کابل // طالبان نے جمعرات کو ملک کے 102 ویں یوم آزادی کے موقع پر 'افغانستان اسلامی امارات کے قیام کا اعلان کیا۔طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر یہ اعلان کیا۔انہوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ "امارات اسلامیہ کا اعلان برطانوی راج سے ملک کی آزادی کی 102 ویں سالگرہ کے موقع پر کیا گیا ہے ۔"طالبان نے اعلان کیا ہے کہ وہ جلد ہی نئی حکومت کے قیام کا اعلان کرے گا اور حکومت کو شریعت کے مطابق چلایا جائے گا۔ساتھ ہی انہوں نے ’افغانستان اسلامی امارات‘ کے جھنڈے اور سرکاری نشان کی تصویر بھی شیئر کی۔بعد ازاں اپنی ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ 'امارات اسلامی تمام ممالک کے ساتھ بہتر سفارتی اور تجارتی تعلقات چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 'ہم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ کسی ملک کے ساتھ تجارت نہیں کریں گے اور اس حوالے سے پھیلائی جانے والی افواہیں جھوٹی ہیں جسے ہم مسترد کرتے ہیں۔ادھرطالبان گروپ کے اہم ترین کمانڈر اور ممکنہ طور پر طالبان کی نئی حکومت میں اہم عہدے پر براجمان ہونے والے وحید اللہ ہاشمی کے مطابق افغانستان میں حکومت کے نفاذ کے لیے مشورے جاری ہیں اور ممکنہ طور پر اس مرتبہ بھی کونسل کی طرح حکومت کو چلایا جائے گا۔ہاشمی کا کہنا تھا کہ اس بات کے کوئی امکانات نہیں ہیں کہ افغانستان میں جمہوریت طرز کی حکومت نافذ کی جائے۔ان کے مطابق افغانستان کو کونسل طرز کی شرعی نظام حکومت کے تحت چلایا جائے گا۔
نیٹو کا اجلاس آج طلب
کابل //طالبان کی جانب سے افغانستان پر مکمل قبضے اور موجودہ صورتِ حال پر گفتگو کے لیے نیٹو کی جانب سے اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔یہ بات نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہی ہے۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل اسٹولٹن برگ کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان کی صورتِ حال پر نیٹو کا اجلاس آج(جمعے کو) ہو گا۔نیٹو کی جانب سے ایک اور بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار سے اب تک کابل ایئرپورٹ کے اندر اور اردگرد 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
بات چیت کے دروازے کھلے ہیں:امریکہ
واشنگٹن://مریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کا کہنا ہے کہ افغان طالبان سے بات چیت کے لیے دروازے کھلے ہیں۔افغانستان کی صورتحال پر امریکی صدر جوبائیڈن کو بریفنگ دینے کے بعد اپنے بیان میں وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا کہ لوگوں کو کابل ائیر پورٹ تک پہنچنے کے لیے طالبان کی چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے، غیر ملکی اور افغان شہری کابل سے فرار ہونے کی کوشش میں ہیں، امریکی فوج کابل ائیر پورٹ تک آنے میں لوگوں کی مدد نہیں کر سکتی۔لائیڈ آسٹن نے کہا کہ امریکی افواج کی توجہ کابل ائیر پورٹ کی سیکیورٹی پر ہے، افغانستان میں صورتحال خطرناک ہے، ہمارا مقصد انخلا مکمل ہونے تک کابل ائیرپورٹ کی سیکیورٹی کو برقرار رکھنا ہے لیکن اس دوران اگر طالبان نے حملہ کیا تو ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکی فوج کے ساتھ کام کرنے والے افغانیوں کو افغانستان سے بحفاظت باہر نکالیں گے۔دوسری جانب صدر جوبائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا کو افغانستان سے اتحادیوں کو نکالنے میں کچھ مشکلات ہیں، جنہوں نے افغانستان میں امریکا کی مدد کی، ان کے انخلا سے متعلق مشکلات ہیں، طالبان امریکیوں اور دیگر غیر ملکیوں کے کابل سے انخلا میں تعاون کر رہے ہیں۔