شورش کاشمیری کی نظر میں مولاناابوالکلام آزاد

سید سرفراز احمد

میرا خیال ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے مولانا ابو الکلام آزاد سے میری عقیدت کا رشتہ استوار ہے اور اس میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی ہے ۔ میں نے راہ نماؤں میں سب سے زیادہ محبت انہی سے کی ہے ۔ قید خانے میں مجھ سے یوسف مہر علی نے پوچھا تھا اگر تمہیں راہ نماؤں میں سے ایک رہنما منتخب کرنے کے لئے کہا جائے اور کتابوں میں سے کوئی ایک کتاب تو تم کس کا انتخاب کرو گے ؟ میں نے ایک لحظہ توقف کے بغیر جواباً کہا تھا راہ نماؤں میں ابوالکلام آزاد اور کتابوں میں “ترجمان القرآن “میری زندگی ان دونوں سے متاثر ہے اور میں نے قلم و زبان کے سیاسی سفرمیں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ انہی کی بدولت ہے کہ مجھے اپنی بست سالہ سیاسی زندگی میں ہر مکتب خیال کے رہنما معیت میں کچھ عرصہ رہنے کا اتفاق ہوا ہے، بعضوں کو میں نےنزدیک سے دیکھا ہے اور بعض کو قریب سے سنا ہے لیکن ابوالکلام سب میں آگے اور سب سے الگ ہیں ۔ان کی بات چیت اتنی شستہ درفتہ ہوتی ہے کہ کوثر و تسنیم کی لہریں نچھاور ہوتی ہیں اور لہجہ اتنا پیارا کہ الفاظ اس کی تاثیر بیان کرنے سے معذورہیں وہ واقعی ابو الکلام ہیں جو کچھ بولتے اور جو کچھ لکھتے ہیں اس سے انسان کا ذہن پرسش کی طرف نہیں بلکہ پرستش کی طرف جاتا ہے، وہ الفاظ کو رشید احمد صدیقی کے الفاظ میں الوہیت کا جامہ پہناتے ہیں ۔حالات سازگار ہوتے تو وہ جمہوریہ ہندوستان کے پہلے صدر ہوتے لیکن اب وہ کوثر و تسنیم کی ایک ایسی لہر ہیں جو گنگ و جمن کی لہروں کے ساتھ بہہ رہی ہے۔ عربوں میں ہوتے تو ابن تمیہ ہوتے ہندوؤں میں ہوتے تو اب تک ان کے بت پُجے ہوتے لیکن وہ مسلمانوں میں تھے اس لئے ان کے حصے میں وہ سب کچھ آیا ہےجس سے علماء امت کی جیبیں لبریز ہیں۔

مسلمانوں میں جتنی گالیاں ابو الکلام کو دی گئی ہیں ،غالباً تاریخ انسانی میں اتنی گالیاں کسی اور کو نہیں ملی ہیں لیکن ان سب معرکوں میں ان کا ایک ہی جواب تھا ۔
میرے بھائی کوئی انسان خواہ وہ کسی درجے ہی میں کیوں نہ ہو، گالی دے کر اپنی عزت میں اضافہ نہیں کر سکتا ہے البتہ احوال کا جو نقشہ آج درپیش ہے آپ انہیں موسمی ہوائیں سمجھئے جو بہر حال گزر جاتی ہیں اور پھر اس کے بعد ایک آہ سرد جو ہونٹوں تک آکر رک جاتی ہے ۔

قامت میانه ، بدن اکہرا ، رنگ سرخ و سپید آنکھیں اس عمر میں بھی آہوان صحرا دیکھ لیں تو چوکڑی بھول جائیں ،نجیب الطرفین ذات سبد، پیشه وزرات، انا کا مجسمہ، بے نیازی کی تصویر ، انجمن آرائیوں سے محترز ، خلوت آرائیوں کا شیدائی ، خطابت میں یگانہ ، صحافت میں منفرد ، سیاست میں یکتا ، عالم متجر، زبردست مجتہد ، حسن چہرہ میں ہو یا آواز میں ، اس کی دل پذیری پر جی جان سے فدا۔
دماغ یورپی ، طبیعت عجمی ، دل عربی ، وجود ہندوستانی مزاج کے اعتبار سے تانا شاہ ، یعنی ان کے قالین پر بال ہو اور وہ ان کو چھو جائے یا آپ کی آواز میں حسن نہ ہو اور آپ الفاظ کی نوک پلک کا خیال کئے بغیر ان کے سامنے بولنے لگیں تو انہیں فوراً نزلہ ہونے لگتا ہے،آپ ان کی ایک آدھ کروٹ ہی سے محسوس کر لیں گے کہ ان کی طبیعت منغص ہو گئی ہے ان کےسامنے بولنا بڑے جی گردے کا کام ہے، وہ بولتے ہیں کہ آبشار کی طرح بہتے ہیں ۔ابو الکلام ابو الکلام نہ ہوتے تو تاج محل ہوتے اور اگر محمل انسانی پیکر میں ڈھل جائے تو وہ ہر گز ہرگز ابو الکلام نہیں ہو سکتا ہے :
آفاق را گردیدہ ام لیکن تو چیزے دیگری
(کتاب چہرے سے ماخوذ)
[email protected]
�������������������