اسلام آباد //پاکستان تحریک انصاف نے تصدیق کی ہے کہ ان کی جماعت نے وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب میں سربراہان مملکت کو مدعو کرنے کے لئے دفتر خارجہ سے بات کی ہے۔ نئے وزیر اعظم کی حلف برداری کی تقریب 11 اگست کو متوقع ہے۔فواد چوہدری نے بتایا کہ تحریک انصاف نے دفتر خارجہ سے غیر ملکی اعلیٰ عہدیدار جن میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں کو تقریب کے لیے مدعو کیے جانے کے امکانات پر رائے طلب کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت دفتر خارجہ کے جواب کی منتظر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت نے عامر خان، کپیل دیو، سنیل گواسکر سمیت کئی نامور شخصیات کو بھی دعوت نامے بھیج دیئے ہیں۔دوسری جانب ذرائع کا کہنا تھا کہ عالمی شخصیات کو مدعو کرنے کے لئے شیریں مزاری اور شفقت محمود کا سیکریٹری خارجہ سے مشاورتی عمل شروع ہوچکا ہے۔ملاقات کے دوران دفتر خارجہ کی جانب سے رائے دی گئی کہ سربراہان کو وزیراعظم کی حلف برداری میں بلانا حساس معاملہ ہے اور اس معاملے پر تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا جائے گا۔پی ٹی آئی کی جانب سے خواہش کا اظہار کیا گیا تھا کہ چین، ترکی اور بھارت سمیت سارک ممالک کے سربراہان کو حلف برداری میں بلانا چاہتے ہیں جس پر دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ نریندر مودی کو مدعو نہ کیا گیا تو بھارت سارک کے دیگر ممالک کو بھی شرکت نہیں کرنے دے گا۔دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اگر بھارتی وزیراعظم کو مدعو کیا گیا تو انکار کی صورت میں پاکستان کو ہزیمت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ مشاورتی عمل میں سارک ممالک کو مدعو نہ کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