محمد تسکین
بانہال//پہاڑی ضلع رام بن میں محکمہ صحت کی صورتحال انتہائی تشویشناک شکل اختیار کر چکی ہے جہاں سرکاری ہسپتالوں اور بنیادی طبی مراکز میں ڈاکٹروں، ماہرین اور نیم طبی عملے کی شدید قلت کے باعث طبی نظام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ طبی سہولیات کی کمی کا سب سے زیادہ خمیازہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جنہیں معمولی سے پیچیدہ علاج تک کیلئے جموں یا وادی کشمیر کے بڑے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ضلع بھر میں محکمہ صحت کیلئے مجموعی طور پر 678 آسامیاں منظور شدہ ہیں، مگر ان میں سے صرف 373 پر تقرری ہو سکی ہے جبکہ 305 آسامیاں بدستور خالی پڑی ہیں۔ اس طرح تقریباً 45 فیصد آسامیوں کا خالی رہنا نہ صرف انتظامی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔جموں–سرینگر قومی شاہراہ پر واقع بٹوٹ، رام بن اور بانہال کے ہسپتال خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ یہ علاقے سڑک حادثات کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ ماضی میں اس شاہراہ پر پیش آنے والے حادثات میں سینکڑوں افراد جان گنوا چکے ہیں، مگر اس کے باوجود یہاں قائم طبی مراکز افرادی قوت کی شدید کمی سے دوچار ہیں۔
ضلع ہسپتال رام بن میں ماہر ڈاکٹروں کی شدید قلت پائی جاتی ہے۔ یہاں 35 گزیٹڈ آسامیوں میں سے 15 خالی ہیں، جن میں بی گریڈ سرجن، ڈرماٹولوجسٹ، ریڈیالوجسٹ اور آفتھلمولوجسٹ جیسے اہم شعبوں کے ماہرین شامل ہیں۔ اسی طرح 18 میڈیکل آفیسرز میں سے پانچ آسامیاں بھی خالی ہیں، جس کے باعث خصوصی علاج کی سہولیات محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔تقریباً دو دہائی قبل ایمرجنسی خدمات کو بہتر بنانے کیلئے قائم کیا گیا ٹراما سینٹر رامبن آج تک مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکا۔ اس مرکز کیلئے منظور 14 ڈاکٹروں میں سے 10 آسامیاں خالی ہیں۔ اینستھیزیا، گائناکالوجی، پیڈیاٹرکس، آرتھوپیڈکس اور ریڈیالوجی کے ماہرین نہ ہونے کے سبب حادثات کی صورت میں تمام بوجھ ضلع ہسپتال پر منتقل ہو جاتا ہے اور ٹراما سینٹر کا بنیادی مقصد پورا نہیں ہو پا رہا۔بانہال، رامسو اور گول سب ڈویژنوں کی دو لاکھ سے زائد آبادی سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بانہال پر انحصار کرتی ہے۔ یہاں ڈاکٹروں کی 18 آسامیوں میں سے چار خالی ہیں جن میں ریڈیالوجسٹ، پیڈیاٹریشن، اینستھیٹسٹ اور جنرل سرجن شامل ہیں۔ ماہرین کی عدم دستیابی کے باعث متعدد مریضوں کو وادی کشمیر منتقل کرنا پڑتا ہے۔کمیونٹی ہیلتھ سینٹر بٹوٹ اور اس کے ماتحت اداروں میں ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے کی 28 آسامیاں خالی ہیں۔ بٹوٹ ہسپتال میں 13 منظور شدہ ڈاکٹروں میں سے صرف آٹھ تعینات ہیں۔ پرائمری ہیلتھ سینٹر راجگڑھ میں تینوں ڈاکٹروں کی آسامیاں برسوں سے خالی ہیں، جس کے باعث مریضوں کو 25 سے 30 کلومیٹر دور رامبن جانا پڑتا ہے، جو ایمرجنسی حالات میں خطرناک ثابت ہوتا ہے۔ضلع ہیڈکوارٹر سے تقریباً 55 کلومیٹر دور سب ڈسٹرکٹ ہسپتال گول میں 13 میں سے چھ ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں جبکہ نیم طبی عملے کی 35 میں سے 19 پوسٹیں خالی پڑی ہیں۔ جونیئر اسٹاف نرس کی چار میں سے تین آسامیاں بھی خالی ہیں، جس سے ہسپتال کی مجموعی کارکردگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ان حالات کے باعث گول، بٹوٹ، رام بن، اْکڑال، پوگل پرستان، رامسو، نیل، کھڑی، مہو منگت اور بانہال سمیت وسیع پہاڑی علاقوں کے مریضوں کو علاج کیلئے جموں یا کشمیر منتقل ہونا پڑتا ہے، جس سے غریب اور متوسط طبقے پر اضافی مالی اور سفری بوجھ بڑھ رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت کی جانب سے طبی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے دعوے بارہا کئے گئے، مگر زمینی سطح پر صورتحال میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آتی۔ لوگوں نے مطالبہ کیا ہے کہ خالی آسامیوں کو فوری طور پر پْر کیا جائے، ٹراما سینٹر رامبن کو مکمل فعال بنایا جائے اور دور دراز علاقوں میں بنیادی طبی سہولیات یقینی بنائی جائیں تاکہ عوام کو اپنے ہی ضلع میں بہتر علاج میسر آ سکے۔