین اور اس کی کیا شان ہے یوں سمجھئے کہ ایک یہودی نے حضرت عمر ؓ سے کہا کہ یہ آیت ہم پر نازل ہوتی تو ہم اسے عید کا دن بناتے تو سیدنا عمرؓ نے جو جواب دیا وہ بھی کیا خوب تھا فرمایا کہ ’’ہم تو پہلے سے ہی اسے یوم عید کے طور پر مناتے ہیں پس ابراہیمؑ کی سیرت مبارکہ اور اس آیت کا پیغام دونوں جب ملتے ہیں تو عید کی حیثیت کا تعین ہوتا ہے ،گویا دین پر قائم رہنے اور اس کی ترویج کے لئے کیا کیاجا ئے۔ اس کے لئے سیرت ابراہیمی سے روشنی حاصل کرنی ہوگی۔ سیدنا ابراہیمؑ نے قربانی کے تمام مراحل طے کرلئے تو اللہ نے ’’امام الناس‘‘ کے اعزاز سے سرفراز کیا۔(البقرۃ) جب سیدنا ابراہیمؑ نے سوال کیا کہ کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے تو جواب ملا کہ میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ،گویا یہ جوامامت وقیادت ہے یہ منصب میراث میں نہیں ملے گا، نسل ونسب میں منتقل نہیں ہوگا وہ صرف اعمال واخلاص سے وابستہ ہے ۔ اُسی کردار سے وابستہ ہے کہ جسے ابراہیمؑ ، موسیٰ ؑ اور سیدنا محمد رسول اللہؐ نے اختیار کیا تھا ۔یہ کوئی لیبل نہیں کہ براہیمی ٗموسوسی ٗ عیسوی اور محمدیؐ کی نسبت کا چسپاں کیا جائے تو سند کامرانی مل جائے گی، نہیں ، ایسی بات قطعاً نہیں ۔ بات پھر آکر یہاں ہی رُکی کہ یہ اُس کردار کے ساتھ وابستہ ہے جسے اللہ کے ان عظیم المرتبت فرستادوں نے اختیار کیا تھا ۔قرآن نے دو مرتبہ کہا ’’ جوکچھ اُنہوں نے کیا وہ اُن کے لئے تھا اور جو کچھ تم کروگے وہ تمہارے لئے ہے تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے  تھے‘‘۔ غرض حسب ونسب یا کسی بھی نیک وزاہد وعابد سے خالی وابستگی کا ہونا قطعاً وجہ نجات نہیں بن پائے گا۔ جب تک مؤمن ومسلم اپنی ساری زندگی کو یکسوئی کے ساتھ اللہ کے اطاعت میںنہیں لگادے گا۔مختصر یہ کہ اللہ کی رضا کے حصول کے لئے بندہ ہر آن آمادہ و تیار رہے۔قربانی کے جانوروں پر ہم بڑے جوش وجذبے کے ساتھ چھری تو چلاتے ہیں لیکن اپنے نفس کی اُن خواہشات کو بھی کیا ہم ذبح کرتے ہیں، جو ہمیں مولا سے دور کرنے پر اکساتی ہیں ٗ اپنی اَنا کو بھی کیا ہم قربان کردیتے ہیں،کہیں ہمارے ذہن و دل کے کسی خانہ میںغرور وتکبر بسا تو نہیں ہے، انانیت کے خول میںبند اپنی آخرت کی تباہی کا باعث کہیں بن تو نہیں رہے ہیں۔ اپنی ذت کو ہی عقل کل سمجھ کر اللہ کی مخلوق کو ہم کہیں بہ نظر تحقیر تو نہیںدیکھ رہے ہیں، انصاف وعدل کا دامن ہم سے کہیں چھوٹ نہیں رہا ہے ٗ رعونت ونخوت ٗ جہالت وکساوت قلبی کے ہم کہیں شکار تو نہیں ہیں ٗکہیں ہم تقویٰ سے تہی دامن ہوکر محض رسمی طور قربانی تو نہیں کررہے ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا ہی ہے تو پھر اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہوسکتا ہے، خود اور دنیا والوں کی نگاہوں میںہم قربانی تو دے گئے لیکن اللہ کے اس فرمان کی روشنی میں دیکھ لیں کہ کیا ہم مراد پاگئے۔’’ اللہ کو نہ خون پہنچتا ہےاور نہ گوشت اسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت ابراہیمی کو سمجھنے اور ساری انسانیت کے لئے شجرسایہ دار بننے کی توفیق رفیق عطا کرے ۔آمین
(رابطہ۔7006055300)