عظمیٰ نیوز سروس
جموں//نیشنل کانفرنس نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے نائب صدر عمر عبداللہ کو کل جموں کی رہائش گاہ میں خانہ نظربند کرکے اْنہیں سندربنی کالاکوٹ میں پارٹی کنونشن میں شمولیت اختیار کرنے روکا گیا، اْن کے گیٹ پر تالا چڑھایا گیا تھا اور پولیس حکام و انتظامیہ نے انہیں راجوری جانے کی اجازت نہیں دی ۔دریں اثناء شیر کشمیر بھون جموں میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ’’اگر حکومت سمجھتی ہے کہ میں اکیلا ہی جموں وکشمیر کے حالات بگاڑ سکتا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت بہت کمزور ہے۔
پہاڑیوں کو ایس ٹی درجہ دینے سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں این سی نائب صدر نے کہا کہ ’’ہماری حکومتوں کے دوران پہاڑیوں کیساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہوا، میں نے اپنی حکومت کے دوران پہاڑیوں کو 4فیصد ریزرویشن دینے کیلئے اسمبلی میں بل پاس کروایا اورگورنر سے اْس کی منظوری دلائی، اس پر عملدآمد کرنے کی کوشش کی لیکن یہ الگ بات ہے کہ ہم الیکشن ہار گئے اور اس کے بعد جو نئی مخلوط حکومت آئی اس نے سارے عمل کو ختم کردیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی اگر دیکھا جائے تو پہاڑیوں کو ایس ٹی سٹیٹس دینے کی مانگ بھی ڈاکٹر فاروق عبداللہ صاحب کی حکومت نے کی تھی۔جب اندرا گاندھی حکومت کے دوران گوجر بکروالوں کو ایس ٹی سٹیٹس دیا گیا اْس وقت نیشنل کانفرنس حکومت نے پہاڑیوں کیلئے بھی ریزویشن کی مانگ کی تھی اور مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ اگر جموں وکشمیر میں حکومتی سطح پر مطالبہ کیا جاتا ہے تو اسے پورا کیا جائے، تو بنا وقت ضائع کئے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کابینہ کا اجلاس بلایا اور 24گھنٹے کے اندر وزیر اعظم ہند کو سفارشات بھیجی گئیں۔ ‘عمرعبداللہ نے کہا کہ ’’ہم آج بھی مرکزی حکومت اور ایل جی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ گوجر بکروال طبقہ کو اعتماد میںلیکر اْن کو سمجھائے کہ اْن کے حقوق کو آپ کیسے محفوظ رکھیںگے تاکہ اْن کے خدشات اور تحفظات دور ہوجائیں۔‘‘انڈیا الائنس میں سیٹ شیئرنگ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہاکہ کانگریس سیٹ شیئرنگ پر بات کرنے کیلئے تیار ہے ، ہم اْن سیٹوں پر ضرور بات کریں گے جو انڈیا الائنس کے پاس نہیں ہیں، جو سیٹیں پہلے ہی انڈیا الائنس کے پاس ہے اْن پر بات کرنے کا کیا فائدہ ہے۔