واشنگٹن//شمالی کوریا نے آج کہا کہ امریکہ -جنوبی کوریا فوجی مشقوں کی وجہ سے اس کے پاس جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والے اعلی سطحی مذاکرات ملتوی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں کوریائی ممالک کے بہتر ہونے والے تعلقات کے خلاف ہے ۔جنوبی کوریا کی وزارت اتحادنے کل کہا کہ مذاکرات کا مقصد ان منصوبوں پر توجہ مرتکز کرنا تھا جو 27 اپریل کے کوریا ئی سربراہی اجلاس کے بعد نکل کر سامنے آیا تھا جس میں کوریائی جنگ کا خاتمہ اور 'مکمل جوہری اسلحے کو ختم ' کرنا شامل تھا۔شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی نے امریکہ -جنوبی کوریا فوجی مشقوں کو 'اکساوے ' کی کارروائی بتاتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے پاس بات چیت ملتوی کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ۔شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اْن کی جانب سے بدھ کے روز بیان جاری کیا گیا تھا کہ ’امریکا یک طرفہ طور پر ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی ہتھیار ختم کردے، اب ہمیں امریکا سے بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے‘۔کم جونگ اْن کا بیان میں کہنا تھا کہ’12 جون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے نظر ثانی کرنی پڑے گی‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’شمالی کوریا کو اس ملاقات سے ’بہت امیدیں تھیں‘ لیکن امریکا نے مضحکہ خیز بیانات دے کر ہمیں حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔یواین آئی