بلال فرقانی
سرینگر // عالمی یوم آبادی کے موقع پر دنیا جہاں انسانی ترقی اور وسائل کی پائیداری پر غور کر رہی ہے، وہیں جموں و کشمیر آبادی میں اضافے، بڑھتی بے روزگاری، ماحولیاتی زوال اور زرعی بحران جیسے بیک وقت چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ اس وقت آبادی صرف ایک عددی مسئلہ نہیں بلکہ روزگار، ماحول، قدرتی وسائل اور خوراکی سلامتی کیلئے ایک دباوبنتی جا رہی ہے۔جموں و کشمیر کی کل آبادی میں 70 فیصد سے زائد 35 سال سے کم عمر نوجوان شامل ہیں۔ یہ خطہ جہاں نوجوانوں سے بھرپور ہے، وہیں ان کیلئے روزگار کے دروازے محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری پورٹل پر رجسٹرڈ بے روزگار نوجوانوں کی تعداد 3.70 لاکھ سے بڑھ چکی ہے، جن میں 1.13 لاکھ گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ شامل ہیں۔ موجودہ بے روزگاری کی شرح 17.4 فیصد ہے جو کہ قومی اوسط 10.2 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔ شہری خواتین میں بے روزگاری کی شرح 28.6 فیصد ہے، جو معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک خطرناک اشارہ ہے۔جموں و کشمیر میں آبادی میں اضافے کا سب سے شدید اثر زرعی زمینوں اور زراعت پر پڑا ہے۔ 1981 میں جہاں ریاست کی مجموعی اراضی کا تقریباً 90 فیصد زرعی استعمال میں تھا، وہیں اب یہ شرح گھٹ کر محض 27 فیصد رہ گئی ہے۔ زمین کی تقسیم، غیر منصوبہ بند تعمیرات، اور بڑھتی آبادی کی رہائشی ضروریات کے باعث قابلِ کاشت زمین تیزی سے گھٹ رہی ہے۔زرعی شعبہ جو کبھی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تھا، اب کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں ہر سال اوسطاً 1,500 ہیکٹر زرعی زمین رہائشی کالونیوں یا دیگر غیر زرعی استعمال میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ فی ہیکٹر پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے — جہاں 2012 میں فی ہیکٹر دھان کی پیداوار 2.2 ٹن تھی، وہ اب گھٹ کر 1.7 ٹن تک رہ گئی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں، آبی قلت، اور کیمیائی کھادوں کے غیر سائنسی استعمال نے مٹی کی زرخیزی کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔2011 سے 2021 کے درمیان جموں و کشمیر میں ویٹ لینڈز (آبی ذخائر) کے رقبے میں 57 فیصد کمی آئی ہے۔ 3,91,501 ہیکٹر سے گھٹ کر یہ صرف 1,64,110 ہیکٹر رہ گیا ہے۔ انسانی مداخلت، زمین پر قبضے، اور غیرقانونی تعمیرات اس کمی کی بڑی وجہ ہیں۔ وزارتِ شماریات کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2018 کے درمیان مزید 2372 کنال آبی ذخائر ختم ہوئے۔انسداد تجاوزات مہم کے دوران 2020 سے 2025 تک تقریباً 6 لاکھ درختوں کو کاٹا گیا، خاص طور پر جہلم اور اس کی معاون ندیوں کے کناروں پر۔ اگرچہ یہ اقدام تجاوزات کے خاتمے کے لیے اٹھایا گیا، مگر اس سے ماحولیاتی توازن بری طرح متاثر ہوا، زمین کے کٹاو? اور سیلاب کے خطرات میں اضافہ ہوا۔ درختوں کی کٹائی نے زرعی زمینوں کے ارد گرد حفاظتی سبز پٹی کو بھی ختم کر دیا ہے، جو پہلے موسمیاتی جھٹکوں سے بچاو کا ذریعہ ہوتی تھی۔موسمیاتی تبدیلی نے نہ صرف شہری زندگی کو متاثر کیا بلکہ زراعت کو بھی شدید دھچکا دیا ہے۔ جولائی کے پہلے ہفتے میں سرینگر میں درجہ حرارت 37.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو کہ تاریخی طور پر غیر معمولی ہے۔ ایسے درجہ حرارت پر چاول، مکئی اور سبزیوں کی فصلیں بْری طرح متاثر ہوتی ہیں۔ “اربن ہیٹ آئی لینڈ” کا رجحان زرعی زمینوں کے گرد درجہ حرارت کو مزید بڑھا دیتا ہے، جس کے باعث فصلوں کا دورانیہ کم ہو رہا ہے اور پانی کی طلب بڑھ رہی ہے۔آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوا ہے، جبکہ آبی ذخائر کی گرتی ہوئی سطح نے زرعی نظام کو شدید متاثر کیا ہے۔ وادی میں کئی علاقوں میں زیر زمین پانی کی سطح میں 3 سے 6 میٹر تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔عالمی یوم آبادی کا پیغام جموں و کشمیر کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ بڑھتی آبادی صرف روزگار کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ زرعی زمینوں کا بحران، ماحولیاتی زوال، پانی کی قلت، اور خوراکی سلامتی جیسے چیلنجز کو جنم دے رہی ہے۔ اس کے لیے مربوط، بین شعبہ جاتی پالیسیوں کی ضرورت ہے جو زرعی تحفظ، ماحولیاتی بحالی، اور روزگار کی فراہمی کو یکساں اہمیت دے۔