عمران ملک آئی پی ایل میں اپنی خطرناک تیزگیندبازی سے سبھی کو متاثر کررہے ہیں

 ممبئی/کمنٹری باکس میں سائمن ڈول نے کہا، “وہ وقت آ گیا ہے ، سبھی ناظرین جس کاسن رائزرس حیدرآباد کے ہر میچ میں بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔رفتار کے سوداگر عمران ملک گیندبازی کے لئے آگئے ہیں۔عمران کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ نکولس پورن نے گیند کو سر کے اوپر کلیکٹ کیا اور مسکرانے لگے ۔ کیون پیٹرسن بھی کمنٹری میں جوش میں آکر کہہ رہے تھے ۔ ان کے اگلے الفاظ تھے ، ” یہاں رفتار ہے اور اچھال بھی ۔” میتھیو ہیڈن نے مزید کہا، ” 146 کی رفتار چلے گی یا اور بڑھائیں؟ اس پر ڈول کا ردعمل تھا ، ‘‘ یہ تو وارم اپ ہے ۔ ’’ عمران کے پہلے باونسر نے اس میچ میں نیا جوش بھر دیا تھا۔ تاہم مارکو یانسن نے اپنے پہلے ہی اوور میں رائل چیلنجرز بنگلور کے دھاگے کھول دیئے تھے ۔ کچھ ہی وقت میں، یانسن دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلر بن سکتے ہیں۔ ان کی رفتار اچھی ہے اور اپنے قد کا بہترین استعمال کرتے ہوئے گیند کو بائیں ہاتھ کے زاویے اور سیم کروا لیتے ہیں۔عمران کی رفتار اس کھیل میں توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے ۔کئی گیندباز 90 میل یا 145 فی گھنٹے کی رفتار سے گیندبازی کرتے ہیں۔ عمران اس سے بھی زیادہ تیز ہیں اور تقریباً لاکی فرگیوسن کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس زمرے میں زیادہ کھلاڑی نہیں ملتے ۔ ہیڈن نے ان کا موازنہ وقار یونس سے کیا تو ڈول نے حارث روف کا نام لیا۔عابد نبی 2000 کی دہائی میں جموں و کشمیر کے ایک اچھے تیز گیند باز تھے ۔ انہوں نے رنجی ٹرافی میں 100 سے زائد وکٹیں لیں لیکن انڈین کرکٹ لیگ کے علاوہ کسی بھی اچھے لیول پر نہیں کھیلے ۔عمران کی بات الگ ہے ۔ ان کی رفتار بہت زیادہ ہے ۔عمران مارک ووڈ کی طرح مسلسل تیز گیند بازی کرتے ہیں۔ ان کی سست گیندوں کو بھی ‘سلو گیند’ نہیں کہا جاتا۔ مستقل رفتار کا سامنا کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے ۔ان کی رفتار کی کہانی پردے پر آتی ہے ۔ سب سے سست گیند 138.6 ہے اور اوسطاً145 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے ۔ ان کے آئی پی ایل کیریئر کے کچھ اعدادوشمار یہ ہیں۔ 120 سے نیچے کی رفتار 1.4فیصد، 120 اور 129 کے درمیان بھی 1.4فیصد، 130 اور 139 کے درمیان 6.4فیصداور 140 سے زیادہ 90.8فیصد گیندیں ۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ سلوور گیند ڈالتے ہی نہیں اور ان کی سست گیندیں بھی 130 سے [؟][؟]زیادہ کی رفتار سے آتی ہیں۔ ان کی رفتار میں تھوڑی سی گراوٹ تقریباً ہر 10 گیندوں میں ایک بار آتی ہے ۔ وکٹ کے پیچھے کیچ کی اپیل کو ڈی آر ایس نے مسترد کر دیا لیکن عمران کے تیسرے اوور کے اختتام پر ہرش کہتے ہیں، “12ویں اوور میں دو سلپ۔ واہ۔” چوتھے اوور میں 151، 148، 151، 141 اور 147 کی رفتار دیکھ کر 77 فیصد لوگوں نے عمران کے حق میں ووٹ دیا۔ جب جوش ہیزل ووڈ گیند کی لائن سے ہٹنے لگے تو پیٹرسن نے کہنا شروع کیا کہ شاید اس رفتار میں سمت اور لمبائی کی اہمیت کم ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد شان ٹیٹ، مشل جانسن اور شعیب اختر کا نام زیر بحث ہے ۔ اس وقت یانسن گیندبازی پر تھے جنہوں نے فاف ڈو پلیسس، وراٹ کوہلی اور انوج راوت کو ایک ہی اوور میں پویلین بھیج دیا۔ ٹی نٹراجن نے بھی اچھی گیند بازی کی اور جگدیش سچیت نے بھی دو وکٹیں حاصل کیں۔ اننگز کے وقفے پر انٹرویو میں اسٹین کو یانسن سے پہلے عمران کے بارے میں پوچھا گیا۔ اس کے بعد بھی پیٹرسن ٹی وی شو میں عمران کی تعریف کرتے رہے ۔ بنگلورو نے صرف 68 رنز بنائے لیکن ایک وکٹ لینے والے گیند باز ان کی توجہ مبذول کرواتے رہے ۔ کچھ حد تک اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک نوجوان ہندوستانی تیز گیند باز ہیں لیکن زیادہ تر وجہ یہ رہی ہے کہ وہ نوجوان ہیں اور بہت تیزگیندباز۔(یواین آئی)