شہدائے کربلا ؑ

شہادت  انسان کی زندگی کا بہترین معاملہ ہے جو وہ خدا کے ساتھ انجام دیتا ہے ۔حقیقی طورانسان اپنی جان خدا کے پسندیدہ اعلیٰ مقصد کی حصول یابی کے لیے دے دیتاہے اور بدلے میں جنت کا حق دار بنتاہے۔ دین کے حقیقی پیروکار ہی ایسی پاک روح اور ایسے پاکیزہ جذبٔ ایثار کے مالک ہوتے ہیں ۔وہ راہِ اسلام میں اپنی جان کی قربانی دینے سے کبھی نہیں کتراتے ۔ عاشورہ کے واقعہ میں امام حسینؑ کے باوفا ساتھیوںنے کربلا کے میدان میں اسی بلند مقصد کو پانے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ خوشی خوشی پیش کیا ۔ان کے امام و سرپرست اور رہنماخود امام حسین ؑ اس کا مثالی نمونہ ہیں۔امام حسینؑ کی ذات گرامی تعارف کی محتاج نہیں ۔ یہ وہ حسین ؑ ؑہیں جنہوں نے سسکتی ہوئی امت  مسلمہ کو صراط مستقیم پر گامزن کرکے جینے کا سلیقہ سکھایا ،اسے عزت ، صداقت،عفت، مروت، عدالت، شجاعت وبصالت کے درس سے  نوازا ۔ یہ وہ حسینؑ ہیں جنہوں نے اپنے پاک ومقدس خون سے اسلام کی آبیاری کی اور اس کو تمام بدعتوں ،شبہات، خرافات ،اور توہمات واستحصال کی جھاڑ جھنکاڑ سے پاک کیا ۔یہ وہ حسینؑ ہیں جنہوں نے ہمیں آزادی کا حقیقی اور انقلابی درس دیا ۔یہ وہ حسینؑ ہیں جنہوں نے عالم انسانیت کو ظلم و جبر اور استبدادی قوت کو بے سروسامانی کے باوجود قلع و قمع کر نے کا حوصلہ دیا ،انہوں نے مردہ انسانیت کو آب ِحیات پلا کر زندہ و بیدار کر دیا ۔ آپ ؑ ہی کی بے لوث سربراہی میں شہدائے کربلاؑ نے دنیا کو ایک ایسا روشن چراغ دیا جو قیامت تک لوگوں کی زندگیاں  منور کرتا رہے گا۔
احسان شناس قوم اپنے محسنوںاور شہیدوں کے ایثارو قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرتی ،بلکہ اپنی زندگی کی ہر سانس کو ان کا مرہونِ منّت جانتی ہے۔ اس لئے زندہ قومیںاپنے محسنوں کا تذکرہ ہمیشہ باقی رکھتی ہیں ۔ ہم امام علی مقام ؑکا تذکرہ محرم الحرام کی مناسبت سے ہمیشہ کر تے ہیں کیونکہ آپؑ نے دین حق کو قائم کرنے اور باطل کو مٹانے کی خاطر عظیم ترین کارنامہ انجام دیا ۔ اسلام دشمن طاقتوں نے دین اسلام کو منہدم کرنے کی جو منظم سازش یزید کی شکل میں تیار کی تھی ،امام حسین ؑ نے اپنے قیام سے اس سازش کے سارے تارو پود اپنے ایثار وقربانی  کے بل پر بکھیر دئے۔امام حسینؑ کا تذکرہ ایک صدا ئے حق ا ور ایک آواز ہے جو انسان کو اس حقیقت کا یقین دلاتی رہتی ہے کہ جیت سچائی کی ہے۔
شہدائے کربلا  ؑکی عزہ داری خدا و رسول ؐ سے پیار ،اس کے دشمنوں سے بیزاری او رنبی ؐو اہل بیتؑ سے اظہارِمحبت وعقیدت کا ذریعہ ہے اور ذکر شہدائے کربلا ؑدلوں کو حرارت اور انسان کو حقیقی مجاہد بنا کر باطل سے لڑنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔امام حسینؑ کا قیام حق کی زندگی اور باطل کی موت تھا، لہٰذا جہاں بھی یہ تذکرہ ہوگا ،وہاں حق کی زندگی اور باطل کی موت واقع ہوگی۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکرجیسے اہم  دینی فریضے کا مقصد ہی اچھائیوں کا فروغ اور برائیوں کا خاتمہ ہے ۔اگر ہم امام حسینؑ کی سیرت کا مطالعہ کریں تو ہمیںقدم قدم پر یہ ملے گا کہ امام حسینؑ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لئے قیام کیا، اور عملی طور دکھایا کہ حق سے بڑھ کر کوئی اچھائی نہیں اور باطل سے زیادہ بری کوئی چیز نہیں ۔ اس بنا پر عزہ داریٔ سید الشہدا ء ؑ حق اور اہل حق کی مسلسل حمایت و نصرت اور باطل سے نفرت وبیزاری کا اعلان ہے۔ اس تذکرہ میں اخلاق اور انسانیت کے وہ اعلٰی نمونے نظر آتے ہیں جو سلامی تاریخ میں لامثال ہیں ۔ چونکہ قرآن کریم نے یاد دہانیوں پر کافی زور دیا ہے اور یاد دہانیوں کے بڑے فوائد بتائے ہیں ،اگر ان پر کوئی عمل پیرا نہ بھی ہوا، پھر بھی اس فائدے سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ انسان کے وجود میں اعلیٰ صفات و کردار کے فضائل و مناقب باقی رہتے ہیں اور ان کی تاز گی اور مہک اُسے دعوتِ عمل دیتی رہتی ہے۔
