حضرت عمر فاروق مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ تھے۔ ان کے والد کا نام خطاب تھا۔ حضرت عمر ۵۸۳ ء میں مکہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پہلوانی اور شہسواری کے فنون میں مہارت حاصل کی اور پڑھنا لکھنا بھی سیکھا۔ حضرت عمر تجارت کرتے تھے۔ تجارت کے سلسلے میں انہوں میں دور دراز کے سفر کئے اور دولت کمانے کے علاوہ علم تجربہ بھی حاصل کیا۔
حضرت عمر فاروق کی خلافت کی مدت دس برس چھ مہینے اور چار دن ہے۔ ان کے دور خلافت میں اسلامی حکومت بہت وسیع ہوگئی تھی۔ اتنی بڑی حکومت کو سنبھالنےکے لیے انہوں نے ایک باقاعدہ نظام قائم کیا۔ مفتوحہ ملکوں کو صوبوں میں تقسیم کرکے ہر صوبے کے انتظام اور نگرانی کے لیے ایک عامل مقرر کیا۔ بیت المال، عدالت، آبپاشی، فوج اور پولیس کے محکمے قائم کئے۔ جیل خانے بنوائے، شہر آباد کروائے، نہریں کھدوائیں، مہمان خانے تعمیر کروائے، فوجی چھاؤنیاں بنوائیں، مردم شماری کروائی اور جگہ جگہ مکاتب قائم کیے۔ ان کی ہدایت پر صلاح و مشورے کے بعد ہجرت کی تاریخ کو بنیاد بناکر ہجری کیلنڈر کی ابتداء کی گئی۔
حضرت عمر راتوں کو گشت کرکے لوگوں کو حال چال معلوم کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ گشت کرتے ہوئے مدینے سے تین میل دور پہنچے۔ دیکھا کہ ایک عورت کچھ پکا رہی ہے اور دو تین بچے بلک بلک کر رو رہے ہیں۔
حضرت عمر نے سبب پوچھاتو عورت نے بتایا ’’ان کو کئی وقت سے کھانا نہیں ملا ہے، انہیں بہلانے کے لیے میں نے ہانڈی میں پانی اور کنکر ڈال کر چولہے پر چڑھادی ہے۔‘‘حضرت عمر فوراً مدینے آئے، بیت المال سے کھانے پکانے کی چیزیں لیں اور اپنے غلام اسلم سے کہا، ’’اسے میری پیٹھ پر رکھ دو۔‘‘
اسلم نے کہا، ’’میں لیے چلتا ہوں۔‘‘
فرمایا! ’’کیا قیامت میں بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟‘‘ چنانچہ خود ہی سب سامان لے کر پہنچے۔ اب اس عورت نے پکانے کی تیاری کی۔ حضرت عمر نے خود چولہا پھونکا۔ کھانا تیار ہوا تو بچوں نے سیر ہوکر کھایا اور اچھلنے کودنے لگے۔ حضرت عمر دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ عورت کہنے لگی، ’’خلیفہ تو تمہیں ہونا چاہیے تھا نہ کہ عمر کو۔‘‘
حضرت عمر آبدیدہ ہوکر بولے ’’اللہ میری غفلت کو معاف فرمائے۔ میں ہی عمر ہوں۔ تم بھی غفلت کو معاف کردو کہ میں اتنے دن تمہاری حالت سے بے خبر رہا۔‘‘ ایک مرتبہ تاجروں کا ایک تاجروں کا ایک قافلہ مسجدِنبوی کے باہر آکر رکا۔ رات کو امیر المومنین نے عبدالرحمٰن بن عوف کو ساتھ لیا اور کہا’’آؤ آج رات ان تاجروں کے مال کی حفاظت کے لیے پہرہ دیں۔‘‘ چنانچہ دونوں جلیل القدر صحابہ نے رات بھر تاجروں کے مال کی حفاظت کی۔ تاجروں کو علم بھی نہ ہوا کہ امیرالمومنین خود ان کے مالِ تجارت کی نگرانی کررہے ہیں۔ حضرت عمر چاہتے تو اپنے سپاہیوں کو بھی حکم دے سکتے تھے مگر انہوں نے ایسا نہ کرکے دنیا کے حکمرانوں کے لیے ایک مثال قائم کردی۔
ایک صحابی نے حضرت عمر کے دور خلافت کا ایک دلچسپ واقعہ یوں بیان کیا ہے۔ ’’میرے لڑکپن کا زمانہ تھا۔ میں مدینے کے کچھ بچوں کے ساتھ ایک باغ میں کھجوریں چن رہا تھا ۔ اچانک حضرت عمر تشریف لائے۔ بچوں نے ان کو دیکھا تو اِدھر اُدھر بھاگ گئے مگر میں اپنی جگہ جم کر کھڑا رہا۔ میری جھولی میں کھجوریں تھیں۔ حضرت عمر میرے پاس آئے اور پوچھا!
’’کیا تم کھجوریں چُرارہے تھے؟‘‘ میں نے عرض کیا، ’’نہیں جو کھجوریں ہوا اور آندھی سے نیچے گر پڑی تھیں وہ میں نے چُن لی ہیں۔‘‘
کہا! ’’اچھا ، مجھے دکھاؤ۔ میں نے کھجوریں دکھائیں تو دیکھ کر فرمایا، ’’تم نے سچ کہا۔‘‘ باقی لڑکے اپنی کھجوریں اِدھر اُدھر پھینک کر بھاگ گئے تھے۔ میں نے عرض کیا:
’’یاامیرالمومنین ! اگر میں یہاں سے نکلوں گا تو لڑکے چھینا جھپٹی کریںگے۔‘‘ یہ سن کر آپ میرے ساتھ ہولیے اور مجھے گھر تک پہنچا کر رخصت ہوئے۔‘‘ ایک عظیم الشان حکومت کا خلیفہ ہونے کے باوجود حضرت عمر کی زندگی بے انتہا سادہ تھی۔ وہ معمولی لباس پہنتے، بہت ہی سادہ غذا استعمال کرتے اور مسجد کے کسی بھی گوشے میں مٹی کے فرش پر لیٹ جاتے تھے۔ وہ تقویٰ، پرہیز گاری، حق پرستی، راست گوئی اور عدل و انصاف کا پیکر اور اسلامی اخلاق کا بہترین نمونہ تھے۔
ایک مجوسی فیروز ابن لولو نے ۶۴۴ء میں حضرت عمرپر خنجر سے اچانک حملہ کیا۔ زخم اتنا کاری تھا کہ وہ جانبر نہ ہوسکے۔ انہیں حضرت محمدﷺ کے پہلو میں دفن ہونے کا شرف حاصل ہوا۔
۔رابطہ: :9145139913