ادلب// شامل کے شمال مغربی شہر ادلب میں ایک اسلحے کے ڈپو بمباری سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شامی امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ بمباری میں القاعدہ سے منسلک گروہ حیات التحریر الشام کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔ امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ حملے میں حیات التحریر الشام کے 7 جنگجو اور 4 شہری بھی مارے گئے۔ شامی امدادی تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ ‘ابتدائی معلومات سے یہ کار بم حملہ تھا’۔ خیال رہے ادلب شہر میں حیات التحریر الشام کا قبضہ ہے اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی اسی نام سے متحرک ہے۔ گزشتہ ہفتے ان گروپس نے پورے خطے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کا بیشتر حصہ ادلب پر مشتمل ہے اسی طرح حلب حما کا کچھ علاقہ بھی شامل ہے۔ ادلب اور اس خطے میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی موجودگی بھی ہے۔ رامی عبدالرحمٰن کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ذمہ دار داعش ہے کیونکہ حیات التحریر الشام نے ان کے متعدد کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ قبل ازیں 16 جنوری کو داعش کے خودکش حملے میں کم از کم 4 امریکی فوجیوں سمیت ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ یہ دھماکا اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم شہر منبج کے وسط میں واقع مصروف ریسٹورنٹ کے قریب ہوا، جہاں امریکی فوجی معمول کے گشت پر تھے۔ حملے میں 3 امریکی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد ترکی نے جنگجوئوں کے خلاف فوجی کارروائی کی سربراہی کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹیلی فونک گفتگو میں شام میں جنگجوئوں کو مزید پیچھے دھکیلنے پر اتفاق کیا تھا۔