شعبہ اردو جموں یونیورسٹی نے مادری زبانوں کاعالمی دن منایا

عظمیٰ نیوز سروس

جموں//شعبہ اردوجموں یونیورسٹی کی طرف سے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقعہ پرکثیراللسانی پروگرام کاانعقادکیاگیاجس میں مقررین مادری زبانوں کی اہمیت سے متعلق خیالات کااظہارکیا۔مقررین نے شرکاء کومادر ی زبانوں کے عالمی دن کی مبارکبادپیش کرتے ہوئے ان کی بقاء کیلئے کام کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔صدر شعبہ اردو جموں یونیورسٹی پروفیسر محمدریاض احمد نے کہاکہ گزشتہ برس زبانوں کے حوالے سے جواعدادوشمارجمع ہوئے ہیں اْن کے مطابق اْردوپوری دْنیامیں بولی جانے والی زبانوں میں دسویں نمبرپرہے اور230 ملین افراداْردوسے وابستگی رکھتے ہیں۔زبانوں کوخطرات کے بارے میں پروفیسرمحمدریاض احمد نے کہاکہ صرف اْردوکے ساتھ ہی نہیں بلکہ دیگرزبانوں کابھی یہ المیہ ہے کہ آج کے دورمیں پڑھے لکھے لوگوں کے بجائے لکھے لکھے لوگوں کی تعدادزیادہ ہے لیکن ہم سب اپنامحاسبہ کرسکتے ہیں کہ گزشتہ سال ہم نے کتنی کتابیں خریدکرپڑھیں۔اس اعتبارسے ہم اْردوکودیکھیں تواس کے قارئین کی تعدادمیں اضافہ ہی ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج سوشل میڈیاکاعہدہے۔بڑے میڈیاہائوسزبھی ڈیجیٹل میں منتقل ہورہے ہیں اوریہ مجبوری بن چکی ہے۔آج ہمیں صبح سویرے ہی پی ڈی ایف کی صورت میں اخبارات مل جاتی ہیں۔موجودہ وقت میں لکھنے والوں کی تعدادمیں اضافہ ہواہے۔برصغیرہندوپاک کی بات کی جائے تویہاں پردوبڑے ادبی میلے یعنی کراچی اورجے پورادبی فیسٹول منعقدہوتے تھے۔اب جشن ریختہ اور جشنِ ادب کااہتمام کیاجاتا ہے۔اس سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ اْردوترقی کی طرف بڑھ رہی ہے اوراس میں نئی نسل لکھنے کی طرف راغب ہوئی ہے۔ان چیزوں کودیکھ کرہم بالکل مایو س نہیں ہیں۔کسی بھی زبان کازندہ رہنااس بات پرمنحصرکرتاہے کہ وہ زبان بول چال اورروزمرہ استعمال میں ہونے والی کتنی ہے۔اْردواورہندی میں روزمرہ میں استعمال ہونے والے الفاظ میں صرف رسم الخط کاہی فرق ہے۔شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹرعبدالرشید منہاس نے کہاکہ مادری زبان کادن منانے کامقصدنوجوان نسل کواپنی ماں بولی کی طرف راغب کرناہے۔انہوں نے کہاکہ ڈوگری۔گوجری .پہاڑی اور اردوبہت ہی میٹھی زبانیں ہیں۔اگرنوجوان نسل اپنی مادری زبان نہیں بولتی ہے یابولنے میں شرم محسوس کرتی ہے تواس میں والدین کاقصورہے۔انہوں نے کہاکہ مادری زبانوں کے جوٹھکیدار بنے ہوئے ہیں ان کے گھروں میں بھی مادری زبان نہیں بولی جاتی۔انہوں نے کہاکہ قول وفعل میں تضادنہیں ہوناچاہیے۔شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹرچمن لال نے والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ان کی مادری زبان میں بات کریں۔انہوں نے کہاکہ مادری زبان ہمار ی پہچان ہوتی ہے اوراس پہچان کوبچاکررکھناہم سب کی ذمہ داری ہے۔اس موقعہ پر شعبہ کے طلبا۔ اسکالرس اورفیکلٹی ممبران نے اپنی مادری زبانوں میں شاعری اور لوک گیت پیش کرکے محفل کی رونق کو دوبالا کیا۔آخرپرشکریہ کی تحریک ڈاکٹرعبدالرشید منہاس نے پیش کی اورتمام سامعین کاشکریہ اداکیا۔اس موقعہ پر فیکلٹی ممبران ڈاکٹر چمن لال۔ڈاکٹرعبدالرشیدمنہاس۔ڈاکٹرجاویداحمدشاہ۔ڈاکٹراعجازاحمداورپرشوتم پال سنگھ بھی موجودتھے۔واضح رہے کہ ہرسال 21 فروری کومادری زبانوں کاعالمی دن منایاجاتاہے۔