دمشق// شام کے وسطی علاقے میں واقع ملٹری ایئر بیس پردھماکوں کی ا?وازیں سنی گئی ہیں جبکہ شہریوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں دھویں کے گہرے بادل دیکھے جاسکتے ہیں، تاحال دھماکوں کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔تفصیلات کے مطابق شام میں تعینات انسانی حقوق کے مبصر کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے زیر اہتمام حما ملٹری ایئرپورٹ سے ملحقہ اسلحے اور تیل کے ڈپو میں دھماکے ہوئے ہیں تاہم دھماکوں کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ انسانی حقوق کے مبصر ادارے کے سربراہ رمی عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ کہ دھماکوں میں حکومتی اسلحے او ر تیل کا ذخیرہ نشانہ بنا ہے۔، سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آسمان پر دھویں کے گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ دھماکے درحقیقت اسرائیل کی جانب سے شام میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنا یا گیا ہے، اسرائیل گزشتہ چند ہفتوں میں متعدد بار ایران کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کو شش کرچکا ہے جس سیخطے میں کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔یاد رہے کہ داعش کے خلاف برسرِ پیکار شامی حکومت کے ساتھ ایران شروع دن سیموجو د ہے اور اسلحے اوراپنی افواج سے بشار الاسد کو اپنیملک پر واپس غلبہ حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے۔