شہدائے کربلا  ؑکے تذکرہ سے نہ صرف کربلا کا واقعہ قلب و ذہن  میںتازہ رہتا ہے بلکہ پوری تاریخ خاص کر تاریخِ اسلام کو نئی تازگی ملتی ہے۔اگر عزہ داری نہ ہوتی تو اسلام کی تاریخ بھی مسخ کی جاچکی ہوتی ۔اس وقت تاریخ اسلام میں ہمیں جو سچے ایمان افروز واقعات گھومتے پھرتے نظر آرہے ہیں، اس میں عزہ داری کا بہت بڑا رول ہے۔ آج جب مسلمان اس المیہ کو پڑ ھتا یا سنتا ہے تو اس کو ظلم اور ظالم دونوں سے نفرت ہوجاتی ہے اور اس طرح کے دلددز واقعات کی سرگزشت یاد کر کے وہ ظلم وتعدی سے خود بھی دامن کش ہوجاتا ہے ۔
جب تک مومن عزہ داری میں لگا رہتا ہے ،وہ بہت سی برائیوں و منکرات سے محفوظ رہتا ہے۔ باطل کے اجتماعات اور گناہ کی محفلوں سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ مختصر سی دوری بھی آج کل کے گئے گزرے دور میں بہت غنیمت ہے ۔اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ مومن کا دل پوری طرح مردہ نہیں ہے، اس میں حیات کے کچھ اثرات ضرور باقی ہیں جو اتنے طاقت ور ہیں کہ وہ مومن کو گناہ کی محفلوں سے نکال باہر  کر کے عزہ داری کی مجلسوں میں والہانہ شرکت پر تیار کر دیتے ہیں ۔ اس تعمیری جذبہ ٔخیر کی مٹی اگر ذرا نم ہوجائے تو انسانی زندگی بڑی زرخیز ثابت ہوگی اور اگر یہ انمول جذبہ مومن کو حرؑ کے کردار کی روشنی میں اپنے قول و فعل کا محاسبہ کرنے پر تیار کر لے تو اس کی زندگی برکات سے مامور ہوجائے گی ۔
شہدائے کربلاؑ کی یاد فقط اس بات تک محدودنہیں کہ اسے منبر وں پر بیان کیا جائے کہ لوگوں کے احساسات ا س سے متاثر ہوں بلکہ یہ حادثہ یزید وقت کے خلاف ایک موثر مومنانہ آواز ہے ۔ یاد کیجئے سیدالشہداء ؑ نے جس مقصد کے لئے قربانی دی وہ مقصد کتنا عظیم تھا؟ اس کے لئے امام حسین ؑ نے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ دجاہت بھی دی، اولاد بھی دئے ، جان عزیز بھی دی ، اقرباء بھی دئے ، معصومین بھی نچھاور کئے، جناب زینب ؑ کی ردا بھی دی، غرض ایک ایک کر کے سب کچھ دیا ۔امام حسین ؑ نے جس اعلیٰ و ارفع مقصد کیلئے یہ بیش قیمت قربانیاں دیں، اسی کی یاد آوری اور تسلسل کا نام عزہ داری ہے۔ اگرچہ عزہ رادی رسم آباء واجداد وبزم شعراء نہیں ہے لیکن ہم نے اس کو رسم و بزم بنا دیا ہے۔ درحقیقت عزہ داری تسلسلِ عاشورا ہے۔ عاشورا رزم کا نام ہے ،کربلا رزم کا نام ہے ، کربلا پیکار کا نام ہے، کربلا ایک جنگ کا نام ہے،کربلا ایک نبرد کا نام ہے۔عزہ داری اسی چیز کا پیغام دیتی ہے کہ آپ دنیامیں رہتے ہوئے ناحق کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں ۔’’کل یوم عاشورا کل ارض کربلا‘‘ کا یہی پیغام ہے۔ امام حسین ؑ کو ہماری ہمدردی نہیں چاہئے ،حسین ؑ کو ہم سے کچھ اور چاہئے،حسین ؑ ہم سے نصرت مانگ رہے ہیں، حسین ؑ ہم سے پیروی مانگ رہے ہیں اور بزبان حال کہہ رہے ہیں کہ میری سیرت اپنائو ۔ جن دوستوں نے کربلا کو رسم و بزم سمجھا ہے، وہ آج بھی رسموں ،رواجوں ، خانقاہوں میں اُلجھے ہوئے ہیں اور جنہوں نے اسے اسلوبِ زندگی سمجھا ،وہ آج بھی وقت کے بتانِ باطل کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔عزہ داری ایک ایسی فکری، رحانی ، ثقافتی اور سیاسی میراث ہے جس سے تمام عالم انسانیت کو فیض یاب ہونا چاہئے۔کربلا ایک اہم واقعہ تھا ،جناب زینب ؑ نے اس کو تحریک بنایا اور ائمہ معصومین ؑ نے اس کو مکتب بنایا۔ اس لئے عزہ داری برپا کرنے سے پہلے ہمیں مقصد کربلا کو سمجھنا چاہئے۔مرثیہ خوانی،نوحہ خوانی،مداح خوانی بامقصد ہونی چاہئے ۔عزہ خانوں میں مقصد کربلا بیان ہونا چاہئے اورامام عالی مقام ؑ کی ایثار پیشہ سیرت کی جگمگاہٹ سے پوری دنیا کو اندھیاروں سے بچانا چاہیے   ؎
کربلا ہے آج بھی ظالم کی ایذاء آج بھی 
چاہئے زمانے کو شبیرؑ کاکردار آج  بھی
