شدید عوامی دبائو کے بعدسری لنکاکے وزیر اعظم مستعفی

کولمبو //سری لنکائی افسران کے ذریعہ پیر کو پورے ملک میں کرفیو لگائے جانے کے درمیان وزیر اعظم مہندا راج پکشے نے استعفی دیدیا ہے۔ سرکار حامی گروپوں کے ذریعہ صدر گوٹبایا راج پکشے کے دفتر کے باہر مظاہرین پر حملہ کرنے کے بعد راجدھانی کولمبو میں فوج کے جوانوں کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس حملے میں برسراقتدار پارٹی کے ایک ممبر پارلیمنٹ کی موت ہوگئی اور کم سے کم 78 لوگ زخمی ہوگئے۔ایک پولیس ترجمان نے مقامی میڈیا کے حوالے سے کہا کہ اگلے نوٹس تک فوری اثر سے پورے سری لنکا میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے میں تعاون کیلئے فوج کو مظاہرہ کی جگہوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ شدید مالی اور سیاسی بحران کے بعد عوامی دباو پر وزیر اعظم مہندا راجا پاکسے نے استعفیٰ دے دیا ہے۔  توقع ہے صدر گوتبیا راجا پاکسے پارلیمان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل مشترکہ کابینہ تشکیل دینے کے لیے مدعو کریں گے۔صدر گوتبیا راجا پاکسے وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کے چھوٹے بھائی ہیں اور اسی وجہ سے وہ ملک میں شدید مالی بحران اور پٹرولیم مصنوعات سمیت اشیائے ضرورت کی بے پناہ قلت اور عوامی دباو کے باوجود اپنے بھائی سے استعفیٰ نہیں لے رہے تھے۔وزیراعظم مہندا راجا پاکسے کا استعفیٰ اْس وقت سامنے آیا ہے جب صدر گوتبیا راجا پاکسے نے ایک خصوصی اجلاس میں وزیراعظم سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے مستعفی ہونے کی درخواست کی تھی۔